وقارآباد کے سپوت رحمت پاشا انسانیت کی عالمی علامت بن گئے، آسٹریلیا کے سڈنی میں کئی جانیں بچائیں، مستقل رہائش کا اعزاز حاصل

وقارآباد کے سپوت رحمت پاشا انسانیت کی عالمی علامت بن گئے
آسٹریلیا کے سڈنی میں کئی جانیں بچائیں، مستقل رہائش کا اعزاز حاصل
چیف منسٹر  ریونت ریڈی اور  کارگزار صدر  بی آر ایس کے ٹی آرنے تہنیت پیش کی

حیدرآباد / وقارآباد: 05۔اگست ( سحر نیوزبیورو)

انسانیت کی خدمت نہ کسی سرحد کی محتاج ہوتی ہے، نہ مذہب، زبان یا قومیت کی۔ جب کوئی شخص صرف انسان ہونے کے ناطے دوسرے انسان کی جان بچانے کے لیے آگے بڑھتا ہے تو وہ پوری دنیا کے لیے امید اور ہمت کی علامت بن جاتا ہے۔ریاست تلنگانہ کے ضلع وقارآباد کے سپوت رحمت پاشانے  بھی اپنی بے مثال جرات اور انسان دوستی سے یہی  پیغام دنیا تک پہنچایا۔

گذشتہ سال کے اواخر میں آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بانڈی جنکشن میں  پیش آنے والے ہولناک حملے کے دوران، جب ہر طرف خوف، چیخ و پکار اور بھگدڑ کا ماحول تھا، رحمت پاشا اپنی جان کی پروا کیے بغیر زخمیوں کی مدد کے لیے  دوڑ  پڑے۔ انہوں نے کئی گھنٹوں تک امدادی کارروائیوں میں رضاکارانہ حصہ لیا، زخمیوں کو حوصلہ دیا، انہیں محفوظ مقامات تک پہنچانے میں مدد کی اور ایمبولینس عملے کا بھرپور ساتھ دیا۔اطلاعات کے مطابق انہوں نے 20 تا 30 انسانی جانیں بچائیں۔

رحمت پاشا اس وقت سڈنی میں اوبیر  ڈرائیور کے طور  پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ ایک مسافر کو منزل پر چھوڑ کر واپس آ رہے تھے کہ اچانک حملے کی اطلاع ملی۔ابتدا میں انہیں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا، لیکن جیسے ہی حقیقت سامنے آئی، انہوں نے اپنی گاڑی ایک طرف کھڑی کی اور انسانی جانیں بچانے کے لیے جائے وقوعہ کی طرف دوڑ گئے۔

بعد ازاں آسٹریلیا بھر میں ان کی انسان دوستی اور بہادری کو بے حد سراہا  گیا۔ آسٹریلوی حکومت نے ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں مستقل رہائش (Permanent Residency)عطا کی،  جبکہ ان کے اہلِ خانہ کے لیے بھی آسٹریلیا میں رہائش کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

رحمت پاشا ان دنوں اپنے آبائی وقارآباد ضلع مستقر آئے ہوئے ہیں۔گاندھی کالونی وقارآباد کے ساکن محمد عظمت پاشا ان کے والد ہیں جن کی کرانہ شاپ ہے۔آج سحرنیوز سے بات کرتے ہوئے رحمت پاشا نے بتایا کہ وہ 2022 میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آسٹریلیا روانہ ہوئے تھے ۔جہاں وہ تعطیلات کے موقع پر اوبیر چلایا کرتے تھے۔

انہیں دو لڑکیاں اور ایک لڑکا ہے۔انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے  بتایا کہ انہیں آسٹریلیا کی حکومت نے مستقل رہائش کا اعزاز عطا کیا ہے  یہ ان کے لیے خوشی کا باعث ہے ۔رحمت پاشا فی الوقت اپنی فیملی کے ساتھ آسٹریلیا منتقل نہیں ہونا چاہتے ۔

کل منگل کے دن چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی نے ان سے ملاقات کی، انہیں تہنیتی شال پیش کی اور انسانیت کے لیے انجام دی گئی ان کی غیر معمولی خدمات کو سراہتے ہوئے مبارکباد  پیش کی۔ اس موقع پر مختلف شخصیات بھی موجود تھیں۔

جبکہ سابق رکن اسمبلی وقارآبادو صدر ضلع بی آرایس ڈاکٹر میتکو آنند کیساتھ رحمت پاشا نے حیدرآباد میں کارگزار صدر  بی آر ایس و سابق ریاستی وزیر کے ٹی آر سے ملاقات کی۔اس موقع پر کے ٹی آر نے رحمت پاشا کی زبردست سراہنا کی اور انہیں ایک یادگار مومنٹو  پیش کیا۔اور اس ملاقات کی تفصیلات ایکس (سابقہ ٹوئٹر) ،فیس بک اور انسٹاگرام پر پوسٹ کرتے ہوئے کے ٹی آر نے رحمت پاشا کی ستائش کی کہ انہوں نے آسٹریلیا میں انسانیت نوازی کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے تلنگانہ اور ملک کا نام روشن کیا ہے۔

گذشتہ سال 14 ڈسمبر کے دہشت گردانہ حملہ کے بعد اس وقت آسٹریلیائی میڈیا کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں رحمت پاشا نے کہا تھا کہ اس روز انہوں نے نہ کسی کا مذہب دیکھا، نہ رنگ و نسل اور نہ ہی قومیت،  بلکہ صرف زخمی اور بے بس انسانوں کو دیکھا۔انہوں  نے کہا "میں کسی مذہب کے لوگوں کی نہیں بلکہ انسانوں کی مدد کر رہا تھا۔ مجھے بچپن سے یہی سکھایا گیا ہے کہ انسانیت سب سے بڑھ کر ہے۔”

رحمت پاشا نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اس دل دہلا دینے والے واقعہ کے بعد وہ کئی ماہ تک ذہنی دباؤ کا شکار رہے، تاہم انہیں اس بات کا اطمینان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مشکل گھڑی میں انسانوں کے کام آنے کی توفیق عطا فرمائی۔

رحمت پاشا کی داستان اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ دنیا میں نفرت اور تشدد کے درمیان بھی انسانیت کے چراغ روشن رہتے ہیں۔ ان کی بہادری نے نہ صرف  آسٹریلیا بلکہ ہندوستان، خصوصاً تلنگانہ اور ضلع وقارآباد کا نام بھی عالمی سطح پر روشن کیا ہے۔

آج جب دنیا میں مذہب، نسل، زبان اور قومیت کے نام پر تقسیم کی خبریں زیادہ سنائی دیتی ہیں، ایسے وقت میں رحمت پاشا جیسے لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسانیت سب سے بڑی شناخت ہے۔

رحمت پاشا نے کسی سے اس کا مذہب نہیں پوچھا، کسی کی زبان نہیں دیکھی اور نہ ہی یہ جاننے کی کوشش کی کہ سامنے والا کس ملک سے تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے صرف ایک زخمی انسان کو دیکھا اور اس کی مدد کے لیے اپنا فرض ادا کیا۔

رحمت پاشا صرف ضلع وقارآباد یا تلنگانہ کا فخر نہیں، بلکہ ہر اس انسان کے لیے باعثِ افتخار ہیں جو محبت، ہمدردی اور خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتا ہے۔

چیف منسٹر ریونت ریڈی کا تعلق چونکہ وقارآبادضلع سے ہی ہے تو ضروری ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے رحمت پاشا کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں تلنگانہ اور وقارآباد  کا نام ساری دنیا میں روشن کرنے پر اعزاز سے نوازنے  پر غور کریں ان کے خاندان کی مدد  کو یقینی بنائیں۔ حکومت تلنگانہ کے اقلیتی مشیر جناب محمد علی شبیر اور ریاستی وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین بھی اس جانب توجہ دیں اور رحمت پاشا  کی حوصلہ افزائی کی جانب چیف منسٹر کو متوجہ کریں۔

" یہ بھی پڑھیں "

اس جین زی کو کس نے یہ سب سکھایا؟ احتجاج کے دوران نعروں، میمز اور پوسٹرز پر برہمی کیوں؟