لوک سبھا انتخابات : تانڈور میں مثالی ضابطہ اخلاق کا نفاذ، گاڑیوں کی تلاشی مہم
9 لاکھ 36 ہزار روپئے ضبط، 50 ہزار سے زائد رقم لے جانے کی اجازت نہیں
وقارآباد/تانڈور : 30۔مارچ
(سحر نیوز ڈاٹ کام)
چیف الیکشن کمشنر، الیکشن کمیشن آف انڈیا ECI# راجیو کمار کی جانب سے 16 مارچ کو ملک میںلوک سبھا کے ان انتخابات کے لیے 19 اپریل سے 1 جون تک 7 مرحلوں میں الگ الگ تواریخ میں ووٹنگ منعقد ہوگی۔ان لوک سبھا انتخابات کے ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان 4 جون کو ہوگا۔ساتھ ہی ملک کی چار ریاستوں آندھراپردیش، ارونا چل پردیش، سکم اور اوڈیشہ (اڑیسہ) اسمبلی انتخابات کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
مرکزی الیکشن کمیشن کی جانب سے لوک سبھا انتخابات کی تواریخ کا اعلان کردئے جانے کے فوری بعد پورے ملک بشمول ریاست تلنگانہ میں مثالی ضابطہ اخلاق Election Code Of Conduct# نافذ ہوگیاہے۔جوکہ انتخابات کاعمل مکمل ہونے تک جاری رہے گا۔جس کے دؤران کسی کو بھی درکار جائز اور قابل قبول دستاویزات کے ساتھ 50 ہزار روپئے سے زائد نقد رقم، بڑے پیمانے پر زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء کی منتقلی کی اجازت نہیں ہوگی ۔
ایسے میں آج وقارآباد ضلع کے تانڈور ٹاؤن میں گاڑیوں کی تلاشی مہم کے دوران پولیس نے 9 لاکھ 36 ہزار روپئے کی نقد رقم ضبط کرلی ہے۔
اس سلسلہ میں ڈی ایس پی تانڈور بالا کرشنا ریڈی نے بتایاکہ سرکل انسپکٹر پولیس تانڈور(اربن)سنتوش کمار قیادت میں پولیس کی جانب سےگاڑیوں کی تلاشی مہم جاری تھی کہ مل ریڈی پلی کے ساکن جیٹور بسواراج کے پاس سے 9 لاکھ 36 ہزار روپئے کی نقد رقم برآمد ہوئی اور اس رقم سے متعلق وہ جائز اور قابل قبول دستاویزات پیش نہیں کرسکے۔لہذا اس رقم کو مثالی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کےپیش نظر پولیس نےضبط کرلیا ہے ضبط شدہ رقم دفتر کلکٹریٹ وقارآباد کے دفتر ٹریژری کو منتقل کر دی گئی۔اس تلاشی مہم میں سرکل انسپکٹر پولیس اربن سنتوش کمار، سب انسپکٹر پولیس تانڈور کاشی ناتھ کے علاوہ دیگر پولیس عملہ شامل تھا۔
یاد رہے کہ 24 مارچ کو بھی کرنکوٹ پولیس (تانڈور رورل)نے گاڑیوں کی تلاشی مہم کےدوران ایک اسکوٹی سے 2 لاکھ 93 ہزار 830 روپئے ضبط کرلیےتھے۔اس وقت سب انسپکٹر پولیس کرنکوٹ وٹھل ریڈی نے بتایا تھاکہ تانڈور کی سی سی آئی کالونی کے ساکن محمد انس تانڈور سے گوتا پور کی جانب آرہےتھےکہ گوتاپور کےقریب گاڑیوں کی تلاشی مہم کے دوران ان کی اسکوٹی سے بناء کسی دستاویزات کے 2 لاکھ 93 ہزار 830 روپئے نقد رقم موجود تھی اور مثالی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کےپیش نظر یہ رقم ضبط کرلی گئی۔بعدازاں ضبط شدہ رقم دفتر کلکٹریٹ وقارآباد میں موجودمحکمہ ٹریژری منتقل کردی گئی۔
ڈی ایس پی تانڈور بالا کرشناریڈی نے کہاہےکہ بناء کسی جائز دستاویزات کے کوئی بھی 50 ہزار روپئے سے زائد نقدرقم اپنےساتھ نہ لے جائیں۔ اگر کسی وجہ سے نقد رقم ساتھ لے جانا لازمی ہو تو اس کے جائز دستاویزات اپنے ساتھ رکھیں۔ورنہ 50 ہزار روپئے سے زائد نقد رقم ضبط کرلی جائے گی۔
” یہ بھی پڑھیں ”

