اوڈیشہ ٹرین حادثہ : مقام حادثہ کے قریب موجود مندر کو مسجد اور جمعہ کا دن بتا کرنفرت پھیلانے کی کوشش

اوڈیشہ ٹرین حادثہ: مقام حادثہ کے قریب موجود
مندر کی عمارت کو مسجد اور جمعہ کا دن بتاکر نفرت پھیلانے کی کوشش
270 سے زائد اموات کے بعد بھی کوئی جوابدہی نہیں : راہل گاندھی

حیدرآباد : 04/جون
(سحرنیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

جمعہ 2 جون کی شام دیر گئے اوڈیشہ کے بالاسور میں پیش آئے افسوسناک ٹرین حادثہ میں سینکڑوں ہلاکتوں کےباعث سارے ملک میں غم اور افسوس کی لہر دؤڑ گئی ہے۔مقام حادثہ کے ویڈیوز اور تصاویر دیکھ کر ہر انسان غمگین ہے۔ہسپتالوں اور مختلف کھلے مقامات پر حادثہ میں مرنے والوں کی نعشوں کےویڈیوز اور تصاویر نے ہر سخت دل انسان کوبھی غمزدہ کرکے رکھ دیا ہے۔

سرکاری طور پر اس ٹرین حادثہ میں 275 مسافرین کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ میڈیا اور دیگر ذرائع کل دوپہر سے ان امواتوں کی تعداد 288 بتاتے ہوئے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ 300ے زائد اموات ہوئی ہیں۔!! جبکہ اس حادثہ میں 1،175 مسافر زخمی ہوئے ان میں سے 793 کو علاج کے بعد ڈسچارج کردیا گیا۔

سوشل میڈیا پر اس حادثہ کے بعد ایک لرزہ خیز ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں ایک غریب اور بے بس باپ نعشوں کے انبار میں اپنے جوان بیٹے کی نعش کو تلاش کررہا ہے۔تو کہیں گاڑیوں میں انتہائی بے دردی کے ساتھ پھینکی جانےوالی نعشوں کے ویڈیوز دیکھ کرسوشل میڈیا صارفین شدید غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔وہیں اوڈیشہ کے مختلف مقامات پر دؤڑتی ایمبولنس گاڑیاں نظر آرہی ہیں۔

اوڈیشہ کے بالاسور میں پیش آئے ان تین ٹرینوں کے خوفناک حادثہ اور اس میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں سے بلا مذہبی تفریق پورے سارے ملک کی فضامغموم ہے۔ایسے میں نفرتی ذہنوں کا جھنڈ دوبارہ ایک مخصوص طبقہ کومختلف جھوٹی افواہوں/تصاویر اور ویڈیوزکے ذریعہ نشانہ بنانے میں مصروف ہے۔!!جس پر کئی کھلے ذہن کے سوشل میڈیا صارفین بھی شدید تنقید کررہے ہیں کہ یہ گِدھ اپنی حرکتوں سے باز آنے والے نہیں ہیں۔انہیں صرف لاشوں پر سیاست کرنا ہے اور اسی طرح ہر معاملہ میں نفرت پھیلاتے ہوئے اپنے آقاؤں کو جوابدہی سے بچانا ہے۔کیونکہ ہر کوئی سوال پوچھ رہا ہے کہ اتنے بڑے حادثہ اور سینکڑوں ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے۔؟

وہیں گودی میڈیا کے زیادہ تر جرنلسٹ نماء گِدھ بھی اپنے کام پر لگے ہوئے ہیں۔وزیر ریلوے کی ایک تصویر ٹوئٹ اور ری۔ٹوئٹ کرتے ہوئے ان کی خدمات کی خوب ستائش کی جارہی ہےکہ وہ دن رات حادثہ کےمتاثرین کی نگرانی اور انہیں مدد پہنچانےمیں مصروف ہیں۔تودوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد وزیر ریلوے سے ان کا استعفیٰ طلب کر رہی ہے۔جبکہ وزیرریلوے کی تائید میں  ہیش ٹیگ بھی ٹرینڈ کیا جا رہا ہے۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ” 270 اموات کےبعد بھی کوئی احتساب نہیں! مودی حکومت ایسے دردناک حادثہ کی ذمہ داری لینے سے بھاگ نہیں سکتی۔ وزیراعظم فوری طور پر وزیر ریلوے کا استعفیٰ طلب کریں! "

ریل حادثہ کے اس سانحے کے بعد نفرتی ذہنوں کے جھنڈ نے گذشتہ رات ٹوئٹر پر ایک تصویر وائرل کرتےہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ٹرینوں کے اس بھیانک حادثہ اور سینکڑوں معصوم مسافروں کی ہلاکتوں کے ذمہ دار مسلمان ہیں۔!!

The Random Indian@ نامی ایک مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل جسکے 55 ہزار سے زائد فالوورز ہیں سے حادثہ کے مقام کی ایک تصویر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا گیاکہ” صرف بتارہا ہوں،کل جمعہ تھا ” (یاد رہےکہ یہ ٹرین حادثہ جمعہ کی شام پیش آیا تھا)۔

اس تصویر میں جائے حادثہ پر بکھرے ہوئے ٹرینوں کے ڈبوں کے قریب ایک سفید عمارت نظر آرہی ہے اور اس کی جانب اس تصویر میں تیر کا نشان بناکر دکھایا گیاہے۔بظاہر اس کا اشارہ مسجد کی جانب تھا۔اسی ٹوئٹر ہینڈل سے ٹرین حادثہ کے دوسرے دن یعنی کل 3 جون کو بھی ایک ٹوئٹ کیا گیا جس میں لکھا گیا کہ ” صرف معلومات کے لیے : بالاسور ( مقام حادثہ) غیر قانونی روہنگیائی مسلمانوں کا گڑھ ہے۔"

حادثہ کے مقام کی جو تصویر اس ہینڈل سے ٹوئٹ کی گئی تھی اس کو باقاعدہ اوپر سے کاٹا گیا ہے۔اور دیکھتے دیکھتے یہ ٹوئٹ سینکڑوں کی تعداد میں ری۔ٹوئٹ کیا گیا اور اس پر مختلف مخالف مسلم نفرتی کمنٹ کیے گئے۔عبدل کا ٹرینڈ بھی چلا گیا۔یاد رہے کہ نفرتیوں کا یہ جھنڈ مسلمان لکھنے کے بجائے عبدل کا لفظ استعمال کرتا ہے۔

اس ٹوئٹ کے فوری بعد فیاکٹ چیکر محمد زبیر نے اس تصویر اور اس میں مسجد کے طور پر نشاندہی کی گئی عمارت کےمتعلق انکشاف کیا کہ یہ ” بہا نگا اسکان مندر” ہے نہ کہ مسجد۔

 

اس جھوٹ کو آشکار کیے جانے کے بعد محمد زبیر کو ٹوئٹر پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔بعدازاں مذکورہ بالا ٹوئٹر ہینڈل سے اس نفرتی ٹوئٹ کو ڈیلیٹ کر دیا گیا۔لیکن تب تک اس کے اسکرین شاٹس ٹوئٹر کے علاوہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل کردئیے گئے۔یعنی جس مقصد سے یہ کام کیا گیا تھا وہ پورا ہوگیا اور اس حادثہ کا ذمہ دارمسلمانوں کو قرار دینے کی کوشش کی گئی۔تعجب ہے کہ ایسے ٹوئٹس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جاتی۔!!

حادثہ کے مقام کی اصل تصویر ، جسے بدنیتی کے ساتھ اوپر سے کاٹا گیا۔

وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے آج اتوار 4 جون کو کہاہے کہ بالاسور ٹرین حادثہ الیکٹرانک انٹر لاکنگ سسٹم میں تبدیلی کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ اب یہ تفتیش کا معاملہ ہے کہ یہ کس نے کیا اور کیسے ہوا اس کی تحقیقات جاری ہیں۔

" سوشل میڈیا پر چلائے جارہے مختلف پروپگنڈہ پر نامور صحافی ساکشی ”  

https://www.facebook.com/sakshijoshi85/videos/270110432244128

 

محکمہ ریلوے اس ٹرین حادثہ کو سگنلنگ کی غلطی کے امکان کے طور پر دیکھ رہا ہے۔انڈین ایکسپریس نے ذرائع سے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سپروائزرز کے ایک ملٹی ڈسپلنری مشترکہ معائنہ نوٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیاگیاکہ کورومنڈل سوپر فاسٹ ایکسپریس کو مقررہ مین لائن سےگزرنے کے لیے گرین سگنل دیا گیاتھا اور پھرسگنل ہٹا دیا گیا تھا۔لیکن یہ ٹرین لوپ لائن میں داخل ہوئی اورایک مال گاڑی سے ٹکرا کر پٹری سے اتر گئی۔ اسی دوران ڈاون لائن پر یشونت پور سوپر فاسٹ ایکسپریس ٹرین آئی اور ان سے ٹکرانے کے باعث اس کے دو ڈبے پٹری سے اتر گئے۔

” یہ بھی پڑھیں ” 

اوڈیشہ ٹرین حادثہ : مہلوکین کی تعداد 288 تک پہنچ گئی، 900 مسافر زخمی، وزیراعظم جائے حادثہ پر پہنچ گئے، امدادی کاموں کا جائزہ ،تفصیلات کا حصول

 

اوڈیشہ کے بالاسور میں کورومنڈل ایکسپریس ٹرین مال گاڑی سے ٹکرا گئی، کئی مسافروں کی ہلاکت کا خدشہ