تانڈور میں صدام نے سی پی آر کے ذریعہ وینکٹ کی جان بچائی، فرقہ پرستوں کے منہ پر طمانچہ!!

دِل نا اُمید تو نہیں ناکام ہی تو ہے !!
تانڈور میں صدام نے سی پی آر کے ذریعہ وینکٹ کی جان بچائی ، فرقہ پرستوں کے منہ پر طمانچہ !!
میڈارم جاترا میں کھویا بن کو فوڈ جہاد کا نام دینے والے یوٹیوبرز کہاں ہیں !؟

حیدرآباد/ تانڈور،19؍فروری
(سحرنیوزڈاٹ کام/خصوصی رپورٹ)
گذشتہ چند سال سے ملک میں میڈیا کا ایک مخصوص طبقہ اور سوشل میڈیا کے تقریباً پلیٹ فارمز ایک مخصوص مذہب اور اس کے ماننے والوں کو اپنی نفرت اور ذہنی پراگندگی کا کھل کر نشانہ بنانے میں مصروف ہیں جس کا اثر یہ ہورہا ہے کہ سماج میں نفرت پیدا ہورہی ہے اور معصوم افراد کی موب لنچنگ کی شکل میں اس کا اثر ہورہا ہے۔دوسری جانب اس طبقہ کے دکانداروں اور چھوٹے بیوپاریوں کوکسی نہ کسی معاملہ میں ہراساں کیا جا رہا ہے۔نفرت انگیز مواد کو پھیلانے کے لیے مختلف قسم جہاد کے نام پیدا کیے گئے ہیں !!
اب توصحافتی اقدار سے ناواقف جنگلی پودوں کی طرح یوٹیوبرس بھی پیدا ہوگئے ہیں ان میں سے زیادہ تر کا بھی یہی کام ہوگیا ہے کہ اس طبقہ کو نشانہ بناو اور اس کے ذریعہ ہندو۔مسلم نفرت پیدا کرو!
گذشتہ دنوں اتراکھنڈ کے کوٹ دُوار سے دیپک کمار نامی نوجوان ایسے ماحول میں ایک خوبصورت ہوا کا جھونکا بن کر اس وقت سامنے آگیا جب وہاں بجرنگ دل کے کارکن ایک ضعیف محمد وکیل کی 30؍سالہ کپڑوں کی دکان پر پہنچ کر انہیں دھمکانے لگے کہ وہ اپنی دکان کے نام سے بابا لفظ ہٹا دیں یہ ہندوووں کا نام ہے! اسی دوران دیپک کمار وہاں پہنچ گئے اور ان نوجوانوں سے دکان مالک کو بچایا اور اپنا تعارف محمد دیپک کے طورپر کروایا۔
بعد ازاں سوشل میڈیا پر جہاں دیپک کمار راتوں رات امن پسند اور سیکولر ذہن افراد کے ہیرو بن گئے وہیں زعفرانی تنظیموں نے انہیں ویلن بنا دیا اور آج بھی انہیں دھمکیاں موصول ہورہی ہیں اور ان کا جم ٹریننگ سنٹر سنسان ہوگیا ہے ،لیکن ملک اور بیرون ملک سے کئی افراد ان کے جم کی رکنیت لے کر ان کی مالی مدد کررہے ہیں کیونکہ دیپک کمار نے دیگر طریقوں سے مالی مدد لینے سے انکار کردیا تھا ۔سپریم کورٹ کے زائد از دو درجن وکلاء نے اتراکھنڈ پہنچ کر دیپک کمار کے جم کی ماہانہ رکنیت حاصل کی ۔سوشل میڈیا پر اب ایسے ویڈیو بھی زیر گشت ہیں کہ کسی کو تنگ کرنے کے دوران وہاں موجود عوام مداخلت کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں جو کہ خوش آئند ہے۔
اسی دوران گذشتہ ایک ہفتہ سے فیس بک، انسٹاگرام ،ایکس (سابقہ ٹوئٹر)اور یوٹیوب پرتلنگانہ کے ضلع ملگ میں منعقدہ سمکا سارکا (میڈارم جاترا) کا ایک ویڈیو بہت زیادہ وائرل ہے جس میں دیکھا گیا کہ آندراپردیش سے تعلق رکھنے والے ایک یوٹیوب چینل کے نمائندوں کا جھنڈ کرنول کے ساکن شیخ شاہ ولی کو گھیرے ہوئے ہے جو کہ کھویا بن کا آبائی کاروبار کرتے ہیں۔نام نہاد صحافیوں کا یہ جھنڈشیخ شاہ ولی سے اتنے گھٹیا سوال کرکے انہیں پسینہ پسینہ اور خوفزدہ کرد یتا ہے کہ شیخ ولی اپنا کھویا بن کھاکر ثابت کرتے ہیں کہ اس میں کوئی زہر ملا ہوا نہیں ہے۔
تصاویر : اتر اکھنڈ کے دیپک کمار ، وکیل احمد ،کھویا بن والے کرنول کے شیخ شاہ ولی اور تانڈور کے صدام اور وینکٹ۔
اس یوٹیوب چینل نے اس کو کھویا بن جہاد کا نام دیا تھاکہ اس میں زہر ملا ہوا ہے ، اس میں نامردی کی دواملی ہوئی ہے !! اس ایک ویڈیو کی شدید مذمت میں کھلے ذہن اورسیکولر سوچ کے حامل صحافیوں اور شہریوں نے سوشل میڈیا پر سینکڑوں بویڈیوز بنائے ہیں کہ ایک غریب چھوٹے بیوپاری کیساتھ یہ حرکت انتہائی گھٹیا ہے ۔ رکن پارلیمان حیدرآباد و صدر مجلس بیرسٹر اسد الدین اویسی نے بھی دارالسلام کے 68؍ویں سال کے جلسہ میں اپنے خطاب میں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت اور ڈی جی پی سے مطالبہ کیا تھا کہ اس نفرت انگیز یوٹیوب چینل کے خلاف کارروائی کی جائے ۔
وہیں آندھرا پردیش کے وزیر نارالوکیش نے بھی ٹوئٹ کرتے ہوئے اس واقعہ کی مذمت کی تھی اور بہت جلد کرنول پہنچ کر شیخ شاہ ولی کے کھویا بن کھانے کی خواہش کا اظہار کیا ۔جبکہ ڈپٹی چیف منسٹرآندھراپردیش پون کلیان کے بھائی و ایم ایل سی ناگا بابو نے شیخ شاہ ولی سے ملاقات کی ،25؍ہزار روپئے کی امدادحوالے کرتے ہوئے یوٹیوب چینل کی اس حرکت کی مذمت کرتے ہوئے کھویا بن بھی کھایا ۔کرنول میں صحافیوں اور سماجی جہدکاروں کا ہجوم ہنوز شیخ شاہ ولی کے مکان پہنچ رہا ہے ۔یہ معاملہ اب قومی اور بین الاقوامی میڈیا تک بھی پہنچ گیا ہے ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک میں نفرت سے زیادہ محبت ،قومی یکجہتی اور آپسی بھائی چارہ کو پسند کرنے والوں کی تعدادنفرتی گینگ سے کہیں زیادہ ہے اور ملک کی اسی خصوصیت کی وجہ سے ساری دنیا میں ملک کو ایک علحدہ پہچان حاصل ہے۔
ایسے نفرت انگیز ماحول میں تانڈور میں صدام نامی نوجوان نے عین وقت پر وینکٹ نامی شخص کی جان بچاکر انسانیت کے پرچم کو ایک اور مرتبہ بلند کردیا ہے ۔
موجودہ حالات میں انسانیت کو نئی راہ دکھانے والے اس واقعہ کی تفصیلات کے بموجب موضع جنگورتی ، تانڈور منڈل کے ساکن وینکٹ اپنی موٹرسیکل پر تانڈور آرہے تھے کہ گوتاپور اور سینٹ مارکس جوبلی اسکول کے درمیان لاری اور وینکٹ کی موٹرسیکل میں تصادم ہوگیا اور وینکٹ سڑک پر گرگئے حادثہ دیکھنے والوں کو شبہ تھا کہ وینکٹ کی موت واقع ہوگئی ہوگی جنہیں سانس لینے میں بہت زیادہ تکلیف ہورہی تھی
اور وہ خاموش ہوگئے تھے ایسے میں کمان پٹیوں کی دکان کے مالک راجیو گروہا کالونی کے ساکن صدام اپنی دکان سے اٹھ کر فوری وینکٹ کے پاس پہنچ گئے اور بے سدھ سڑک پر پڑے ہوئے وینکٹ کو فوری سی پی آر فراہم کیا جس کے بعد وینکٹ ہوش میں آگئے تو فوری 108کو فون طلب کرکے وینکٹ کو تانڈور کے گورنمنٹ ضلع ہسپتال منتقل کیا گیا جہا انہیں طبی امداد فراہم کی گئی وینکٹ کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے ۔
مقام حادثہ پر اس منظر کو دیکھنے والوں اور وینکٹ کے رشتہ داروں نے صدام کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وینکٹ کو سی پی آر فراہم کرکے نئی زندگی دی ہے ۔موجودہ حالات میں دونوں مذاہب کی جانب کے لوگوں کے اس جذبہء انسانی کو دیکھ کر فیض احمد فیض کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ 

دل نااُمید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

 

" یہ بھی پڑھیں " 

تلنگانہ میں بھی اب فوڈ جہاد! میڈارم جاترا میں کھویا بن بیچنے والے شاہ ولی کو یوٹیوب چینل کی شدید ہراسانی، ہر طرف سے مذمت

تانڈور میں اے ایس جی ایم کے چیئرٹیبل ٹرسٹ کی مختلف شعبوں میں خدمات لائق ستائش : رکن اسمبلی اور مجیب خان کا خطاب