پروفیسر عبدالوہاب قیصر کا انتقال ،ملت ایک مشفق استاد، ماہرِ تعلیم اور محسنِ اردو سے محروم
شکاگو (امریکہ) میں تعزیتی اجلاس، تعلیمی، ملی، ادبی اور سماجی خدمات کو خراجِ عقیدت
شکاگو/حیدرآباد: 24 ۔جولائی (سحرنیوزبیورو/چوائس نیوز)
ملت ِ اسلامیہ، علمی و ادبی حلقوں اور اردو دنیا کے لیے نہایت افسوس اور صدمہ کی خبر ہے کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کے سابق کنٹرولر آف امتحانات، سابق قائم مقام وائس چانسلر اور ممتاز ماہرِ تعلیم پروفیسر عبدالوہاب قیصر جمعہ 24 جولائی 2026 کو انتقال کر گئے۔
ان کے انتقال کی خبر پر امریکہ کے شہر شکاگو میں مقیم سینئر صحافی، چیف ایڈیٹر ریڈرز چوائس اردو ویکلی اور سابق قائدِ طلبہ ممتاز کالج محمد محمود اظہر کی صدارت میں ایک ہنگامی تعزیتی اجلاس منعقد کیاگیا، جس میں علمی، ادبی، صحافتی اور سماجی شخصیات نے شرکت کرتے ہوئے مرحوم کی بے مثال خدمات پر زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اجلاس کے آغاز میں مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کی گئی، بعد ازاں دعائے مغفرت کا اہتمام ہوا۔ مقررین نے کہا کہ پروفیسر عبدالوہاب قیصر کا انتقال صرف ان کے اہل خانہ کا ہی نہیں بلکہ پوری اردو دنیا، تعلیمی برادری اور ملتِ اسلامیہ کا ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی علمی بصیرت، سادہ مزاجی، خوش اخلاقی، دیانت داری اور انتظامی صلاحیتیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
صدراجلاس محمد محمود اظہر نے اپنے خصوصی تعزیتی پیغام میں کہا کہ پروفیسر عبدالوہاب قیصر نے ممتاز کالج سے اپنی تدریسی و تعلیمی خدمات کا آغاز کیا اور بعد ازاں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں مختلف اہم انتظامی و تدریسی مناصب پر فائز رہتے ہوئے ادارہ کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
انہوں نے کنٹرولر آف امتحانات، رجسٹرار کے فرائض، مختلف انتظامی ذمہ داریوں اور ایک مرحلے پر قائم مقام وائس چانسلر کی حیثیت سے بھی نہایت کامیابی کے ساتھ خدمات انجام دیں۔انہوں نے کہا کہ مرحوم اردو زبان میں سائنسی علوم کو فروغ دینے والے ممتاز دانشور تھے۔
انہوں نے سائنسی موضوعات پر متعدد معیاری کتابیں تصنیف کیں، تحقیقی و علمی مضامین تحریر کیے اور اردو زبان میں جدید سائنسی معلومات کی ترویج کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی تصانیف اور تحقیقی سرمایہ آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔
محمد محمود اظہر نے کہا کہ پروفیسر وہاب قیصر کی انکساری، نرم گفتاری، شگفتہ مزاجی اور طلبہ و اساتذہ سے بے لوث محبت ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔ وہ ہمیشہ نوجوانوں کی رہنمائی، اردو زبان کی خدمت اور معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں رہے۔حیات و خدمات پروفیسر عبدالوہاب قیصر کا شمار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے بانی دور کے ممتاز ماہرینِ تعلیم میں ہوتا تھا۔
انہوں نے یونیورسٹی میں تقریباً سات اہم انتظامی و تدریسی ذمہ داریاں نبھائیں۔ بطور کنٹرولر آف امتحانات امتحانی نظام کو شفاف اور جدید خطوط پر استوار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اکتوبر 2014 میں وظیفۂ حسنِ خدمت پر سبکدوش ہونے کے باوجود وہ علمی، ادبی اور تحقیقی سرگرمیوں سے مسلسل وابستہ رہے۔وہ اردو زبان میں سائنسی علوم کے فروغ کے علمبردار تھے۔
ان کی متعدد کتابیں، تحقیقی مقالات اور علمی مضامین ملک و بیرونِ ملک کے علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ انہوں نے اردو کو جدید علوم سے ہم آہنگ کرنے کی عملی کوششیں کیں اور اس میدان میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔والدِ محترم کو بھی خراجِ عقیدت اجلاس میں مقررین نے مرحوم کے والد مرحوم عبدالستار صاحب کو بھی بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا، جو اردو شریف اسکول کے نہایت مشفق، باکردار اور قابلِ احترام استاد تھے۔ مقررین نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی تعلیم، کردار سازی اور طلبہ کی تربیت کے لیے وقف کر دی تھی، اور انہی اعلیٰ اقدار کا عکس پروفیسر عبدالوہاب قیصر کی شخصیت میں نمایاں نظر آتا تھا۔
اجلاس کے اختتام پر مرحوم کی مغفرت، درجات کی بلندی، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور تمام پسماندگان خصوصاً اہلیہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔ شرکائے اجلاس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پروفیسر عبدالوہاب قیصر کی علمی، تحقیقی، تعلیمی اور اردو زبان کے فروغ کے لیے انجام دی گئی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوں گی۔


