اوڈیشہ ٹرین حادثہ : مہلوکین کی تعداد 288 تک پہنچ گئی، 900 مسافر زخمی، وزیراعظم جائے حادثہ پر پہنچ گئے، امدادی کاموں کا جائزہ ،تفصیلات کا حصول

اوڈیشہ ٹرین حادثہ : مہلوکین کی تعداد 288 تک پہنچ گئی، 900 مسافر زخمی
وزیراعظم جائے حادثہ پر پہنچ گئے، امدادی کاموں کا جائزہ، تفصیلات کا حصول
ٹرین حادثات کو روکنے کے لیے تلنگانہ میں کیا گیا تھا تجربہ، کاوچ آلہ کہاں ہے؟

دہلی/بھوبنیشور : 03/جون
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

گذشتہ شام دیرگئے ریاست اوڈیشہ کے بالاسور میں پیش آنےوالے خوفناک اور ملکی تاریخ کے بھیانک ریل حادثات میں سے ایک حادثہ میں مرنے والوں کی تعداد میں افسوسناک طور پر اضافہ ہو رہا ہے۔حادثہ کے بعد دس مسافروں کے ہلاک ہونے کی اطلاع تھی بعدازاں یہ اموات 50 تک پہنچ گئی تھیں۔جبکہ رات 2 بجے خبر رساں ادارے اے این آئی نے سدانشو سارنگی،ڈائرکٹر جنرل اوڈیشہ فائر سرویس کے حوالے سے ٹوئٹ کیا تھا کہ اب تک خوفناک حادثہ کی شکار ٹرینوں سے 120 نعشیں نکالی جاچکی ہیں۔اور انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ اموات میں مزید اضافہ کا امکان ہے۔

صبح ہوتے ہوتے یہ خدشہ درست ثابت ہوا آج دوپہر 2 بجے تک موصولہ اطلاع کے مطابق دو دہائیوں سے زائد عرصہ میں ملک کے اس سب سے بھیانک مانےجانے والے ریل حادثے میں کم از کم 288 افراد ہلاک اور 900 مسافر زخمی ہوئے ہیں جو کہ مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ان میں مزید اضافہ کا اندیشہ جتایا جارہاہے۔؟ مہلوکین اور زخمیوں میں ضعیف،بچے،مرد اور خواتین شامل ہیں۔میڈیاذرائع کے مطابق زیادہ تر مہلوکین کا تعلق ریاست تمل ناڈو سے ہے جہاں سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

مقام حادثہ کا ڈرون ویڈیو "

https://twitter.com/SanjeevPreet/status/1664990077162868738

 

مرکزی وزارت ریلوے نے اس حادثہ میں ہلاک ہونےوالے فی مہلوک کےلیے 10 لاکھ روپئے،شدید زخمیوں کے لیے فی کس 2 لاکھ روپئے اور معمولی زخمی مسافروں کو فی کس 50 ہزار روپئے کی ایکس گریشیاء کا اعلان کیاہے۔وہیں رات دیرگئے ہی مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔

اس افسوسناک حادثہ کے فوری بعد یہ اطلاع آئی تھی کہ مغربی بنگال کے کولکتہ کے ہاوڑہ اسٹیشن سے تمل ناڈو کے چنئی جانے والی شالیمار۔ چنئی کورو منڈل ایکسپریس اوڈیشہ کے بالاسور ضلع میں ایک مال گاڑی ٹرین سے ٹکرا گئی اور یہ تصادم بالاسورضلع کےبہناگا ریلوے اسٹیشن کے قریب ہوا۔

لیکن رات 30-9 بجے اس حادثہ سے متعلق ریلوے کے ترجمان امیتابھ شرما نے میڈیا کو بتایا کہ شام 7 بجے کےقریب،شالیمار۔چنئی کورومنڈل ایکسپریس کے 10-12 ڈبے بالیشور کے قریب پٹری سے اترگئے اور مخالف پٹری پر گر گئے۔جہاں پہلے سے ہی ایک مال گاڑی کھڑی ہوئی تھی۔ کچھ دیر بعد یشونت پور سے ہاوڑہ جانے والی ایک اور ٹرین ان ڈبوں سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں اس کے 3-4 ڈبے پٹری سے اتر گئے۔

اوڈیشہ میں پیش آئے اس ٹرین حادثہ کےبعد آج وزیراعظم نریندرمودی نے دہلی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرتے ہوئے حادثہ کی وجوہات اور تفصیلات حاصل کیں۔بعدازاں وزیراعظم نریندر مودی بعد سہء پہر دہلی سے اوڈیشہ کے بالاسور پہنچ کر حادثہ کی شکار ٹرینوں کا مشاہدہ کیا اور اس سلسلہ میں جاری امدادی کاموں اور دیگر اقدامات کی تفصیلات حاصل کیں۔

وزیراعظم مودی بھوبنیشور سے تقریباً 170 کلومیٹر شمال میں موجود بالاسور ضلع کے بہناگا بازار اسٹیشن پر جائے حادثہ کے قریب ایئر فورس کے ہیلی کاپٹر سے اترے۔انہوں نے حادثے میں بچ جانے والوں سے ملنے کےلیے بالاسور ڈسٹرکٹ ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی۔ وزیر اعظم کے ساتھ مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو اور وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان اور دیگر بھی تھے۔

اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ اس غفلت اور حادثہ کے ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت ان لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے جنہوں نے اس سانحہ میں اپنے افردا خاندان کو کھو دیاہے۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ ایک دردناک واقعہ ہے، حکومت زخمیوں کے علاج میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔یہ ایک سنگین واقعہ ہے اور ہر زاویے سے اس کی تحقیقات کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ قصورواروں کو سخت سزا دی جائے گی۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق ریلوے کے کھڑگپور ڈویژن کےسگنلنگ کنٹرول روم کی ویڈیو فوٹیج کے مطابق ٹرین نے بظاہر غلط ٹریک لیاتھا، جمعہ کی شام تقریباً 6:55 بجے بہا نگر بازار اسٹیشن سے گزرنے کے فوراً بعد مرکزی لائن پر چلنے کے بجائے، چنئی جانے والی کورومنڈیل ایکسپریس غلطی سے ایک لوپ لائن میں داخل ہوگئی جہاں ایک مال گاڑی کھڑی ہوئی تھی۔تاہم اس حادثہ کی اصل وجہ جاننے کے لیے مزید جامع تحقیقات کی ضرورت ہے۔اور ریلوے بورڈ نے اس حادثہ کی تفصیلی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کےمطابق ایک عہدیدارنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ ایک انسانی غلطی معلوم ہوتی ہے۔

وزارت ریلوے کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ تقریباً 127 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنےوالی کورومنڈل ایکسپریس مال گاڑی سے ٹکرا گئی اور مین لائن پر پٹری سے اتر گئی۔مذکورہ عہدیدار نے بتایاکہ تصادم کے چند منٹوں کے اندر ہاوڑہ جانے والی یشونت نگر ایکسپریس مخالف سمت سےآنے والی کورومنڈل ایکسپریس کے پٹری پر گرےہوئے ڈبوں سے ٹکراگئی اور یہ خوفناک حادثہ جمعہ کی شام تقریباً 7.30 بجے پیش آیا۔عہدیدارنے بتایا کہ حادثے کی تحقیقات کمشنر آف ریلوے سیفٹی (CRS#)، ساؤتھ ایسٹرن سرکل کے ذریعہ کی جائیں گی۔

دوسری جانب مرکزی وزیر ریلوے سے جب پوچھا گیاکہ آیا وہ اس حادثہ کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتےہوئے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت زخمیوں کو مناسب طبی امداد اور راحتی کاموں کی انجام دہی ضروری ہے۔

ملک میں حالیہ سالوں کے دؤران ریل حادثات اور ان میں ہلاک والوں کی بات کی جائےتو این ڈی ٹی وی کے مطابق 1981 میں ایک ٹرین کے بہار کی کوسی ندی میں گرنے سے 500 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
1995 میں اتر پردیش کے فیروزآباد میں پیش آئے ایک ٹرین حادثہ میں 300 انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔
1999 میں گیسل ،مغربی بنگال میں دو ٹرینوں کے تصادم میں 287 مسافر ہلاک ہوئے تھے۔
2010 میں مغربی بنگال میں ایک ٹرین کے پٹریوں سے اترجانے کے باعث ہوئے حادثہ میں 148 مسافر وں کی ہلاکت ہوئی تھی۔
کل 2 جون 2023 کو اوڈیشہ کے بالاسور کا حادثہ ملک کی تاریخ کا ایک اور بھیانک حادثہ ہےجس میں زائداز 300 مسافر ہلاک ہوئے ہیں۔

اب اپوزیشن جماعتوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس حادثہ کا ذمہ دار کون ہے؟ اور اس کاوچ آلہ کا کیا ہوا جو کہ ایسے حادثات کو روکنے کےلیے دس سالہ محنت اور تجربہ کےبعد ملک میں تیار کیا گیا تھا؟ کیوں اس آلہ کو ٹرینوں میں اب تک نصب نہیں کیا جاسکا؟ بتایا جارہا ہے کہ حادثہ والی اس ریلوے لائن پر اور ان ٹرینوں میں اس کاوچ آلہ کا استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔!!

 

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہو گاکہ 4 مارچ 2022 کو وزیر ریلوے اشونی ویشنوئی کی نگرانی میں ساؤتھ سنٹرل ریلوے کی جانب سے حیدرآباد کے مضافاتی لنگم پلی ریلوے اسٹیشن اور وقارآباد ریلوے اسٹیشن ریلوے لائن پر مواضعات گولا گوڑہ اور چٹی گڈہ ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان ایک ہی ریلوے ٹریک پر انسانی،تکنیکی غلطی یا پھر سگنل نظام کے ناکارہ ہوجانے کے باعث آ جانے والی دوتیز رفتار ٹرینوں میں ٹکراؤ کو روکنے کی غرض سے بنائے گئے خودکار آلہ کا تجربہ کیا گیا تھا جو کہ کامیاب رہا۔

اس موقع پر تجربہ کے دؤران استعمال کیے گئے اس خودکار آلہ کا نام " بھارت کا کاوچBharat Ka Kavach# رکھا گیا۔ جبکہ اس آلہ کے تجربہ کا آغاز دس سال قبل کیا گیا تھا اور اس آلہ کانام”ٹی۔کاس( ٹرین کولیثرن اوائیڈنس سسٹم )رکھا گیا تھا۔تاہم اسے ” میک ان انڈیا ـ کے تحت” بھارت کاوچ” نام دیا گیا۔

اس تجربہ کےدؤران ایک ٹرین کے انجن میں وزیر ریلوے اشونی ویشنوئی اور دیگرعہدیدار سوارتھے جبکہ مخالف سمت سے آنے والے ایک ریل انجن میں چیئرمین ریلوے بورڈ و چیف ایگزیکٹیو آفیسر مسٹر ونئے کمار ترپاٹھی سوار تھے۔

اس تجربہ کے دؤران لنگم پلی کی جانب سے ریلوے انجن کو اور وقارآباد کی جانب سے ریل کو ایک ہی ریلوے ٹریک پر دؤڑایا گیا ان دونوں میں حادثات کو روکنے والے ” کاوچ” آلے نصب کیے گئے تھے۔ریل فی گھنٹہ 100 کلومیٹر کی رفتار سے دؤڑ رہی تھی جس میں وزیر ریلوے سوار تھے جبکہ مخالف سمت سے آنے والے ریل انجن کی رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

بھارت کا کاوچ کے تجربہ کے دؤران ٹرین کے انجن میں سوار وزیر ریلوے اشونی ویشنو "

ان دونوں کے درمیان 600 میٹر کا فاصلہ تھالیکن دونوں جانب کے ٹرین ڈرائیورس نے اپنی طرف سے بریک نہیں لگائے اور نہ رفتار کم کرنے کی کوشش ہی کی تاہم مخالف سمتوں سے آنے والے ریل انجن اور ٹرین کی رفتار خودبخود کم ہونے لگی اور ان دونوں کے درمیان جب فاصلہ 380 میٹر تھا تو یہ دونوں خود کار آلہ کاوچ کی وجہ سے رک گئےتھے۔

بعدازاں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ریلوے مسٹر اشونی ویشنوئی نے کہا تھاکہ اس طرح کے حادثات کو روکنے کے لیے یہ آلہ انتہائی موثر ثابت ہوگا انہوں نے کہا تھاکہ پہلے مرحلہ کے تحت جاریہ سال اس کاوچ آلہ کو دو ہزار کلومیٹر فاصلہ کی ریلوے لائن پر دؤڑنے والی ٹرینوں میں استعمال کیا جائے گا بعدازاں اس میں مرحلہ وارسطح پر توسیع دی جائے گی۔

اس وقت وزیر ریلوےنے انکشاف کیاتھاکہ اس طرز کے حفاظتی آلہ کو دیگر ممالک سے خریدا جائے تو فی کلومیٹر دو کروڑ روپئے تک کا خرچہ ہوگا جبکہ اب اس کاوچ سے 50 لاکھ روپئے فی کلومیٹر ہی خرچ ہوں گے۔

وزیر ریلوے نے اس وقت بتایا تھا کہ یہ آلہ صرف ایک ہی ٹریک پر دو ٹرینوں کےتصادم کو نہیں روکتا بلکہ آگے موجود ریلوے ٹریک کی خرابی سے بھی واقف کرواتا ہے۔اسی طرح  پیچھے آنے والی ٹرین کے فاصلہ اور دوری سے بھی ٹرین ڈرائیور کو الرٹ کرتا ہے۔

یاد رہے کہ”ٹرین کولیثرن اوائیڈنس سسٹم (ٹی۔کاس ) آلہ لکھنئو میں موجود ریسرچ ڈیزائن اسٹانڈرڈ آرگنائزیشن(آر ڈی ایس او)،کیر نیکس،میدھا اور حیدرآباد میں موجود ہندوستان بیاٹری لمیٹیڈ کی مشترکہ ایجاد ہے۔

اور ملک میں پہلی مرتبہ 11 اکتوبر 2012ء کو اس تجربہ کا آغازضلع وقارآباد کے حلقہ اسمبلی تانڈور میں موجود بشیر آباد منڈل کے ناوندگی اور منتٹی ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان کامیابی کے ساتھ انجام دیا گیا تھا۔ پھر دوبارہ 16 اکتوبر 2012ء کو اسی مقام پریہ تجربہ دہرایا گیا تھا۔

میڈیا اطلاعات کےمطابق اس کاوچ آلہ کو وندے بھارت ٹرینوں میں استعمال کیاجارہا ہے۔اور ملک بھر کی تمام ٹرینوں میں اس آلہ کو نصب کرنے کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپئے صرف ہوں گے۔اس رقم کو ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے ریلوے نظام اور ان میں سفر کرنے والے مسافرین کی قیمتی جانوں سے زیادہ اہم نہیں مانا جاسکتا۔!

مارچ 2022 میں وزیر ریلوے کی جانب سے لنگم پلی تا وقار آباد کے درمیان کیے گئے بھارت کا کاوچ آلہ کے تجربہ کی تفصیلی رپورٹ اور ویڈیو اس لنک پر ” 

وقارآباد: وزیر ریلوے اشونی ویشنو کی نگرانی میں”کاوچ آلہ” کے ذریعہ ایک ہی ٹریک پر دو ٹرینوں کے ٹکراؤ کو روکنے کا تجربہ کامیاب