عصری تعلیم اور حفظِ قرآن کا حسین امتزاج
ڈاکٹر عتیق احمد کے چاروں بچے حافظِ قرآن بن گئے
حیدرآباد :06۔جولائی (سحرنیوزبیورو)
اللہ تعالیٰ جب کسی خاندان پر اپنا خاص فضل فرماتا ہے تو اس کی ایک روشن نشانی یہ ہوتی ہے کہ اس گھر کو قرآنِ مجید کی خدمت اور اس کے نور سے منور کر دیتا ہے۔ جس گھر میں قرآن پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے، وہاں رحمتوں کا نزول، فرشتوں کی آمد اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی برکتیں نازل ہوتی ہیں۔
ایسے ہی ایک خوش نصیب خاندان نے اس عظیم سعادت کو حاصل کیا ہے، جہاں ایک نہیں بلکہ چاروں بچے حافظِ قرآن بن کر اپنے والدین، اساتذۂ کرام اور پورے علاقے کے لیے باعثِ فخر بن گئے ہیں۔
آج کے مادّہ پرستانہ دور میں، جہاں اکثر والدین صرف دنیاوی تعلیم اور پیشہ ورانہ کامیابی کو ترجیح دیتے ہیں، وہیں بعض خوش نصیب والدین اپنی اولاد کو دینی اور عصری تعلیم دونوں سے آراستہ کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ کامیابی صرف دنیا میں نہیں بلکہ آخرت کی دائمی زندگی میں بھی ہونی چاہیے۔ ایسے والدین یقیناً امت کے حقیقی معمار ہیں۔
ڈاکٹر عتیق احمدپرنسپل و ڈائرکٹر ایم ایس کالج ، ملک پیٹ برانچ،حیدرآباد نے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت میں اسی متوازن فکر کا عملی نمونہ پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کے چاروں بچے، دو بیٹیاں اور دو بیٹے، عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ حفظِ قرآن کی لازوال نعمت سے بھی سرفراز ہوئے۔

یہ کامیابی صرف ایک خاندان کی خوشی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک بہترین پیغام ہے کہ اگر نیت خالص ہو تو دنیاوی تعلیم اور دینی تعلیم ساتھ ساتھ بہترین انداز میں جاری رہ سکتی ہیں۔
مدرسہ عربیتہ ا لتحفیظ القرآن الکریم و مدرسہ الطیبات للبنات، تاڑبن کے زیرِ اہتمام ایمپا ئر پیلس فنکشن ہال میں منعقدہ روح پرور اور باوقار جلسۂ دستار بندی میں ڈاکٹر عتیق احمد کے چاروں بچوں کو ممتاز علمائے کرام کے ہاتھوں حفظِ قرآن کی اسناد اور دستارِ فضیلت سے نوازا گیا۔ اس روحانی تقریب میں بار بار اللہ اکبر اور مبارکباد کی صدائیں گونجتی رہیں، جبکہ حاضرین کی آنکھوں میں خوشی اور عقیدت کے جذبات نمایاں تھے۔
حافظِ قرآن بننے والے ان خوش نصیب بچوں میں فاطمہ تحریم، شیخ عبدالقادر، شیخ عبدالرحمان اور زویا خدیجہ شامل ہیں۔ چاروں بچوں نے کم عمری میں قرآنِ کریم کو اپنے سینوں میں محفوظ کرکے نہ صرف اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کیا بلکہ نوجوان نسل کے لیے ایک مثالی نمونہ بھی قائم کیا۔

اسلام میں حافظِ قرآن کا مقام نہایت بلند ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں وارد ہے کہ حافظِ قرآن سے قیامت کے دن کہا جائے گاکہ پڑھتے جاؤ اور جنت کے درجات طے کرتے جاؤ، کیونکہ تمہارا مقام وہیں ہوگا جہاں تم آخری آیت پڑھ کر رکو گے۔ اسی طرح ایک حدیث میں یہ خوشخبری بھی دی گئی ہے کہ جس نے اپنی اولاد کو قرآن کی تعلیم دی اور اس پر عمل کی ترغیب دی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے والدین کو عزت و وقار کا ایسا تاج عطا فرمائے گا جس کی روشنی دنیا کے قیمتی ترین زیورات سے بھی زیادہ ہوگی۔
یہی وہ اعزاز ہے جس کی تمنا ہر صاحبِ ایمان والدین کو ہونی چاہئے۔یہ کامیابی ان اساتذۂ کرام کی شبانہ روز محنت کا بھی ثمرہ ہے جو خاموشی کے ساتھ قرآنِ کریم کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ مدارسِ دینیہ دراصل وہ مراکز ہیں جہاں صرف حفاظ تیار نہیں ہوتے بلکہ ایسے افراد تیار کیے جاتے ہیں جو قرآن سے محبت، اخلاق، کردار اور دینی اقدار کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں۔
جلسۂ دستار بندی میں مہمانِ خصوصی مولانا محمد سلمان بجنوری استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند ونائب صدر جمعیۃ علماء ہند تھے، جبکہ مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ، مولانا جعفر پاشا حسامی، ڈاکٹر رضوان قریشی سمیت متعدد علمائے کرام، سماجی شخصیات، معززینِ شہر اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مقررین نے اپنے خطابات میں قرآنِ کریم کی تعلیم کی اہمیت، والدین کی ذمہ داری اور نئی نسل کو دین سے وابستہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر حاضرین نے ڈاکٹر عتیق احمد اور ان کی اہلیہ کو خصوصی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اصل کامیابی صرف اعلیٰ عہدوں اور دنیاوی ترقی میں نہیں بلکہ ایسی صالح اولاد کی تربیت میں ہے جو قرآنِ کریم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے۔
یقیناً ایسے والدین معاشرے کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور ان کی یہ کاوش دوسروں کے لیے بھی ایک عملی دعوت ہے کہ وہ اپنی اولاد کو دینی تعلیم سے ضرور وابستہ کریں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان چاروں حفاظِ کرام کو قرآنِ کریم پر عمل کرنے والا، اس کا سچا خادم اور امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ خیر بنائے، ان کے والدین، اساتذۂ کرام اور تمام معاونین کو دنیا و آخرت کی بے شمار برکتوں سے نوازے، اور ہمارے معاشرے میں ایسے مبارک خاندانوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ فرمائے۔ آمین۔

