کینیڈا میں این آر آئی مکان مالک اور کرایہ دار کے درمیان تنازع
خاتون گرفتار ، سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل، انسٹاگرام پر ویڈیوز کی سیریز
حیدرآباد : 12۔ستمبر
(سحرنیوزبیورو/سوشل میڈیا ڈیسک)
کینیڈا کی ایک این آرآئی خاتون مالک مکان اور مقامی کرایہ دار کے درمیان تنازع کے ویڈیوز کا ان دنوں سوشل میڈیا پر سیلاب آیا ہوا ہے۔
ویڈیوز اور مختلف میڈیا ذرائع سے دستیاب اطلاعات کے مطابق تنازع اس وقت شروع ہوا جب کرایہ دار اپنے دوست کے ساتھ مکان کے احاطہ میں باربی کیو بیف تیار کر رہا تھا۔ خاتون مکان مالک نے جائیداد کو نقصان پہنچنے کے خدشے کا اظہار کیا، جس کے بعد دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔
بعدازاں کرایہ دار نے متعدد ویڈیوزسوشل میڈیا پرجاری کرتے ہوئے مکان مالک پر مبینہ ہراسانی، بغیر اجازت گھر میں داخل ہونے اور کرایہ کے مکان کے تالے تبدیل کرنے جیسے الزامات عائد کیے۔ایک ویڈیو میں مکان کے دروازے کے غائب ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔
معاملہ پولیس تک پہنچا اور رپورٹ کے مطابق بھارتی نژاد مکان مالک خاتون جن کی شناخت راج تیوانا کے طور پر کی گئی ہے کو کینیڈا پولیس نے گرفتار کرلیا۔
تاہم کرایہ دار کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز اور الزامات سے پورے معاملہ کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوتی۔جب تک کہ اس خاتون کے ذاتی مؤقف اور پورے واقعات کی آزادانہ تصدیق نہ ہو۔اس معاملہ میں پولیس کی جانب سے اب تک کوئی بیان بھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔!
یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ اس خاتون اور کرایہ دار کے درمیان جاری اس قضیہ کے سارے ویڈیوز انسٹاگرام کے اکاونٹ tiwanafarmservivor@ پر پوسٹ کیے گئے ہیں ۔یہاں حیرت کی بات یہ ہے کہ اس انسٹاگرام اکاونٹ کو اسی ماہ ستمبر میں بنایا گیا ہے ،تاہم اس کی لوکیشن دستیاب نہیں ہے۔ اس اکاونٹ کے 50 ہزار 700 سے زائد فالوورز بن گئے ہیں، اور اس میں اضافہ کا سلسلہ جاری ہے۔
اس انسٹاگرام اکاونٹ پر اس خاتون کی گرفتاری والے ویڈیو کو اب تک 10.8 ملین سے زائد صارفین نے دیکھا ہے، اس ویڈیو کو سات لاکھ سے زائد لائیک حاصل ہوئے ہیں ، 62 ہزار مختلف کمنٹس کے ساتھ 3 لاکھ 28 ہزارسے زائد صارفین نے اس ویڈیو کو شیئر کیا ہے۔
ہند نثراد اس خاتون اور کرایہ دار کے درمیان جاری اس تنازع کی اصل وجوہات کا علم خاتون کی وضاحت کے بعد ہی سامنے آسکتا ہے۔ یکطرفہ ویڈیوز کو دیکھ کر کوئی حتمی فیصلہ کرنا ٹھیک نہیں ہوگا۔!!
کینیڈا کے اس مخصوص واقعہ کو ہندوستان میں بیف کے نام پر ہونے والے واقعات سے براہِ راست جوڑ کرسوشل میڈیا پر پوسٹس اور کمنٹس کیے جا ر ہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر زیر بحث یہ واقعہ ایک بنیادی سوال ضرور اٹھاتا ہے کہ کسی بھی معاشرہ میں ہر فرد کو اپنی پسند کے مطابق کھانے، رہنے اور اپنی زندگی گزارنے کا حق حاصل ہونا چاہئے، بشرطیکہ اس کے عمل سے قانون یا کسی دوسرے شخص کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔
اختلافِ رائے اپنی جگہ لیکن کسی کے کھانے یا طرزِ زندگی کو بنیاد بنا کر اسے ہراساں کرنا یا اس کی تذلیل کرنا کسی بھی مہذب معاشرہ کے لیے قابلِ قبول نہیں ہونا چاہئے۔
اس واقعہ کے ویڈیوز ⬇️

