خشک سالی، فصلوں کی تباہی اور برقی کٹوتی کے لیے کانگریس حکومت ذمہ دار : سابق ایم ایل اے تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کا الزام

خشک سالی، فصلوں کی تباہی اور  برقی کٹوتی کے لیے کانگریس حکومت ذمہ دار
ایل نینو کے اثرات پر قابو پانے کے لیے پہلے ہی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟
سابق ایم ایل اے  تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کا پریس کانفرنس میں الزام

وقارآباد/تانڈور : 15۔اکتوبر
(سحر نیوز بیورو/ نمائندہ )

سابق رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی نے ریاست میں  پیدا شدہ خشک سالی کی صورتحال، برقی کٹوتی، کسانوں کی فصلوں کو نقصانات اور  سنگارینی کالریز  کو خانگیانے کی سازش کے تلنگانہ  کی کانگریس حکومت  پر  الزامات عائد کیے ہیں۔

وقارآباد ضلع کے تانڈور کی اپنی رہائش کے دفتر  بی آر ایس پارٹی میں 8  ماہ بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پائلٹ روہت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ موجودہ خشک سالی کے حالات کے لیے ریاست کی کانگریس حکومت ذمہ دار ہے۔

سابق رکن اسمبلی نے استفسار کیا کہ حکومت نے ایل نینو کے اثرات سے عوام اور کسانوں کو محفوظ رکھنے کی غرض سے پہلے ہی سے اقدامات کیوں نہیں کیے؟ پائلٹ روہت ریڈی نے الزام عائدکیا کہ ایل نینو کے اثرات کا پہلے سے جائزہ لیتے ہوئے ضروری احتیاطی اقدمات کرنے میں حکومت مکمل طورپر  ناکام رہی ہے۔

نوٹ :  وقارآباد ضلع  پر ” ایل نینو ” کے اثرات سے متعلق تفصیلی خبر کی لنک نیچے کلک کرکے پڑھی جاسکتی ۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں برقی کی کٹوتی کے ساتھ ساتھ لو وولٹیج کے مسائل سے عوام پریشان کا شکار ہیں۔انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو جنریٹرز اور انورٹرز  ماضی میں غائب ہو چکے تھے اب انہیں دوبارہ استعمال کی نوبت آ گئی ہے اور حکومت مناسب برقی سربراہی میں ناکام ہوگئی ہے۔

پائلٹ روہت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت سنگارینی کالریز کو خانگیانے کی کوشش کر رہی ہے۔اور سنگارینی کالریز سے 40 لاکھ ٹن کوئلہ غائب ہوا ہے جس کی تحقیقات ضروری ہیں۔

سابق رکن اسمبلی نے حکومت کو انتباہ ہ دیا کہ اگر سنگارینی کالریزکو خانگیانے کی کوشش کی گئی تو عوامی تحریک ناگزیر ہو گی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طورپرکسانوں کوفصلوں کے نقصان کا مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔

سابق رکن اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے مسائل، برقی کی فراہمی میں رکاو ٹ اور سنگارینی کالریزکے مستقبل پر حکومت فوری طور پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک وائٹ  پیپر جاری کرے۔

اس پریس کانفرنس میں سابق رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی نے الزام عائد کیا تانڈور کی ترقی کو مکمل طورپر نظر انداز کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تانڈور میں زیر زمین آبی سطح میں اضافہ کے منصوبے کے تحت بی آر ایس کے دؤر حکومت میں تانڈور کی کاگنا ندی میں 11 چیک ڈیم کی تعمیر عمل میں لائی گئی تھی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس کے دؤر میں کاگنا ندی سے ریت کی لوٹ مار جاری ہے اورسرکاری کاموں کے نام پر ندی سے غیر قانونی طورپر ریت کی اسمگلنگ کے ذریعہ کاگنا ندی کو تباہ کیا جارہا ہے۔

سابق رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ شیواساگر پراجکٹ سے زائد از تین ہزار ٹپر گاڑیوں کے ذریعہ غیرقانونی طریقہ سے ریت کی منتقلی سے 25 کروڑ روپئے کا حکومت کو نقصان پہنچایا گیا ہے ۔کاگناندی سے تانڈور کا پانی اور تانڈور کا گورنمنٹ ضلع ہسپتال چیف منسٹر کے حلقہ اسمبلی کوڑنگل کے حوالے کر دیا گیا۔

سابق رکن اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ اب تانڈور میں موجوددفتر آر ٹی او کو بھی کوڑنگل منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہاں کے گورنمنٹ ضلع ہسپتال اور مدر اینڈ چائلڈ کیئر سنٹر میں ناقص طبی خدمات سے عوام پریشان ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ رکن اسمبلی تانڈور کی ترقی اورعوامی مسائل کے حل کو ترجیح نہیں دے رہے ہیں۔

پائلٹ روہت ریڈی نے کہا کہ انہیں بی آر ایس پارٹی سے معطل کرنے کی اطلاعات پر عوام دھیان نہ دیں ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں وہ دوبارہ بی آر ایس کے مقامی امیدوار کی حیثیت سے ہی مقابلہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کریں گے اور زیادہ تر سروے رپورٹس ان کی کامیابی کے حق میں ہیں ۔

اس پریس کانفرنس میں سابق صدر ضلع لائبرریز راجو گوڑ،سینئر پارٹی قائدین پٹلولا نرسملو، سرینواس چاری، سدرالہ سرینواس ،نریندر گوڑ، نرسی ریڈی کے علاوہ دیگر موجود تھے۔

وقارآباد ضلع پر "ایل نینو” کے اثرات: برسات میں مئی جیسی تپش

25 فیصد کم بارش ریکارڈ، موسمِ سرما میں بھی راحت نہ ملنے کا امکان!

خصوصی رپورٹ اس لنک پر ⬇️

وقارآباد ضلع پر”ایل نینو”کے اثرات: برسات میں مئی جیسی تپش، 25 فیصد کم بارش ریکارڈ، موسمِ سرما میں بھی راحت نہ ملنے کا امکان!