اس جین زی کو کس نے یہ سب سکھایا؟ احتجاج کے دوران نعروں، میمز اور پوسٹرز پر برہمی کیوں؟

جو ہم  پہ گزرے تھے رنج سارے
جو خود  پہ  گزرے  تو  لوگ  سمجھے

اس جین زی کو کس نے  یہ سب سکھایا؟
احتجاج کے دوران نعروں،میمز   اور  پوسٹرز  پر  برہمی کیوں؟

نیٹ  NEET پیپر لیک کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے دہلی کے جنتر منتر  پر ہونے  والے احتجاج کے دوران جین۔زی پر تنقید کی جا رہی ہے کہ اس نے وزیراعظم نریندرمودی کے خلاف ہتک آمیز نعرے لگائے اور پوسٹر بنائے جس سے انکار ممکن نہیں ہے ۔ایسی نعرہ اور  پوسٹر بازی یقیناً مہذب معاشرہ  میں ناقابل قبول ہی مانی جائے گی۔

سوشل میڈیا پر اس  پر بحث جاری ہے کہ ان نوجوانوں نے وزیراعظم کے عہدہ کی عزت کوپامال کیا ہے اور 75سالہ  بزرگ نریندر مودی کے خلاف اس قسم کی نعرہ بازی کے ذریعہ ان کی بے عزتی کی گئی ہے۔

اس کے خلاف بی جے پی حامیوں کی جانب سے جین زی کے چند چہروں کو سوشل میڈیا پر ٹرول کیا گیاحتیٰ کہ ایک نابالغ لڑکی کو جم کر نشانہ بنایا گیا ، اس کا رہائشی پتہ بھی ڈھونڈھ کر نکالا گیا اطلاعات کے مطابق اس 15سالہ لڑکی کے خلاف پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے ۔بعدازاں اس لڑکی نے اپنا ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے احتجاج کے دوران اس کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف اہانت آمیز الفاظ کے استعمال  پر  پورے ملک سے معافی مانگی، اس کے باوجود اس لڑکی کی ٹرولنگ اور دھمکیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔!!

اسی دوران وزیراعظم نریندر مودی نے انسٹاگرام جسے زیادہ تر نوجوانوں کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم کہا جاتا ہے پر اب تک پانچ ویڈیوز بنا کر انہوں نے جین زی سے قریب ہونے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرارتی بچوں نے اس احتجاج کے دوران انہیں اور ان کی آنجہانی ماں کو بھی گالیاں دیں  تاہم وہ ان سب کو معاف کرتے ہیں۔لیکن اس کے بعد بھی جین زی کے خلاف ایف آئی آر  اور ان کی تلاشی کے الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔!

اداکارہ  و  بی جے پی ایم  پی کنگنا راناوت نے جین زی کو گٹر  جنریشن قرار  دیتے ہوئے کئی مشتعل باتیں کہی ہیں۔ جن کے خلاف سوشل میڈیا پر جین زی ، ان کے سرپرستوں اور خود  گودی میڈیا کے  چند اینکرز ان کی مخالفت کر رہے ہیں اور انہیں ان کا ماضی یاد دلایا جارہا ہے!!

بی جے پی کے قومی صدر  نتن نبن نے اپنے خطاب میں جین زی کو کاکروچ اور وائرس قرار  دیتے ہوئے انہیں ملک کو کھوکھلا کرنے والے اور ٹکڑے ٹکڑے گینگ تک کہہ  دیا جو ملک کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

کیرالہ کی ایک بی جے پی اور آرایس ایس سے وابستہ شخصیت ٹی جی موہن داس نے اپنے ویڈیو میں یہاں تک کہہ دیا کہ اس احتجاج میں جو لڑکیا ں شریک تھیں انہیں عصمت ریزی پسند ہے اور اگر ان کے ہاتھ میں کچھ ہوتا تو وہ احتجاجیوں کو گولی مار دیتے۔بہرحال بی جے پی ، وزیراعظم مودی کے حمایتی  اور گودی میڈیا اسی کام پر لگے ہوئے ہیں کہ وزیراعظم کے خلاف یہ سب کرنے کی ہمت کیسے ہوئی؟

یہاں سوال یہ   پیدا ہوتا ہے کہ جین زی کو یہ گالیاں دینا، میمز اور  پوسٹرز  بنانا کس نے سکھایا ؟  کیوں وہ اتنے بے خوف ہیں؟ جو بات بات پر ایسے الفاظ استعمال کرتے  ہیں جن کو برتنے میں مہذب لوگ ہزار  بار سوچتے ہیں!!

یوٹیوب پرکئی سال سے کچھ ایسے چینل موجود  ہیں جن کے سبسکرائبرز کی تعداد ملین میں ہے جن میں جین زی کی تعداد زیادہ ہے ان کے ویڈیوز  پر کروڑہا ویوز بھی آتے ہیں جہاں ہر  ناپسندیدہ اور  گالی نما لفظ کو انتہائی آسانی کے ساتھ مذاق کی شکل میں بولا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر کئی سال سے ایک نئی نسل کے ایسے جنگلی پودے اُگ آئے ہیں جن کو ٹرول آرمی اور آئی ٹی سیل کا نام دیا گیا ہے۔سوشل میڈیا پر  ہر سیاسی جماعت کا اپنا اپنا آئی ٹی سیل ہے، تاہم ان میں زیادہ تر اتنے بدتمیز، جاہل لوگ بھی موجود  ہیں جن کا تعلق ایک خاص نظریہ سے ہے ان  پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ بطور ڈیجیٹل مزدور  یہ کام کر رہے ہیں۔ جس کا ذکر سوشل میڈیا پر ہی کیا جاتا ہے،ان کے کوئی زیادہ فالوورز  نہیں ہوتے اور ان کی زیادہ تر آئی ڈیز بھی فیک ہوتی ہیں ۔

ہندو۔مسلم دونوں ناموں سے بنائی گئیں زیادہ تر ان فیک آئی ڈیز  سے اور کئی مصدقہ سوشل میڈیا اکاونٹس سے بھی کمنٹس کے ذریعہ ہر کسی کو بے خوف گالیاں لکھی جاتی ہیں، خواتین کو عصمت ریزی کی کھلی دھمکیاں دی جاتی ہیں، ان کے انباکس میں دھمکیاں دیتے ہوئے ان کی بے عزتی کی جاتی ہے، انہیں مختلف القاب سے اور  مختلف ناپسندیدہ اور  قابل گرفت الفاظ سے نوازا جاتا ہے۔ان کے میمز  بنائے جاتے ہیں چاہے وہ کتنی ہی بڑی شخصیت ہوں ان کی خدمات اور  قابلیت کو بھی خاطر میں نہیں لایا جاتا۔!!

حد تو یہ ہے کہ یہ  بابائے قوم مہاتما گاندھی، جواہر لال نہروسمیت مختلف مجاہدین آزادی کے خلاف بھی اہانت آمیرالفاظ کااستعمال کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر  گاندھی جینتی کے مواقع  پر گوڈسے  کی تائید کا  ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر وایا جاتا ہے۔!!

کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ اسی آئی ٹی سیل کی جانب سے ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کے لیے اور ان کے مذہب کے خلاف کئی سال سے ایسے ایسے پوسٹس، جھوٹے اور  بناوٹی ویڈیوز اور کمنٹس استعمال کیے جاتے ہیں کہ جن کا  ذکر کرنا بھی یہاں مناسب نہیں ہے۔اسی آئی ٹی سیل کی جانب سے عبدل ،  حلالہ   کی پیدائش اور پنکچر والا  جیسے اہانت آمیز الفاظ انتہائی آسانی کے ساتھ بے خوف استعما ل کیے جاتے ہیں۔

چند سال قبل ملک کی مسلم خواتین کوآن لائن فروخت کرنے کے نام پر بلی ڈیل نامی ویب سائٹ تک بنائی گئی۔اس کے خلاف کیا کارروائی کی گئی اس کی اب تک کوئی اطلاع نہیں ہے! گالیوں کے معاملہ میں رہی سہی کسر کچھ اسٹانڈاپ کامیڈین اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز نے بھی پوری کردی۔

جین زی کے  صرف میمز ، نعروں اور پوسٹرز کے خلاف انہیں بھلا  برا کہنے والوں  پر احمد سلمان کی غزل کا یک شعر صادق آتا ہے کہ

جو ہم  پہ گزرے تھے رنج سارے
جو خود   پہ  گزرے تو لوگ سمجھے

اس کے علاوہ گذشتہ چند سال کے دوران گالیوں  پر مشتمل سینکڑوں  گانے بنائے گئے، مذہبی مقامات کے سامنے بلا خوف و خطر یہ گالیاں دی جاتی ہیں اور ایسے گانے بجائے جاتے ہیں لیکن وہاں موجود پولیس مکمل خاموشی اختیار کرلیتی ہے۔!!

مخصوص ذہنیت کے کئی سیاسی قائدین اور پارٹیوں کے نمائندے بھی ایسے ہیں جو ٹی وی ڈیبیٹ اور سوشل میڈیا پر  پوسٹ کیے گئے ویڈیوز میں گالیاں بکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔لوک سبھا میں ایم پی کنور دانش علی کے خلاف کہے گئے  بی جے پی کے ایم  پی رمیش بدھوری کی وہ گالیاں آج تک سب کے  ذہن میں تازہ ہیں ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟ جبکہ پارلیمنٹ کو مقدس مقام قرار دیا جاتا ہے۔! اب اسی رمیش بدھوری نے جنتر منتر  پر ہوئے احتجاج کو پنکچر والوں سے جوڑ  دیا ہے!!

اگر حکومت اور عدالتیں اپنی جانب سے سوشل میڈیا  پر اس کی شروعات میں ہی اس  پر نکیل کستی،مقدمات اور گرفتاریوں کے ذریعہ ان کی سزا  کو ممکن بنایا جاتا  تو آج  شاید جین زی اس قدر آزاد اور گالی باز  نہ ہوتی۔!!

آج جو جین زی عام زبان میں سڑکوں اور سوشل میڈیا پر گالیاں دینے اور لکھنے کو مذاق سمجھ بیٹھا ہے اس نے یہ گالیاں اور یہ حرکتیں اپنے گھروں سے تو نہیں سیکھیں، یہ ایک الگ ہی نسل ہے۔اس جین زی نے یہ سب سوشل میڈیا، ٹرول آرمی، آئی ٹی سیل اور  دیگر  ذرائع سے ہی سیکھا ہے اور آج ہمیں وہی واپس لوٹا رہا ہے!!    بقول ساحر لدھیانوی

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ  اس جین زی نے ملک بھر میں اپنے اس احتجاج کے  ذریعہ  بی جے پی اور آر ایس ایس کے سحر کو رؤند تے ہوئے اس ملک کے عوام بالخصوص اپوزیشن جماعتوں کو  پیغام دے دیا ہے کہ "ڈرو مت” اور اس بات سے انکاربھی ممکن نہیں کہ جس کام کی ہمت اپوزیشن جماعتیں گذشتہ 12 سال سے نہیں کرسکیں اسی کام کو سڑکوں پر آکر انہوں نے مذاق مذاق میں کر  دکھایا ہے۔!!

اب بھی وقت ہے کہ حکومتیں اور عدالتیں سوشل میڈیا پر آئی ٹی سیل، ٹرول آرمی ، بے دھڑک گلیاں لکھنے اور  بکنے والے ایسے فیک اکاونٹس کی نشاندہی کریں، ان کی گرفتاریوں کو یقینی بنائیں ، ورنہ آنے والی نسل جسے ” جین الفا ” کا نام دیا گیا ہے  مزید بے قابو اورخودسر نکل آئے گی اس کا نمونہ بھی سوشل میڈیا  پر نظر آنے لگا ہے  جو  بڑوں کے ساتھ مل کرایسے ایسے ویڈیوز بنا  رہے ہیں جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

جین زی ، جین الفا ،    ملینیل جین    اور جنریشن ایکس کے متعلق : 

🛑 جین زی (Generation Z) سے مراد وہ افراد ہیں جو سنہ 1990 کی دہائی کے آخر سے لے کر 2010 کے وسط کے درمیان پیدا ہوئے۔ یہ پہلی ایسی نسل ہے جو پیدا ہوتے ہی ڈیجیٹل دنیا، اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کے دور سے جڑی رہی ہے۔

🔺جین الفا (Generation Alpha) سے مراد وہ نسل ہے جو سنہ 2010ء سے 2024ء کے درمیان پیدا ہوئی ہے۔ یہ جنریشن زی کے بعد آنے والی نسل ہے جس نے مکمل طور پر ڈیجیٹل، اسمارٹ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں آنکھ کھولی ہے۔

💫 ملینیل جین” (Millennial Generation) سے مراد وہ نسل ہے جو 1981ء اور 1996ء کے درمیان پیدا ہوئی۔ اسے "جنریشن Y” بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنے دورِ جوانی میں پروان چڑھتے دیکھا ہے۔

❌ جنریشن ایکس (Generation X) سے مراد وہ نسل ہے جو 1960ء کی دہائی کے وسط اور 1980ء کی دہائی کے شروع (تقریباً 1965ء سے 1980ء) کے درمیان پیدا ہوئی۔

  یحییٰ خان ۔  ایڈیٹراِن چیف/ سحرنیوزڈاٹ کام