حسرت جے پوری : جانے کہاں گئے وہ دن سے سن سائبا سن تک

حسرت جے پوری: جانے کہاں گئے وہ دن سے سن سائبا سن تک
دو فلم فیئر ایوارڈ یافتہ،دو ہزارسے زائدمقبول گیتوں کے خالق

بات اکتوبر1988سے شروع ہوتی ہے ،جب بنگلور سے شائع ہونے والے اس وقت کے مشہور ہفت روزہ فلم ایڈوانس میں نامور گیت گار حسرت جے پوری کا ایک انٹرویوشائع ہوا تھا۔ میں نے پوسٹ کارڈ کے ذریعہ حسرت صاحب کو انٹرویو کی پسندیدگی اور فلمی دنیا میں ان کے کام کی ستائش کی تھی ۔اس ہفت روزہ کے لیے میں اس وقت فلمی مضامین اورافسانے لکھا کرتا تھا۔

چند دن بعد ہی حسرت صاحب کے ہاتھ سے تحریر کردہ ایک پوسٹ کارڈ مجھے موصول ہوا جس میں شکریہ کے ساتھ لکھا تھا کہ فلم ایڈوانس کا وہ شمارہ انہیں موصول نہیں ہوا اورانہوں نے مجھ سے خواہش کی تھی کہ میں بذریعہ ڈاک فلم ایڈوانس کا وہ شمارہ انہیں روانہ کروں۔ میں نے فوری وہ شمارہ انہیں روانہ کر دیا ۔چند دنوں بعد حسرت صاحب کا ایک اور پوسٹ کارڈٖ مجھے موصول ہوا جس میں شکریہ کے ساتھ انہوں نے اپنائیت والے انداز میں لکھا تھا کہ میں جب کبھی بمبئی(ممبئی) آؤں تو ان سے ضرور ملاقات کروں۔

5 ڈسمبر 1988کو میں کیلاش بلڈنگ کھار، بمبئی میں موجود حسرت جے پوری کی رہائش گاہ پہنچ گیا۔بات چیت کے بعد میں نے ان سے گذارش کی کہ وہ اس وقت دہلی سے شائع ہونے والےمقبول اسپورٹس ماہنامہ اخبار نوجواںکے لیے مجھے انٹرویو دیں تو وہ تیار ہوگئے اس طرح زائد از پانچ گھنٹوں تک میں نے ان سے مختلف سوالات کیے جس کے انہوں نے کھل کر جواب بھی دئیے ۔

اس وقت پانچ گھنٹے طویل انٹرویو کے دوران مجھے محسوس ہوا تھا کہ اتنا بڑا گیت کار اتنی سادہ طبیعت کا مالک بھی ہوسکتا ہے۔؟ یہ انٹرویو ماہنامہ اخبار نوجواں کے فروری یا مارچ 1989 کے شمارہ میں شائع ہوا تھا(افسوس کہ وہ شمارہ میرے پاس موجود نہیں ہے)۔ اسی گفتگو/انٹرویو کے اقتباسات کو میں نے یہاں مضمون کی شکل دی ہے۔چونکہ 17ستمبر 2026کو حسرت جے پوری کی 27ویں برسی تھی تو یہ مضمون اس عظیم گیت کار کے لیے خراج عقیدت ہے۔ (محمد یحییٰ خان)

حسرت جے پوری 15 اپریل 1922ءکو راجستھان کےگلابی شہر جئے پور میں پیدا ہوئے۔جن کا اصل نام محمداقبال حسین تھاچونکہ وہ حسرت موہانی سے زیادہ متاثر تھے تو اپنا تخلص بھی حسرت جے پوری رکھ لیا اور اپنے نانا فدا حسین کے سامنے زانوئے ادب طئے کیا۔

حسرت جے پوری نے اپنے انٹرویو میں مجھے بتایاتھا کہ اس وقت چند فلمی صحافیوں نے لکھا تھا کہ وہ فلمی دنیا میں داخلہ سے قبل اوپیرا ہاؤس بمبئی کے پاس” ہوا میں اُڑتا جائے میرا لال دوپٹہ ململ کا” گاگا کر دوپٹے فروخت کرتے تھے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ 1940ء میں تلاش معاش کے سلسلہ میں ممبئی آگئے اور مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ میں ماہانہ 40 روپیوں کی تنخواہ پر بطور بس کنڈاکٹر ملازمت اختیار کرلی۔

حسرت جے پوری بس کنڈاکٹر کی ملازمت کےساتھ ساتھ مشاعروں میں بھی اپنا کلام سنایا کرتے تھے ۔اسی دؤران ڈونگری میں پرتھوی راجکپور کی صدارت میں منعقدہ ایک مشاعرہ میں حسرت جے پوری نے اپنی مشہور نظم”مزدور”سنائی تھی۔مشاعرہ کےاختتام پر پرتھوی راجکپور نے حسرت جے پوری کو گلے لگاکر کہا کہ میرا لڑکا(راجکپور) فلم "برسات "بنارہا ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ تم اس فلم میں بہترین گیت لکھوگے اس سلسلہ میں راجکپور سے ضرور مل لینا۔

شاید حسرت جے پوری بھی اسی موقع کی تلاش میں تھے اور فوری راجکپور سے جاملے۔جسکے بعد فلم برسات سے پانچ نوجوانوں کی ٹولی ایک نئی پہچان کے ساتھ فلمی دنیا کے افق پر نمودار ہوئی اور کامیابی نے راتوں رات اس جوڑی کے قدم چوم لیے۔یہ ٹولی تھی اداکار،فلم سازو ہدایت کار راجکپور،موسیقار جوڑی شنکر اور جئے کشن،گیت کار حسرت جے پوری اور شیلندر کی۔زائد از 40 سال تک یہ ٹولی فلمی دنیامیں دھوم مچاتی رہی اور شائقین کے دلوں پر راج کرتی رہی۔

حسرت جے پوری نے55 سے زائدموسیقاروں کےساتھ کام کیا زائداز 500 فلموں میں 2 ہزار سے زائد گیت لکھے۔وہ ایک لمبے عرصہ تک اپنے شائقین کےکانوں میں اپنے نغمات،غزل،گیت اور گانوں کی شیرینی انڈیلتے رہے۔پیار،محبت،غم و الم ،ہجر و وصال غرض انسانی زندگی کا ایسا کوئی جذبہ و پہلو نہیں جسے حسرت جے پوری نے اپنے نغمات میں سمویا نہ ہو۔

حسرت جے پوری کے لا تعداد گیت آج بھی یاد گار ہیں اور اکثر کانوں کو سرور بخشتے ہیں۔اس دؤر میں ان کی کئی فلمیں ہٹ ہوئیں برسات، آوارہ، شری 420، چوری چوری، سنگم،جس دیش میں گنگا بہتی ہے،میرا نام جوکر،تیسری قسم، دل اپنا اور پریت پرائی، آرزو، جنگلی، جانور،بلف ماسٹر، بدتمیز، پگلا کہیں کا، پرنس، سسرال، سورج، میرے حضور، دل ایک مندر، راجکمار، انداز،ہمالیہ سے اونچا،دھرتی،اناڑی اوربرہمچاری جیسی ان گنت فلمیں شامل ہیں۔1951ء میں حسرت جے پوری نےفلم ہلچل کے لئے اسکرین پلے بھی لکھا تھا۔

حسرت جے پوری کو فلمی گیت لکھنے میں شہرہ حاصل تھا۔خاص کر وہ فلم کے ٹائٹل گیت لکھنے کیلئے مشہور تھے۔لندن کی ورلڈ یونیورسٹی راؤنڈ ٹیبل نے حسرت جے پوری کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی تھی۔

حسرت جے پوری نے مجھے دوران گفتگو بتایا تھا کہ انہوں نے 1965ء میں بنائی گئی رامانند ساگر کی فلم آرزو (راجندر کمار،سادھنا اور فیروز خان) کے پورے نغمے کشمیر میں قیام کرتے ہوئے لکھے تھے تاکہ گیت فلم کی کہانی اور پس منظر کے مطابق ہوں۔اس فلم کے گیت "بے دردی بالماں تجھ کو میرا من یاد کرتا ہے” میں چنار کے درختوں، ڈل جھیل کا ذکر بھی موجود ہے۔اس فلم کے دیگر گیت بھی مشہور ہوئے تھے۔

لندن کی ورلڈیونیورسٹی راؤنڈ ٹیبل نے حسرت جے پوری کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی تھی۔1966ء میں فلم سورج کے گیت بہارو پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے پر حسرت جے پوری کو فلم فیئر ایوارڈ حاصل ہواتھا جبکہ دوبارہ 1972ء میں راجیش کھنہ کی فلم انداز کے گیت ‘ زندگی ایک سفر ہے سہانہ یہاں کل کیا ہو کس نے جانا ‘ پر بھی حسرت جے پوری کو فلم فیر ایورڈ حاصل ہواتھا۔

حسرت جے پوری 1962ء میں فلم سسرال کے گیت تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے،1963ء میں فلم پروفیسر کے گیت اے گلبدن پھولوں کی مہک کانٹوں کی چبھن،کے لیے،1966ء ہی میں فلم آرزو کے گیت اجی روٹھ کر اب کہاں جائیے گا،اور 1968ء میں فلم برہمچاری کے گیت دل کے جھروکے میں تجھ کو بٹھا کے یادوں کو تیری میں دلہن بنا کے، کے لیے بھی فلم فیر ایوارڈ کے لیے نامزد کیے گئے تھے۔اس کے علاوہ بھی حسرت جے پوری کو بہت سارے مختلف ایوارڈس حاصل ہوئے تھے۔

 حسرت جے پوری کے لکھے چند مشہور نغمے یہاں پیش ہیں:

💫 تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤگے (فلم : پگلا کہیں کا)
💫 میں زندگی میں ہر دم روتا ہی رہا ہوں
💫 جیا بے قرار ہے چھائی بہار ہے
💫 ہم تجھ سےمحبت کرکے صنم اور چھوڑ گئے بالم (فلم : برسات)
💫 جانے کہاں گئے وہ دن (فلم: میرا نام جوکر)
💫 دنیا بنانے والے کیا تیرے من میں سمائی ( تیسری قسم)
💫 چاہے کوئی مجھے جنگلی کہے
💫 احسان تیرا ہوگا مجھ پر(فلم : جنگلی)
💫 دل کے جھروکے میں تجھ کو بٹھا کے ( برہمچاری)
💫 بہارو پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے
💫  تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے چشم بددور (فلم : سورج)
💫 زندگی ایک سفرہے سہانہ،یہاں کل کیا ہو کس نے جانا (فلم : انداز)
💫 لال چھڑی میدان کھڑی ( فلم: جانور )
💫 یہ میرا پریم پتر پڑھ کر کہ تم ناراض نہ ہونا
💫 میں کا کرو رام مجھے بڈھا مل گیا (فلم:سنگم )
💫 بے دردی بالماں تجھکو میرا من یاد کرتا ہے
💫 اجی روٹھ کر اب کہاں جائیے گا (فلم: آرزو)
💫 غم اٹھانے کے لیے میں تو جئے جاؤں گا
💫 گمنام ہے کوئی بدنام ہے کوئی
💫 ہمیں کالے ہیں تو کیا ہوا دل والے ہیں ( گمنام)
💫 اپریل فول بنایا تو ان کو غصہ آیا
💫 احسان میرے دل پہ تمہارا ہے دوستو(فلم : غبن)
💫 بدن پہ ستارے لپیٹے ہوئے
💫 اکیلے اکیلے کہاں جارہے ہو (فلم: این ایوننگ ان پیرس)
💫 تم نے پکارا اور ہم چلے آئے
💫 جانے والوں ذرا ہوشیار (فلم: راج کمار)
💫 سو سال پہلے مجھے تم سے پیار تھا  (جب پیار کسی سے ہوتاہے)
سے لیکرسن سائبا سن پیار کی دھن( رام تیری گنگا میلی )

ایک قابل ذکر بات یہ ہےکہ اپنے ساتھی گیت کار شیلندر کی جانب سے راجکپور اور وحیدہ رحمن کولیکر بنائی گئی فلم تیسری قسم کے مشہور گیت ” دنیا بنانے والے کیا تیرے من میں سمائی، کاہے کو دُنیا بنائی”حسرت جے پوری نے لکھا تھا۔لیکن فلمی نقادوں نے اس گیت کو شیلندر سے منسوب کر دیا۔!

حسرت جئے پوری اور آر کے اسٹوڈیوز کی یہ جوڑی 1971ء میں موسیقار جوڑی کے شیلندر کی موت تک قائم رہی پھر اس سےقبل فلم میرا نام جوکر اور فلم کل، آج اور کل کی ناکامی کے بعدراجکپور نے جہاں موسیقار تبدیل کیے وہیں گیت کار بھی بدل دئیے۔راجکپور 1982 میں بنائی گئی اپنی فلم پریم روگ (رشی کپور،پدمنی کولہاپوری) کے گیت حسرت جے پوری سے لکھوانا چاہتےتھے لیکن راجکپور نے امیر قزلباش سے اس فلم کے گیت لکھوائے۔حسرت جے پوری نے بتایا تھا کہ جب تک راج کپور بقید حیات تھے انہیں آر کے اسٹوڈیو سے ماہانہ 500 روپئے حآصل ہوتے تھے ۔اور راج کپور کے انتقال کے بعد یہ رقم بند کر دی گئی۔!

ایک لمبے عرصہ کے بعد 1982 میں راجکپور اپنے لڑکے راجیو کپور کو لیکر فلم رام تیری گنگا میلی بنا رہےتھے اس وقت راجکپور نے حسرت جے پوری سے خواہش کرتےہوئے اس فلم کےلیے ایک گیت لکھوایا تھا جبکہ اس فلم کی موسیقی اور دوسرے گیت موسیقار رویندر جین نے لکھے تھے تا ہم اس فلم کے لیے حسرت جے پوری کا لکھا ہوا گیت 1985ء کا سب سے سوپر ہٹ گیت ثابت ہواتھا۔جس کے بول تھے” سن سا ئبا سن،پیار کی دھن میں نے تجھے چن لیا تو بھی مجھے چن۔”حسرت جے پوری کو فلمی گیت لکھنے میں شہرہ حاصل تھا بالخصوص فلموں کے ٹائٹل گیت وہ بہت خوب لکھتے تھے۔

حسرت جے پوری نے 1990ء کے دہا میں انیل کپور کی فلم لو میریج کے لئے ایک گیت لکھا تھاجس کے بول تھے "اپنا جیون ریل کی پٹری، ساتھ رہے اور مل نہ پائے، 1991ء میں بنائی گئی گووندہ کی فلم بھابھی کےلیے چاندی کی سائیکل، سونے کی سیٹ نغمہ لکھا تھا۔مزید چند گیت لکھنے کے بعد وہ خود کو مطمئین نہیں کر پائے۔

افسوس کہ اپنی زندگی کے 55سے زیادہ قیمتی سال فلمی دنیا کو دینے والے حسرت جئے پوری اپنی زندگی کے آخری ایام میں فلمی دنیا میں ہی گمنام بن کر رہ گئے تھے۔ان کے بھانجے موسیقار انو ملک جو کہ موسیقار سردار ملک کے فرزند ہیں نے 1980ء کے دہا میں حسرت جے پوری سے کچھ نغمیں بھی لکھوائےلیکن وہ نئے دور سے اپنے آپ کو ہم آہنگ نہیں کرپائے۔

حسرت جے پوری نے اپنے آخری ایام میں بھلے ہی بے روزگار رہ کر ہی سہی اپنی باقی ماندہ زندگی شان کے ساتھ گزاری ہو لیکن گھٹیا اور نچلی سطح کے گیت لکھ کر خود کو نئے زمانہ سے ہم آہنگ کرنے کی بھول کبھی نہیں کی یہ ان کا ظرف تھا۔حسرت جئے پوری کے فرزندان اختر حسرت جے پوری اور آصف حسرت جے پوری ممبئی میں رہتے ہیں جبکہ ان کی ایک دختر کشوار جے پوری پاکستان میں بیاہی گئیں اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ وہیں مقیم ہیں۔فیس بک پر وہ سرگرم ہیں ان کے فیس بک پیج بھی ہیں جہاں وہ اپنے والد حسرت جے پوری کی اور ان کی یادوں پر مشتمل تصاویر اور تفصیلات پوسٹ کرتی رہتی ہیں۔

مقبول زمانہ نغموں کے خالق حسرت جئے پوری 17 ستمبر 1999ء کو ممبئی کے ایک خانگی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔جب کبھی ہندوستانی جب کبھی فلموں میں بلند پایہ شاعری،کانوں میں رس گھولتے نغموں اور درد بھرے گیتوں و نغموں کی بات چلے گی توحسرت جے پوری کا نام اور کام سب سے اوپر رہے گا اور ہر زمانہ کے فلمی شائقین ان کے گیتوں کے ذریعہ ہی صحیح فلمی گیتوں کا معیار طئے کریں گے۔ اپنے مقبول زمانہ گیتوں کے ذریعہ وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

مضمون نگار :   یحییٰ خان/ایڈیٹراِن چیف سحرنیوز

"حسرت جے پوری کے لکھے ہوئے چند مقبول گیتوں کے یوٹیوب ویڈیو لنکس یہاں پیش ہیں” :-

 

Mail: khanreport@gmail.com