کچھ احتیاط پرندے بھی رکھنا بھول گئے
کچھ انتقام بھی آندھی نے بدترین لیے
کانپور زو میں عارف کی سارس سے دوبارہ جذباتی ملاقات
علیحدگی کے چار ماہ بعد بھی پرندہ اپنے دوست کو پہچان کر بے چین ہوگیا
کانپور : 15۔جولائی
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
محمد عارف نے کل امیٹھی سے کانپور ہنچ کر کانپور کے چڑیا گھر میں اپنے دوست ” سارس ” Sarus Crane# کے ساتھ پرندوں کے انکلوژر میں 15 منٹ گزارے۔عارف نے زو کی ٹکٹ خرید کر یہ ملاقات کی جنہوں نے ماسک پہنا ہوا تھا۔ جب انہوں نے سارس کو آواز دی تو وہ دوڑکر جالی تک آگیا۔جب عارف نے اپنے چہرے سے ماسک ہٹاتےہوئے ساس سے پوچھا کہ پہچان گئے ؟ اس موقع پر پرندہ جوش میں آگیا اور خوشی کے مارے اپنے پر پھیلا کر جھومنے لگا۔
اس ملاقات کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سارس کو ایک جالی دار کھلے مقام پر قید میں رکھا گیا ہے اور عارف اس جالی کے باہر کھڑے ہوکر اس کو آواز لگا رہے ہیں۔جس پر سارس کی خوشی اور بے چینی دیکھنے کے لائق ہے۔ اس ویڈیو کو دیکھ کر کئی سوشل میڈیا صارفین کی آنکھیں نم ہوگئیں۔سارس کودیکھنے کے بعد عارف نے کہاکہ وہ بہت پریشان ہے۔اس کاوزن بہت کم ہوگیا ہے اور وہ بہت کمزور بھی ہوگیا ہے، جسے موروں اور بطخوں کے ساتھ رکھا گیا ہے لیکن وہ ان سب سے الگ تھلگ گم سم رہتا ہے۔
کانپور زو میں اس ملاقات کے ویڈیو میں دیکھاجاسکتا ہے کہ اپنے محسن اور دوست عارف کو دیکھ کر قید میں موجود بے زبان سارس کبھی اڑنے کی کوشش کرتاہے تو کبھی رقص کرنے کی اور خوشی کے ساتھ وہ اس پورے پلاسٹک کی جالی سےمحصور قید خانہ میں اچھل کود کررہا ہےکہ جیسے وہ اس قید سے آزاد ہوکر اپنے دوست عارف کے ساتھ جانا چاہتا ہے۔! سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد کا مشورہ ہے کہ سارس کو زو میں رکھنے کے بجائے آزاد چھوڑ دیا جائے اس کی جہاں مرضی ہوگی وہ وہاں چلا جائے گا۔
خود عارف نے بھی کہا کہ میری گذارش ہے کہ سارس کو زو سے کھلا چھوڑ دیا جائے،اسے میرے حوالے نہ کریں بلکہ اسے چھوڑ دیں، یہ بہت پریشان دکھائی دیتا ہے اور اس سے مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں صرف اپنے پرندے کو دیکھنا چاہتا تھا۔ اگر مجھے اجازت دی گئی اور کوئی راستہ مل سکتا تو میں روز اس سے ملاقات کرنے پہنچ جاتا۔
https://www.facebook.com/khanyahiya276/videos/2937300369733440
اس سے قبل 11 اپریل کو بھی عارف کو کانپور زو میں سارس سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔جب عارف نے زو پہنچ کر سارس کو دیکھا جسے وہ ”میرا بچہ” کہا کرتے تھے۔اس ملاقات کا ویڈیوبھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ جس میں دیکھا گیا تھا کہ سارس کو ایک جالی دار کھلے مقام پر قید میں ے تنہا رکھا گیا ہے اور عارف اس جالی کے باہر کھڑے ہوکر اس کو آواز لگارہے ہیں۔جس پر سارس کی خوشی اور بے چینی دیکھنے کے لائق تھی اور اس ویڈیو کو دیکھ کر کئی سوشل میڈیا صارفین کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں۔
قارئین کو یاد ہوگاکہ جاریہ سال ماہ فروری میں ریاست اتر پردیش کےضلع امیٹھی کےمحمد عارف اور سارس پرندہ کی دوستی کے ویڈیوز نے سوشل میڈیا کےتمام صارفین کو بہت متاثر کیاتھا۔بعدازاں ان ویڈیوز اور اس کی مکمل تفصیلات نے ریاستی،قومی اور بین الاقوامی نامور میڈیا اداروں میں بھی دھوم مچائی تھی۔ان کے ویڈیوز نیوز چینلوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کروڑوں لوگوں نے دیکھے تھے۔جس کسی نے یہ ویڈیوز دیکھے سب نے تعریف کرتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا تھا کہ جھیلوں، تالابوں اور درختوں پر رہنے والا اور اپنے قریب کسی انسان کو آنے نہ دینے والا سارس کیسے عارف کے ساتھ رہتا اور ان کے ساتھ ہی کھاتا ہے۔اور وہ جہاں جہاں جاتے ہیں اڑ کر ان کے ساتھ ہوتا ہے۔!!
اتر پردیش کے امیٹھی ضلع کے گوری گنج تحصیل، جامو بلاک کےتحت موجود” منڈکا گاؤں” کے ساکن محمد عارف کو ایک سال قبل یہ سارس زخمی حالت میں دستیاب ہوا تھا اور اس کا ایک پیر ٹوٹا ہوا تھا۔انہوں نے اسے اپنے گھر لاکر اس کا علاج ومعالجہ کیا،اس کے زخموں کے مندمل ہونے تک اس کی دیکھ بھال کی تھی۔جسکے بعد یہ بے زبان پرندہ محمد عارف کے اس احسان کو بھول نہیں پایا اور اس وقت سے ان کےساتھ ان کے مکان میں رہنے لگا تھا۔
بی بی سی پر عارف اور سارس کی انوکھی دوستی پرمشتمل رپورٹ دیکھ کر 5 مارچ کو سابق چیف منسٹر اترپردیش وسماج وادی پارٹی رہنما اکھلیش یادو نے گاؤں پہنچ کر عارف اور سارس سے ملاقات کرتےہوئے محمد عارف کے جذبہ انسانیت کی جم کر ستائش کی تھی اور خوشی کا اظہار کیا تھا۔وہ کچھ وقفہ تک سارس کے ساتھ گھل مل گئے تھے۔
محمدعارف اور سارس کی یہ دوستی جنگلاتی قوانین اور پرندوں کے تحفظ کے نام پر سیاسی اور مذہبی منافرت کی بھینٹ چڑھ گئی!! اور 21 مارچ کو محکمہ جنگلات کے عہدیدار ان کے مکان پہنچ گئے اور سارس کو ان کے پاس سے یہ کہتے ہوئےحاصل کرلیا کہ سارس پالتو پرندہ نہیں ہے۔ اس طرح اس کا انسانوں کے درمیان رہنا ٹھیک نہیں،اسے قدرتی ماحول میں ہی رکھا جاناچاہئے۔اس کےبعد اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کا عارف کے مکان جانا عارف اور سارس کی علیحدگی کا سبب بن گیا۔!!
بات یہاں تک ختم نہیں ہوئی بعد ازاں 26 مارچ کو گوری گنج،امیٹھی کےمحکمہ جنگلات کے عہدیداروں کی جانب سےمحمد عارف کے خلاف جنگلی جانوروں اور پرندوں سےمتعلق 1972 کےترمیم شدہ ایکٹ کی پانچ مختلف دفعات کے تحت کیس درج کرتے ہوئے انہیں ایک نوٹس جاری کی گئی اور انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ وہ پوچھ تاچھ کے لیے 2 اپریل کو حاضر ہوں۔تاہم عام آدمی پارٹی کے رکن راجیہ سبھا سنجے سنگھ،اکھلیش یادو، پرینکا گاندھی واڈرا کے علاوہ دیگر سیاسی، سماجی نمائندوں، آزاد صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کی شدید مخالفت اور تنقید کے بعد نوٹس اور کیس کے معاملہ کو اس وقت سرد کر دیا گیا تھا۔!
محمد عارف کے پاس سے تحویل میں لیےگئے اس سارس کو کانپور زو منتقل کرتے ہوئے اسے 15 دنوں کے لیے کورنٹئین کیا گیا تھا۔اس وقت میڈیا میں اطلاع آئی تھی کہ اس سارس نے عارف سے الگ کیے جانے کے بعد 40 گھنٹوں تک کچھ بھی نہیں کھایا۔وہ پریشان ہے اور اس کا وزن کم ہو رہا ہے۔

عارف اور سارس کی یہ دوستی واقعی قابل ستائش ہےکہ آج کے دؤر میں بے زبان جانور اور پرندے ان دھوکہ باز،فریبی،مطلبی اورمفاد پرست انسانوں سے لاکھ درجہ بہتر نظر آتے ہیں جو کسی کا بھی احسان اور انہیں دی گئی محبت،توجہ اور مختلف طریقوں سے کی گئی مدد کو جلد بھلا کر جہاں دھوکہ دےجاتے ہیں، وہیں اپنی پرورش اورخصلت کا ثبوت بھی دیتے ہیں۔!جن کے خون میں ہی مکر و فریب ،دھوکہ دہی ہوتی ہے ۔!!
” محمد عارف اور سارس سے متعلق مکمل تفصیلات اور دلکش ویڈیوز ان لنکس پر ”
اتر پردیش کے امیٹھی میں عارف اور سارس پرندہ کی عجیب دوستی، عوام حیران، ویڈیو وائرل
سابق چیف منسٹر اتر پردیش اکھلیش یادو عارف اور سارس کے گاؤں پہنچ گئے، دونوں کی دوستی کی زبردست ستائش
اتر پردیش کے محکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے سارس کو اپنی تحویل میں لے لیا، عارف رنجیدہ
کانپور کے زو میں عارف اور سارس پرندہ کا جذباتی ملاپ، عارف کو دیکھتے ہی سارس خوشی سے جھوم اٹھا

