ریاستی خبریں / قومی خبریںتانڈور کے محمد معز نیپال میں منعقدہ شوٹنگ بال مقابلوں میں ہندوستان کی نمائندگی کرینگے 05/04/202605/04/2026 - by سحر نیوز اُسے گماں ہے کہ میری اڑان کچھ کم ہے مجھے یقیں ہے کہ یہ آسمان کچھ کم ہے! تانڈور کے محمد معز نیپال میں منعقدہ شوٹنگ بال مقابلوں میں ہندوستان کی نمائندگی کرینگے حیدرآباد/تانڈور:4۔اپریل (سحرنیوزڈاٹ کام) تانڈور ٹاؤن کے نوجوان محمد معز نے قومی سطح پر شوٹنگ بال مقابلہ کے لیے منتخب ہوکر ملک اور قوم، ریاست تلنگانہ اور وقارآباد ضلع کیساتھ ساتھ تانڈور کا نام بھی اونچائی تک پہنچا دیا ہے۔! شوٹنگ بال کے کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کے بل پر قومی سطح کے مقابلوں کے ٹورنمنٹ کے لیے منتخب محمد معز 7 تا 9 اپریل نیپال کے کھٹمنڈو میں منعقد ہونے والے "انڈو۔نیپال انٹرنیشنل شوٹنگ بال سیریز۔2026” مقابلوں میں ہندوستان کی نمائندگی کرینگے۔جس کے لیے وہ کل بذریعہ ٹرین حیدرآباد سے دہلی کے لیے روانہ ہوگئے ۔ تانڈور کے اندرانگر کے ساکن محمد معز محمد رفیق کے فرزند ہیں جو کہ پیشہ سے لاری ڈرائیور ہیں۔محمد معز کی والدہ زینب بی اور والد محمد رفیق نے نمائندہ سحر نیوز کو بتایا کہ ان کے فرزند محمد معز گھر کی معاشی حالت بہتر نہ ہونے کے باعث زیادہ تعلیم حاصل نہیں کرپائے اور ایک مقامی خانگی کالج سے دو سالہ میڈیکل لیاب ٹیکنیشن( ایم ایل ٹی) کی تکمیل کے بعد وہ ایک مقامی خانگی ہسپتال میں لیب ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کر رہے ہیں۔ انہیں شوٹنگ بال کھیلنے کا پہلے سے شوق تھا جسے دیکھتے ہوئے مقامی کوچ رامو نے محمد معز کو تربیت دیتے ہوئے ان کے فن میں مزید مہارت پیدا کی۔اس طرح محمد معز نیپال میں منعقدہ مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کے لیے منتخب کرلیے گئے۔ محمد معز کی والدہ زینب بی نے بتایا کہ ان کے فرزندمحمد معز نلگنڈہ اور شولا پور کے علاوہ دیگرمقامات پر شوٹنگ بال مقابلوں میں شرکت کرتے ہوئے 25سے زائد سلور میڈل حاصل کرچکے ہیں۔والد محمد رفیق اور والدہ زینب بی نے کہا کہ یہ لمحات ان کے لیے خوشی کا باعث ہیں کہ ان کے فرزندمحمد معز نیپال میں ملک کی نمائندگی کریں گے۔ غریب والدین کے ہونہار فرزند محمدمعز آج کے ان نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہیں جوکہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو سوشل میڈیا یا پھر مختلف قسم کے نشہ کی لت میں گرفتار ہوکر برباد کر رہے ہیں، یا راتوں میں چبوتروں کو آباد کرتے ہوئے اپنی جوانی اور صلاحیتوں کوضائع کرتے ہوئے خود اپنی اور اپنے والدین کی خواہشات کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔!! ضرورت شدید ہے کہ قوم کے ذمہ داران مقامی سطح پر اس سلسلہ میں آگے آئیں اور بے راہ روی کا شکار ایسے نوجوانوں کی لگاتار کونسلنگ کرتے رہیں اور ان کے لیے وقفہ وقفہ سے مختلف پروگرام منعقد کریں، مساجد کے منبروں سے ان کی ذہن سازی کی جائے، ان میں موجود صلاحیتوں اور ان کے مقصد حیات سے انہیں واقف کرواتے ہوئے انہیں معاشرہ کا ایک مضبوط حصہ بنایا جائے۔! Share this post: