ملک میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوچکا ہے، اپنے ساتھ 50 ہزار روپئے سے زائد رقم اور زیورات نہ لے جائیں

ملک میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوچکا ہے
اپنے ساتھ 50 ہزار روپئے سے زائد رقم اور زیورات نہ لے جائیں

حیدرآباد : 16۔مارچ
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

الیکشن کمیشن آف انڈیا ECI# کی جانب سے آج 16 مارچ کو لوک سبھا انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیاہے۔چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے آج دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اعلان کیاکہ ملک میں لوک سبھا کے انتخابات کے لیے 19 اپریل سے 1 جون تک 7 مرحلوں میں الگ الگ تواریخ میں ووٹنگ منعقد ہوگی۔اور ان لوک سبھا انتخابات کے ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان 4 جون کو ہوگا۔

چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار کی جانب سے آج لوک سبھا کے انتخابات کا شیڈول جاری کر دئیے جانے کے فوری بعد ملک کی تمام ریاستوں بشمول تلنگانہ،شہروں، ٹاؤنس اور دیہی علاقوں میں انتخابی ضابطہ اخلاق(مثالی ضابطہ اخلاق) Election Code Of Conduct# نافذ ہوگیاہے۔جوکہ انتخابات کاعمل مکمل ہونے تک جاری رہے گا۔

انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کےدؤران سیاسی جماعتوں کی جانب سے رائے دہندوں کو راغب کرنے کی غرض سے نقد رقم، زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء کی منتقلی اورتقسیم کو روکنے کےلیے ریاستی الیکشن کمیشن اور محکمہ پولیس کی جانب سےسخت نظر رکھی جاتی ہے۔اور ایسےکسی بھی اقدام کے خلاف مذکورہ اشیاء کی ضبطی کے علاوہ قانونی کارروائی بھی کی جاتی ہے۔

اس لیے عوام بالخصوص بیوپاری طبقہ کےلیے لازمی ہوگا کہ وہ اپنے ساتھ 50 ہزار روپئے سے زائد رقم اور مقدار سے زائد سونا اور چاندی کے زیورات نہ لے جائیں۔پولیس اور الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کی جانب سے شہروں اور ٹاؤنس کےمختلف مقامات کے علاوہ سفر کے دؤران جگہ جگہ اچانک تمام خانگی گاڑیوں، بسوں اور ٹرینوں میں بڑے پیمانے پر تلاشی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

اگر کسی کو اپنے ساتھ 50 ہزار روپئے سے زائد رقم خریداری یا کسی اور مقصد کےلیے لےجانا ضروری ہو تو لازمی طور پر زائد رقم،زیورات اور دیگر اشیاء کے قابل قبول اور جائز دستاویزات اپنے ساتھ لازمی طور پر رکھیں۔اگر تلاشی مہم کے دؤران رقم،زیورات اورقیمتی اشیا سے متعلق یہ دستاویزات پیش نہیں کیے جاتے ہیں تو یہ اشیاء ضبط کر لی جاتی ہیں۔ جنہیں جائز اور قابل قبول دستاویزات پیش کرتے ہوئے الیکشن کے اختتام کے بعد ہی حاصل کیے جانے کے امکانات ہوتے ہیں۔

ایسے زیادہ تر معاملات میں دیکھا جاتاہے کہ سیاسی افراد سے زیادہ عام لوگ تلاشی مہم کے دؤران مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔زیادہ تر بھولے بھالے عوام/بیوپاریوں کو انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ سے واقفیت نہیں ہوتی یا پھر یہ ذہن نشین نہیں رکھا جاتا اوراپنے ساتھ 50 ہزار روپئے سے زائد رقم لے جاتے ہوئے تلاشی مہم کے دؤران اپنی رقم کی ضبطی سے مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔

وہیں کسی دور دراز مقام پر کسی تقریب میں شرکت کی غرض سےخاندان کےساتھ اپنی گاڑیوں کے ذریعہ سفر کرنے والی خواتین اپنے پاس موجود زیورات کی بڑی مقدار سفر کے دوران چوری یا لوٹ کے خوف سے ان زیورات کوسفری بیاگ میں کپڑوں کے ساتھ باکس میں رکھ دیتی ہیں ایسا کرنے پر بھی پولیس کی جانب سے تلاشی مہم کے دؤران زیورات کی ضبطی یقینی ہے۔

اب جبکہ ماہ رمضان جاری ہے تو اضلاع سے خریدی کی غرض سے عوام اور بیوپاریوں کی بڑی تعداد اپنے ساتھ بڑی رقم لےکر شہروں کا رخ کرتے ہیں ایسے افراد بھی پولیس کی تلاشی مہم کے دؤران جائز اور قابل قبول دستاویزات پیش نہ کرنے پرمشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں۔اس لیے اس جانب دھیان دینا انتہائی ضروری ہے۔اور مختلف طریقوں سے گاڑیوں میں رقم وغیرہ کو چھپا کر لے جانے کی غلطی ہرگز نہ کی جائے۔

اسی طرح انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے دوران ہنگامی حالات میں ہسپتالوں میں ادا کرنے کے لیے لے جائی جانے والی رقم، کالجوں اور اسکولوں کی فیس کی ادائیگی کے لیے لے جائی جانے والی رقم، جائیدادوں کی خرید و فروخت کی رقم، کاروبار، شادیوں اور دیگر تقاریب کے لیے خرید و فروخت کے لیے اپنے پاس موجود نقد رقم کے متعلق ہسپتالوں کی تفصیلات، بینکوں سے نکالی گئی رقم، ان کی رسائد، دیگر جائز وجوہات اور ضروری دستاویزات اپنے ساتھ لازمی طور پر رکھیں۔

 اپنے اپنے مقامات کے ذمہ داران اور نوجوانوں کی ذمہ داری ہےکہ وہ ایسے افراد کو ان تمام باتوں سےواقف کروائیں جو انتخابی ضابطہ اخلاق، تلاشی مہم اور رقم و زیورات کی ضبطی کے واقعات سے واقف نہیں رہتے تاکہ کوئی اس کا شکار ہوکر پریشان نہ ہوں۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں منعقدہ تلنگانہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے موقع پر انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے دؤران گاڑیوں کی تلاشی مہم کے دؤران کروڑہا روپئے کی نقد رقم کے علاوہ زیورات، شراب اور مختلف قیمتی اشیاء ضبط کی گئی تھیں۔اگر رقم لاکھوں روپئے پر مشتمل ہو تو محکمہ انکم ٹیکس کے حوالے کر دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں "

لوک سبھا انتخابات کی تواریخ کا اعلان، 7 مرحلوں میں رائے دہی : چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار کی پریس کانفرنس

 

الیکٹورل بانڈ نمبرز ظاہر نہ کرنے پر سپریم کورٹ کی اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو نوٹس، بی جے پی نےسب سے زیادہ 6,566 کروڑ حاصل کیے

 

تلنگانہ : سابق چیف منسٹر کے سی آر کی دختر و ایم ایل سی کے۔کویتا گرفتار، ای ڈی کی جانب سے دہلی منتقلی کی تیاری

Electioncommissionofindia#
Loksabhaelection2024india#
Electioncodeofconduct#