الیکٹورل بانڈ نمبرز ظاہر نہ کرنے پر سپریم کورٹ کی اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو نوٹس
بی جے پی نےسب سے زیادہ 6,566 کروڑ روپئے حاصل کیے، کیا ہے یہ الیکٹورل بانڈ ؟
نئی دہلی : 15۔مارچ
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)
سپریم کورٹ نے آج جمعہ کو اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کو الیکٹورل بانڈز کے نمبروں کا انکشاف نہ کرنے اور اس طرح اپنے سابقہ فیصلے کی پوری طرح تعمیل نہ کرنے پر جم کر کھنچائی کی ہے۔سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ انتخابی بانڈ نمبر جو عطیہ دہندگان کو وصول کنندگان سے جوڑتے ہیں ظاہر کرنا ہوگا۔
اس بات پر غور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہاکہ ایس بی آئی کی جانب سے فراہم کی گئیں تفصیلات نامکمل ہیں،معزز چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرا چوڑ کی قیادت والی پانچ ججوں کی بنچ نےاس غلطی کی وضاحت کےلیے بینک کو نوٹس جاری کیا اور اس معاملہ کی 18 مارچ بروز پیر سماعت مقرر کی ہے۔ایس بی آئی کے وکیل آج عدالت میں موجود نہیں تھے۔
معزز چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندراچوڑ نےکہاکہ ہم نے کہا تھا کہ الیکٹورل بانڈز کی مکمل تفصیلات مرکزی الیکشن کمیشن کے حوالے کی جائیں لیکن اسٹیٹ بینک آف انڈیانے الیکٹورل بانڈ کے نمبرز ظاہر نہیں کیے ہیں اور ہدایت دی کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو بانڈ نمبرز ظاہر کرنا ہوگا۔
سینئر وکیل کپل سبل نے دوران سماعت نشاندہی کی کہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ ایک مکمل حکم ہےجس میں ایس بی آئی کو انتخابی بانڈز سےمتعلق ان کے پاس دستیاب تمام تفصیلات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ایس بی آئی کی نمائندگی کرتےہوئے جواب دینے کے لیے وقت فراہم کرنے کی درخواست کی۔
چیف جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ نے کہاکہ آئینی بنچ کےفیصلے میں ایس بی آئی سے انتخابی بانڈز اور ان کی پوشیدہ تمام تفصیلات بشمول خریداری کی تاریخ، خریدار کا نام اور خریداری/بھنوانے کی تاریخ مرکزی الیکشن کمیشن کو فراہم کرنے کی ضرورت تھی۔ تاہم ایس بی آئی کی جانب سے داخل کیے گئے انتخابی بانڈز کے منفرد الفا عددی نمبر Unique Alpha Aumeric Aumber# کا انکشاف نہیں کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے آج جوڈیشل رجسٹرار کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس کےسامنے داخل کی گئی دستاویزات کو واپس کرنے سےپہلے اسکین اور ڈیجیٹلائز کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ یہ ترجیحی طور پر 16 مارچ بروز ہفتہ شام 5 بجےتک کیا جائے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکٹورل بانڈز کےخلاف اسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارم ADR# (جس کی رپورٹ کےمطابق مارچ 2018سے جنوری 2024 تک اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی جانب سے 16 ہزار 518 کروڑ روپئے کے الیکٹورل بانڈز فروخت کیے گئے ہیں) کی جانب سے داخل کردہ درخواستوں کی کئی ماہ تک سماعت کے بعد 21 فروری کو ان الیکٹورل بانڈ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کر دی تھی۔اور ایس بی آئی کو حکم دیا تھا کہ الیکٹورل بانڈز فروخت نہ کیے جائیں۔
الیکٹورل بانڈ فروخت کرنے والے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ نے ہدایت دی تھی کہ مارچ 2018 سے جنوری 2024 تک خریدے گئے الیکٹورل بانڈز اور چندہ کے طور پر جن سیاسی جماعتوں کو یہ بانڈز دئیے گئے ان کی مکمل تفصیلات 6 مارچ تک مرکزی الیکشن کمیشن کے حوالے کرے اور الیکشن کمیشن ان تفصیلات کو اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے۔
سپریم کورٹ کے سخت موقف اور احکام کے بعد کل 14 مارچ کی شام دیر گئے مرکزی الیکشن کمیشن نے اپنی ویب سائٹ پر انتخابی بانڈز سے متعلق تفصیلی ڈیٹا شائع کیا ہے جسے اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے حوالے کیے تھا۔
جس کے بعد الیکٹورل بانڈز خریدنے والی کمپنیوں اور بشمول بی جے پی ہزاروں کروڑ روپئے کا چندہ مختلف کمپنیوں کی جانب سے مختلف سیاسی جماعتوں کو دئیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔جس کے بعد کئی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔اور اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ سوشل میڈیا پر یہی مسئلہ شدت کے ساتھ موضوع بحث کا موضوع بن گیا ہے۔اس الیکٹورل بانڈز والے معاملہ کو ملک کا سب سے بڑا اسکام کہا جا رہا ہے۔!!
کل 14 مارچ کی شام الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر الیکٹورل بانڈز کی خریدی کرنے والی کمپنیوں اور ان بانڈز کوسیاسی جماعتوں کو عطیات کی شکل میں دئیے جانے کی تفصیلات تہلکہ مچا رہی ہیں۔جس کے تحت انکشاف ہوا ہے کہ ان الیکٹورل بانڈز کے ذریعہ مختلف کمپنیوں نے
⬅️ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو جملہ 6 ہزار 566 کروڑ روپئے کا چندہ دیا ہے۔
⬅️ انڈین نیشنل کانگریس کو 1 ہزار 123 کروڑ روپئے کا چندہ
⬅️ مغربی بنگال کی ترنمول کانگریس ( ٹی ایم سی) 1 ہزار 93 کروڑ روپئے کا چندہ
⬅️ اڑیسہ کی بیجو جنتادل ( بی جے ڈی )کو 774 کروڑ روپئے کا چندہ
⬅️ تمل ناڈو کی ڈی ایم کے کو 617 کروڑ روپئے کا چندہ
⬅️ تلنگانہ کی بی آر ایس (سابقہ ٹی آر ایس) کو 384 کروڑ روپئے کا چندہ
⬅️ آندھرا پردیش کی وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو 382 کروڑ روپئے کا چندہ دیا گیا ہے۔
ان کے علاوہ سی پی ایم پارٹی کو چھوڑکر دیگر علاقائی جماعتوں کو بھی الیکٹورل بانڈ کے ذریعہ رقم حاصل ہوئی ہے۔
یہاں قابل ذکر بات یہ ہےکہ ایس بی آئی کے ذریعہ”فیوچر گیمنگ اینڈ ہوٹل سرویسس”نے سب سے زیادہ 1 ہزار 368 کروڑ روپئے مالیتی الیکٹورل بانڈ خریدے تھے۔
جبکہ دوسرے نمبر پر حیدرآباد سےتعلق رکھنے والی”میگھا انجنئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر”نے 966 کروڑ روپئے کے الیکٹورل بانڈز خریدے ہیں۔اسی طرح ” ہلدیہ اینرجی ” نے 377 کروڑ روپئے کے،ویندتا لمیٹیڈ نے 398 کروڑ روپئے کے، بھارتی ایئرٹیل نے 246 کروڑ روپئے کے، ایسیل مائننگ نے 224 کروڑ روپئے کے، ویسٹرن یوپی پاور ٹرانسمیشن نے 220 کروڑ روپئے کے، کیونٹر فوڈ پارک انفرا لمیٹیڈ نے 194 کروڑ روپئے کے۔
مدن لال لمیٹیڈ نے 185 کروڑ روپئے کے، ڈی ایل ایف گروپ نے 70 کروڑ روپئے کے، اُٹکل المونیا انٹرنیشنل نے 145.3 کروڑ روپئے کے، جندال پاور اینڈ اسٹیل لمیٹیڈ نے 123 کروڑ روپئے کے، برلا کاربن انڈیا نے 105 کروڑ روپئے کے، رنگتا سنس نے 100 کروڑ روپئے کے، ڈاکٹر ریڈیز لیاب نے 80 کروڑ روپئے کے اور پیرامل انٹر پرائزس گروپ نے 60 کروڑ روپئے کے الیکٹورل بانڈز خریدے جبکہ دیگر کئی کمپنیوں نے بھی کروڑہا روپئے الیکٹورل بانڈز خریدے تھے۔
اب یہ سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ اتنی بڑی مقدار میں رازدارانہ طور پر کروڑہا روپئے کے عطیات دینے والی کمپنیوں کو بی جے پی حکومت کے علاوہ جن علاقائی جماعتوں نے چندہ لیا ہے انہوں نے کس طریقہ سے ان کمپنیوں کو فائدہ پہنچاتے ہوئے ان کی مدد کی۔؟

ہزاروں کروڑ روپئے کے الیکٹورل بانڈز خرید کرسیاسی جماعتوں کو چندہ کے طور پر دئیےجانےکے بعد نیشنل میڈیا کی خاموشی پر بھی سوشل میڈیا پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ وہ اس پربحث کیوں نہیں کی جارہی؟۔وہیں الیکٹورل بانڈز کےحقائق سامنے آنے کےبعد مختلف میمز اور تصاویر کی سوشل میڈیا پر باڑھ آئی ہوئی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا جارہا ہے کہ الیکٹورل بانڈز کی شکل میں چندہ دینے والی ٹاپ 30 کمپنیوں میں سے 14 کمپنیاں ایسی ہیں جن پر ایجنسیوں نے دھاوے منظم کیے تھے۔!!
21 فروری کو صادر کیے گئے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے ریمارک کیا تھا کہ آر ٹی آئی قواعدکے تحت اور ایک رائے دہندہ کے طور پر اس ملک کے عوام کو یہ جاننے کا مکمل حق حاصل ہے کہ کس کمپنی نے الیکٹورل بانڈز خریدے اور کن سیاسی پارٹیوں کو چندہ کی شکل میں دئیے۔ تاہم 5 مارچ کو اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے اچانک سپریم کورٹ میں ایک درخواست داخل کرتےہوئے کہاتھاکہ ان تمام تفصیلات کو یکجا کرنے اور الیکشن کمیشن کو فراہم کرنے کے لیے اس کو 30 جون تک کا وقت دیا جائے۔
ایس بی آئی نے یہ عذر پیش کیاتھاکہ ملک کے 40 شہروں کے ایس بی آئی برانچس کے ذریعہ یہ الیکٹورل بانڈز فروخت کیے گئے تھے اور اس کی تفصیلات ممبئی ہیڈ آفس میں موجود نہیں ہیں اور ان کا کمپیوٹر ڈیٹا بھی درج نہیں کیا گیاہے۔تاہم سپریم کورٹ نے 11 مارچ کو ایس بی آئی کی اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئےحکم دیا تھا کہ 24 گھنٹے میں سپریم کورٹ کےسابقہ فیصلہ کےتحت 12 مارچ کو ایس بی آئی الیکٹورل بانڈز کی مکمل تفصیلات مرکزی الیکشن کمیشن کےحوالے کرے۔اور الیکشن کمیشن 15 مارچ تک اس کی مکمل تفصیلات اپنی ویب سائٹ پرشائع کردے۔
” یہ بھی پڑھیں "

