اتر پردیش کے محکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے سارس کو اپنی تحویل میں لے لیا، عارف رنجیدہ

اتر پردیش: محکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے سارس کو اپنی تحویل میں لے لیا
میرے ملنے کے باعث ہی سارس عارف سے چھین لیا گیا : اکھلیش یادو

نئی دہلی/حیدرآباد: 22۔مارچ
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

محبت صرف عاشق یا معشوق کے درمیان اور عشق و محبت کی داستانوں کی حد تک ہی محدود نہیں ہوتی،بلکہ اس کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے۔محبت ماں باپ سے،بھائی بہن سے،بیوی بچوں سے،دوستوں اور اپنےبہی خواہوں کےعلاوہ اپنے پالتو جانوروں اور پرندوں سے بھی ہوتی ہے۔

وہیں نفرت چاہے مذہبی ہو یا علاقائی یا تجارتی، مسابقتی یا پھر کسی اورسطح پر ہو اس کی عمر بہت کم ہوتی ہے اور نفرت کی قسمت میں صرف ذلیل اور رسواء ہونا ہی لکھا ہوتا ہے۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ ماہ فروری میں ریاست اتر پردیش کے ضلع امیٹھی کے ویڈیوز نےسوشل میڈیا کےتمام صارفین کو بہت متاثر کیاتھا۔بعدازاں ان ویڈیوز اور اس کی مکمل تفصیلات نے ریاستی،قومی،بین الاقوامی نامور میڈیا اداروں میں بھی دھوم مچائی تھی۔اس کے ویڈیوز نیوز چینلوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کروڑوں لوگوں نے دیکھے تھے۔

جس کسی نے یہ ویڈیوز دیکھے سب نے تعریف کرتے ہوئے حیرت کا اظہارکیا تھا۔یہ واقعہ ہے محمد عارف اور پرندہ سارس کا۔امیٹھی ضلع کے گوری گنج تحصیل، جامو بلاک کےتحت موجود ” منڈکا گاؤں” کا جہاں ایک سال قبل اس گاؤں کے ساکن محمدعارف نے اس سارس کو زخمی حالت میں پایا تھا اور انہوں نے اسے اپنے گھر لاکر اس کا علاج ومعالجہ کیا،اس کے زخموں کےمندمل ہونےتک اس کی دیکھ بھال کی تھی۔جسکے بعد یہ بے زبان پرندہ محمد عارف کے اس احسان کو بھول نہیں پایا اور اس وقت سے ان کےساتھ ان کے مکان میں رہنے لگا تھا۔

اس سلسلہ میں سحرنیوز ڈاٹ کام نے 24 فروری کو پہلی مرتبہ مکمل تفصیلات اور ویڈیوزکے ساتھ اس خبر کو پیش کیاتھا۔بعدازاں 3 مارچ کو بھی مختلف ویڈیوز کےساتھ ان کی ایک خصوصی نیوز اسٹوری پیش کی گئی تھی کہ کیسے محمدعارف اور سارس ایک ساتھ رہتے ہیں اور ایک ہی برتن میں کھاتے ہیں۔بعدازاں 5 مارچ کو بھی سحرنیوز نے اس خبر کو پیش کیاتھا کہ بی بی سی پر اس کی رپورٹ دیکھ کرسابق چیف منسٹر اتر پردیش و سماج وادی پارٹی رہنما اکھلیش یادونے گاؤں پہنچ کر عارف اور سارس سے ملاقات کرتےہوئے محمد عارف کے جذبہ انسانیت کی جم کر ستائش کی تھی اورخوشی کا اظہار کیا تھا۔اور کچھ وقفہ تک سارس کے ساتھ گھل مل گئے تھے۔

(اس سے متعلق تمام لنکس نیچے پیش ہیں،جنہیں کلک کرکے پڑھا جاسکتا ہے اور ویڈیوز بھی دیکھے جاسکتے ہیں)

تاہم محمد عارف کے لیے کل یہ خوشی اس وقت راس نہیں آئی جب محکمہ جنگلات کے عہدیدار ان کے مکان پہنچ گئے اور سارس کو ان کے پاس سے یہ کہتے ہوئے حاصل کرلیا کہ سارس پالتو پرندہ نہیں ہے۔اس طرح اس کا انسانوں کے درمیان رہنا ٹھیک نہیں، اسے قدرتی ماحول میں ہی رکھا جانا چاہئے۔

اس موقع پر محمد عارف اپنے آنسو چھپا نہیں پائے اور سارس بھی اجنبی افراد کےساتھ جانے کے لیے تیار نظر نہیں آرہا تھا۔عارف کے پاس سے سارس کوحاصل کرتےہوئے اسے ایک پلاسٹک سے بند گاڑی میں منتقل کیےجانے والا منظر انتہائی جذباتی ہے۔اس کے ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں۔
” محکمہ جنگلات کے عہدیداروں اور ملازمین کی جانب سے سارس کی منتقلی کے مناظر "

https://www.facebook.com/khanyahiya276/videos/581111583974074

 

ان ویڈیوز کو دیکھ کر ہر کوئی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا بالخصوص انسٹاگرام پر لکھ رہا ہے کہ ایک سال سے جب سارس اپنی مرضی سے محمد عارف کے مکان میں خوش تھا اور آزادانہ طور پر ان کے ساتھ گھوم رہا تھا تو محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کو آج کیوں اس سارس کی یاد آگئی۔؟

جبکہ ایک ماہ سے یہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر عوام کی دلچسپی کا ذریعہ بنا ہواتھا توعہدیداروں کو سارس حاصل کرنے کا خیال اب کیوں آیا؟ چند سوشل میڈیا صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایاکہ جب سارس زخمی تھا تو اس وقت یہ محکمہ جنگلات والے کہاں تھے۔؟ محمد عارف سے سارس کو الگ کیے جانے پر زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین مایوس ہوکر مختلف انداز میں اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

ایسے میں سابق چیف منسٹر اتر پردیش و سماج وادی پارٹی رہنما اکھلیش یادو نے پریس کانفرنس میں الزام عائد کیاہے کہ عارف سے سارس اس لیے چھین لیا گیا کیونکہ وہ ان سے ملنے اور مبارکباد دینے چلے گئے تھے۔اکھلیش یادو نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا بہت کم دیکھا جاتا ہے جب کوئی سارس انسان سے ایسی دوستی کرتا ہے،یہ تو ریسرچ کا موضوع ہے۔انہوں نے کہا کہ سارس کا علاج اس کی خدمت اور اس کے بعد ان دونوں کی دوستی مثالی تھی۔اکھلیش یادو نے سوال کیا کہ کیا یہی دستور ہے؟ 

 

خبررساں ایجنسی آئی اے این ایس کے مطابق ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر (ڈی ایف او) امیٹھی ضلع،دیو ناتھ شاہ نے کہاکہ سارس کو وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کےتحت تحفظ حاصل ہے اور اس لیے اسے قید میں نہیں رکھاجاسکتا۔وہیں لکھنؤ کے ڈویژنل فاریسٹ آفیسر روی سنگھ نےکہاکہ ہمارے پاس اس کی حفاظت اور پرورش کے لیے ایک نظام موجود ہے۔

انہوں نے کہاکہ آپ اس کے پروں کو چھو نہیں سکتے اور نہ ہی اسے اپنے قریب رکھ سکتے ہیں۔انسانوں کو سارس کو چھونے کی اجازت نہیں ہے۔سارس کو جنگل میں ہی رہنے کی اجازت ہونی چاہئے اور اسے پالتو نہیں بنایا جاسکتا اور انسانوں کے ساتھ رابطے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے مزید کہا کہ ان پرندوں کو کیڑے مکوڑوں اور مچھلیوں کی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔

محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کی جانب سے ان کے سب سے اچھے اور قریبی دوست سارس جسےمیرا بچہ کہہ کر ایک سال سے اپنی دیکھ بھال میں رکھنے والے محمد عارف اپنے اس دوست کے چھن جانے سے غمزدہ اور مایوس ہیں نے کہا کہ اس کا دوست ان سے چھین لیا گیا۔ لیکن انہیں اطمینان اور خوشی بھی ہے کہ اب ان کا بچہ (سارس) اپنے قدرتی ماحول میں رہے گا۔

بہر حال معاملہ جو بھی ہو اس واقعہ کے بعد ہر طرف سے افسوس ظاہر کیا جارہا ہے کہ محض چند وجوہات بتاکر محمد عارف اور سارس کی طویل رفاقت کو توڑ دیا گیا۔بے زبان سارس تو کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن عارف کی حالت دیکھ کر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔چند سوشل میڈیا صارفین لکھ رہے ہیں کہ جانور اور پرندے بہت وفادار ہوتے ہیں اور اپنےمحسن کو کبھی نہیں بھولتے ان سے الگ رہنا بھی انہیں پسند نہیں ہوتا اور شاید بہت جلد سارس دوبارہ خود ہی محمد عارف کے مکان پہنچ جائے گا۔!!

” سارس کو محکمہ جنگلات کی جانب سے اپنے قبضہ میں لینے کے بعد محمدعارف نے آج ایک گھنٹہ قبل اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر یہ ویڈیو پوسٹ کیا ہے "

 

اتر پردیش کے امیٹھی میں عارف اور سارس پرندہ کی عجیب دوستی، عوام حیران، ویڈیو وائرل

 

اتر پردیش کے عارف اور سارس پرندہ کی دوستی، ویڈیوز وائرل ہونے کے بعدعارف کے مکان پر میڈیا اورعوام کا ہجوم

 

سابق چیف منسٹر اتر پردیش اکھلیش یادو عارف اور سارس کے گاؤں پہنچ گئے، دونوں کی دوستی کی زبردست ستائش