کانگریس اس ملک کی سب سے قدیم پارٹی، میرٹ کے علاوہ دوسرا کوئی کوٹہ نہیں، اننت گیری ہلز کے ریسارٹ میں دس روزہ تربیتی پروگرام ، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خطاب

کانگریس اس ملک کی سب سے قدیم پارٹی ،میرٹ کے علاوہ دوسرا کوئی کوٹہ نہیں
ملک کی آزادی ،سماجی مساوات اور جمہوریت کاتحفظ اور بقاء کانگریس کا  کارنامہ
اننت گیری ہلز کے ریسارٹ میں دس روزہ تربیتی پروگرام،چیف منسٹرریونت ریڈی کا خطاب
وائی ایس شرمیلا  اورمہیش کمارگوڑکے علاوہ ریاستی وزراء وارکان اسمبلی کی شرکت

حیدرآباد/وقارآباد: 21؍فروری  (سحر نیوز ڈاٹ کام)

چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی نےکہاہےکہ کانگریسی کارکنوں کویہ فخر حاصل ہےکہ ریاست اور ملک میں کانگریس سے مقابلہ کرنے والی سیاسی جماعتوں میں کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں ہےجو اس ملک کی جدوجہد آزادی سے قبل قائم کی گئی ہو۔

چیف منسٹر 21 فروری کو وقارآبادضلع کےسیاحتی مقام اننت گیزی ہلز پر موجود ہریتا ویلی ریسارٹ میں آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے نونامزد ضلع صدور (ڈی سی سی) کےلیے 21  فروری سے 2 مارچ تک منعقدہ سنگٹھن سریجن ابھیان کےتحت تربیتی پروگرام کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔اس تربیتی اجلاس میں دونوں تلگو ریاستوں کے 70؍کانگریس کے ضلع صدور شریک ہیں۔

اس اجلاس میں صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی و ایم ایل سی مہیش کمار گوڑ، صدر آندھرا پردیش کانگریس کمیٹی (اے پی سی سی) شریمتی وائی ایس شرمیلا، رکن کانگریس ورکنگ کمیٹی چلا ومشی چندرا ریڈی، انچارج سیکریٹری آل انڈیا کانگریس کمیٹی سچن ساونت، ریاستی وزراء پونم پربھاکر،پونگو لیٹی سرینواس ریڈی، سریدھر بابو، گورنمنٹ چیف وہپ و ایم ایل سی ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی، حکومت کے صلاح کار ویم نریندر ریڈی کے علاوہ پرگی اور تانڈور کے ارکان اسمبلی ٹی۔رام موہن ریڈی اور بویانی منوہر ریڈی شریک تھے۔

اس تربیتی اجلاس سے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہاکہ اپنے قیام کے 141 سال سے کانگریس نے اس ملک کی جمہوریت، عوامی آزادی، سماجی انصاف اور سب کو مساوی حقو ق پر عمل کرتے ہوئے ملک کو مضبوط بنایا اور آج بھی اس کے تحفظ میں مصروف ہے۔

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کسی بھی پارٹی کا  نام لیے بغیرکہا کہ کانگریس کی جانب سے ملک کی آزادی، دستور ہند کی تدوین اور اس ملک کو مضبوط بنانے کے بعد اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وجود میں آنے والی جماعتیں کانگریس مکت بھارت کے نعرہ کیساتھ ملک کے لیےنقصاندہ جماعتوں کے طور پر ابھر کر آئی ہیں۔

ایسے نازک وقت میں آئیڈیالوجی بہت معنی رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کی اس بات پرکہ ہندوستان کی اصل روح دیہی علاقوں  میں بستی ہے کےفلسفہ پر کانگریس آج بھی یقین رکھتی ہے انہوں نے کہاکہ عوامی مسائل اور ان کے حل کو اولین اہمیت دیتے ہوئے انہیں حل کرنا چاہئے۔

وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کے دستور میں تبدیلی ،مستحق و غریب طبقات کو حاصل تحفظات کو ختم کرنے کی سازشوں کے درمیان        اس تربیتی پروگرام کی اپنی ایک اہمیت حاصل ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس تربیتی پروگرام کو سزا تصور کیا جائے تو اس کے نتائج صفر ہونگے ،اس تربیتی پروگرام کے ذریعہ مسائل سے واقفیت ،اس کے حل کے طریقہ کار اور کانگریس پارٹی کی اہمیت پر مکمل عبور حاصل ہوگا۔

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ اس اسٹیج پر موجود کسی کو بھی وراثت میں عہدے حاصل نہیں ہوئے ہیں انہوں وائی ایس شرمیلا کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وراثت میں عہدہ حاصل ہوسکتا تھا لیکن انہوں نے اپنا عہدہ وراثت میں نہیں اپنی محنت سے حاصل کیا ہے۔

چیف منسٹرنے کہا کہ موتی لال نہرونے ہزاروں کروڑ کے اپنے اثاثے ملک کی ترقی کے لئے سونپ دئیے تھے، پنڈت جواہر لال نہرو نے ملک کی آزادی کے  لیے دس سال جیل کی صعوبتیں برداشت کیں،مسز اندرا گاندھی نے اس ملک کی ترقی کیساتھ ساتھ ملک کے لیے اپنا آخری خون کا قطرہ تک دے دیا اور راجیو گاندھی نے بھی اس ملک کے لیے اپنی جان قربان کی،چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ ان تمام کے خوابوں کی تکمیل کے لیے جب اس ملک کو ایک بہتر قیادت کی ضرورت پڑی تو شریمتی سونیا گاندھی نے اپنے دو بچوں کیساتھ اس ملک کو متحد رکھنے کے لیے قربانی دی۔

انہوں نے کہا کہ 30؍سالہ جدوجہد آزادی میں مہاتما گاندھی پر لاٹھی اٹھانے کی ہمت انگریزوں نے تک نہیں کی تھی لیکن خود کو سچے ہندوستانی ہونے کا دعویٰ کرنے والی سیاسی جماعتوں نے آزادی حاصل ہونے کے چند ماہ بعد ہی مہاتماگاندھی پر گولیاں برسائیں جو کہ بی جے پی کے وارث تھے۔

انہوں نے کہا مہاتماگاندھی، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی نے اس ملک کے لیے اپنی جانیں قربا ن کیں اس طرح راہول گاندھی اسی وراثت کے طورپر کو گھر بیٹھے اس ملک کے وزیراعظم بننا چاہئے تھا لیکن اس کے باوجود راہول گاندھی نے تمام موسموں کی مار جھیلتے ہوئے کنہیا کماری سے کشمیر تک 150؍دن تک 4ہزار کلومیٹر کا پیدل سفر کرتے ہوئے بھارت جوڑو یاترا کی عوام کے مسائل سے واقفیت حاصل کی ۔

ریونت ریڈی نے سابق چیف منسٹر متحدہ آندھراپردیش  ڈاکٹر  وائی ایس راج شیکھرریڈی کی پدیاترا، ان کے دور حکومت اوراس وقت کی مختلف فلاحی اسکیمات  کا بھی تذکرہ کیا۔ چیف منسٹر  ریونت ریڈی نے اب آندھرا پردیش میں کانگریس کو مضبوط بنانے کے لیے وائی ایس شرمیلا کی خدمات کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ تربیت حاصل کر نے   والے ضلعی صدورپارٹی کی اہمیت کومواضعات تک لے جائیں،عوامی مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ آگے رہیں اور حکومت کی تمام اسکیمات کو راست عوام تک پہنچانے میں اہم رول ادا کریں۔

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کانگریسی قائدین اور کارکنوں کو پیغام دیا کہ کانگریس میں میرٹ کے علاوہ دوسرا کوئی کوٹہ نہیں ہے ،پارٹی کے تئیں وفاداری اور پارٹی کے لیے کام کرنے والوں کو عہدے حاصل ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے کیڈر کے لیے تربیتی پروگرامز ضروری ہیں۔

”  یہ بھی پڑھیں ” 

تلنگانہ مینارٹی فینانس کارپوریشن کی جانب سے بیروزگار نوجوانوں کے لیے سنہری موقع، 80 فیصد سبسڈی پر ای۔اسکوٹر اسکیم کا آغاز

فرید آباد میں حاجی اختر خان نے الوک شرما کا 16 لاکھ روپئے مالیتی سونا واپس کر دیا

تانڈور کے بلدی حلقہ 7 کے نومنتخب رکن بلدیہ ارشاد حملہ میں شدید زخمی، علاج کے لیے حیدرآباد منتقل

تانڈور میں صدام نے سی پی آر کے ذریعہ وینکٹ کی جان بچائی، فرقہ پرستوں کے منہ پر طمانچہ!!