کشمیر فائلز اور کیرالہ اسٹوری کے بعد اب فلم ” 72 حوریں ” ، 7 جولائی کوفلم کی ریلیز، سوشل میڈیا پر ٹریلر وائرل

کشمیر فائلز اور کیرالہ اسٹوری کے بعد اب فلم  72 حوریں
7 جولائی کوفلم کی ریلیز ، سوشل میڈیا پر ٹریلر وائرل
2024ء کے انتخابات سے قبل 20 مسلم مخالف فلمیں ریلیز کے لیے تیار!!

ممبئی : 05/جون
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)

پروڈیوسر ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری نے گذشتہ سال فلم”کشمیر فائلز” بنائی تھی جس کولےکر ملک میں بھرمیں ہنگامہ ہوا تھا۔11 مارچ کو اس فلم کی ریلیز کے بعد مسلمانوں کے خلاف سینما گھروں سے لے کر بازاروں تک خوب نفرت پھیلائی گئی تھی ان کے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی تھی۔اس فلم کو وزیراعظم، وزیر داخلہ،بی جے پی قائدین ، مرکزی اور ریاستی وزراء اور تمام زعفرانی تنظیموں نے خوب سراہا تھا۔

وہیں بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں اس فلم کو ٹیکس فری بھی کیا گیا تھا۔اس فلم کےمتعلق الزامات تھے کہ اس فلم میں سکہ کا صرف ایک رخ دکھاتے ہوئے مسلمانوں بالخصوص کشمیری مسلمانوں کی شبیہ خراب کی گئی تھی خود کشمیری پنڈتوں نے اس فلم کی مخالفت کی تھی۔وہیں 15 تا 25 کروڑ روپئے کےبجٹ سے بنائی گئی فلم کشمیر فائلز نے اب تک 340 کروڑ روپئے سے زائد کی کمائی کی۔

پھر جاریہ سال 5 مئی کو فلم ” دی کیرالہ اسٹوری The Kerala Story# ریلیز کی گئی جو کہ سن شائن پکچرز کے بینرتلے ہدایت کار اور پروڈیوسر وپل امرت لال شاہ کی تیار کردہ فلم ہے سدیپتو سین کی لکھی اور ہدایت کاری میں بننے والی فلم دی کیرالہ اسٹوری میں اداہ شرما،یوگیتا بہانی،سونیا بالانی اور سدھی ادنانی نے اداکاری کی ہے۔

گذشتہ سال نومبر میں ہی اس فلم کا ٹیزر جاری کرتےہوئے فلمسازوں نے دعویٰ کیا تھاکہ یہ فلم سچی کہانیوں پر مبنی ہے کہ ریاست کیرالہ سے 32,000 ہندو اور عیسائی خواتین کا مذہب تبدیل کرکے انہیں شام،یمن اور دیگر ممالک روانہ کرتے ہوئے انہیں دہشت گرد تنظیم داعش کے حوالے کیا گیا۔ان میں سے زیادہ تر یا تو مٹی میں دفن ہیں یا پھر دہشت گردوں کے ساتھ ہیں۔

اس فلم کی ریلیز سے دو دن قبل فلمسازوں نے عیاری کے ساتھ فلم کا ڈسکپرشن بدل دیا کہ یہ تین لڑکیوں کی کہانی ہے۔اس فلم کی نمائش پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ اور کیرالہ ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں جنہیں مسترد کردیا گیا ۔تاہم سپریم کورٹ نے فلمساز کو حکم دیا کہ فلم کے آغاز میں ہی واضح کرنا ہوگا کہ یہ فلم سچی کہانیوں پرمشتمل نہیں ہے بلکہ خیالی ہے۔اور اس فلم میں جو 32,000 تبدیلی مذہب کی بات بتائی گئی ہے اس کامستند ریکارڈ موجود نہیں ہے۔اکنامکس ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فلم کیرالہ اسٹوری نے 22 مئی تک 224 کروڑ روپئے کا بزنس کیاہے۔

فلم کیرالہ اسٹوری کا ذکر وزیراعظم نریندر مودی نے گذشتہ ماہ کرناٹک کے اسمبلی انتخابات کی مہم میں اپنی تقریر میں بھی کیا تھا ان کے وزراءجی۔کشن ریڈی، اسمرتی ایرانی ، انوراگ ٹھاکر، چیف منسٹر اتر پردیش یوگی آدتیہ ناتھ کے علاوہ دیگر نے بھی فلم کیرالہ اسٹوری دیکھنے کے بعد کہا تھا کہ یہ فلم سچی کہانیوں پر مشتمل ہے۔کیرالہ اسٹوری کو اترپردیش، مدھیہ پردیش اور جھارکھنڈ میں ٹیکس فری کیا گیا۔

وہیں چیف منسٹر کیرالہ پنا رائی وجین نے فلم کیرالہ اسٹوری پر تنقید کرتےہوئے فیس بک پر لکھاتھاکہ”اس فلم کے ذریعہ کیرالہ جوکہ سیکولرازم کی سرزمین ہے،اس کو مذہبی دہشت گردی کے مرکز کےطور پر پیش کرتے ہوئے سنگھ پریوار کے پروپیگنڈے کو آگے بڑھایا گیا ہے۔کانگریس کے سینئر رکن پارلیمان ششی تھرور نے ٹوئٹ کیا تھا کہ یہ ہمارا کیرالہ نہیں ہے۔وہیں ایک خاتون نے اس فلم کو دیکھنے کے بعد میڈیا سے کہا تھا کہ فلم دیکھ کر مسلمانوں سےخوف ہونے لگا ہے!!

سینئر و تجربہ کار کئی ایوارڈ یافتہ اداکار نصیر الدین شاہ نے چار دن قبل ہی فلم کیرالہ اسٹوری کو نازی جرمنی کا پروپگنڈہ فلم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ ہم نازی جرمنی کی راہ پر گامزن ہیں جہاں ہٹلر کے زمانے میں،فلمسازوں کو ساتھ لیا جاتا تھا،ہم آہنگ ہونے کی کوشش کی جاتی تھی، سپریم لیڈر کی جانب سے اس کی تعریف کرنے والی فلمیں بنائی جاتی تھیں اور اس نے ہم وطنوں کے لیے کیا کیا تھا اور یہودی برادری کو نیچا دکھایا جاتا تھا۔انہوں نے کہاکہ بہت سارے ماسٹر فلمساز اس جگہ کو چھوڑ کر ہالی ووڈ آئے اور وہاں فلمیں بنائیں۔

اب اسی بالی ووڈ سے ایک او فلم کا ٹریلر اتوار کو جاری کیاگیا ہے جس کا نام ہی اپنی جگہ متنازعہ اورمسلمانوں کے عقیدہ کے خلاف ہے۔اس فلم کا نام 72 حوریں 72HOORAIN# رکھا گیا ہے۔اس فلم کا 51 سیکنڈ پرمشتمل ٹریلر 3 جون کی رات ٹوئٹر پر پوسٹ کیا گیا اور اب یہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہوا ہے اور باقاعدہ اس کی ٹرینڈنگ بھی جاری ہے۔اس ٹریلر کا آغاز دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث اسامہ بن لادن، اجمل قصاب، یعقوب میمن،مسعود اظہر،حافظ سعید، صادق سعید، بلال احمد اور دیگر کی تصاویر سے کیا گیا ہے۔

سنجے پورن سنگھ چوہان کی ہدایت کاری میں بنائی گئی فلم "72 حوریں7 جولائی کو ہندوستانی سینما گھروں میں ریلیز کی جائےگی۔2019ء یہ فلم میں تیار کی گئی تھی۔جس میں پون ملہوترا اور عامر بشیر مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔فلمسازوں کے مطابق یہ فلم پرتشدد انتہا پسندی کے نتائج پر مرکوز ہے۔سنجے چوہان جنہوں نے فلم کی ایڈٹنگ بھی کی ہے نے میڈیا سے کہا کہ یہ کہانی ” جوڑ توڑ کی طاقت کی المناک یاد دہانی ” ہے اور ” دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ "

انہوں نے کہا کہ ” مجرموں کی جانب سے ذہنوں کوخاموشی کے ساتھ زہریلا بنانے سے عام افراد خودکش بمباروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہاہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ خود بمبار بھی ہمارے جیسے خاندانوں کے ساتھ دہشت گرد لیڈروں کے من گھڑت عقائد اور ان کی برین واشنگ کا شکار ہو چکے ہیں۔ 72 حوروں کے مہلک وہم میں پھنسے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 72 کنواریوں(حوروں) کے مہلک فریب میں پھنس کر وہ تباہی کے راستے پر چل پڑتے ہیں،بالآخر ایک بھیانک قسمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس فلم کے معاون پروڈیوسر اشوک پنڈت نے کل اتوار 4 جون کو اس فلم کا ٹریلر / ٹیزر  ٹوئٹ کیا ہے۔جسے اب تک 1.6 ملین افراد نے دیکھا ہے۔جبکہ اس ویڈیو کے 7،500 سے زائد ری۔ٹوئٹ ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ بھی کئی صارفین نے اس ٹریلر کو ٹوئٹ کیا ہے جہاں لاکھوں صارفین نے دیکھا ہے۔

ا

https://twitter.com/ashokepandit/status/1665248134308700161

فلم 72 حوریں کا پریمیئر انڈین پنورما سیکشن کے تحت 2019ء کے بین الاقوامی فلم فیسٹیول آف انڈیا IFFI#  میں ریاست گوا میں ہوا تھا، جہاں اس فلم 72 حوریں کو  ICFT-UNESCO GANDHI MEDAL# خصوصی ایوارڈ دیا گیا تھا۔جبکہ 2021 میں سنجے پورن سنگھ چوہان نے اس فلم کے لیے بہترین ہدایت کاری کا نیشنل فلم ایوارڈ جیتا تھا۔

پروڈیوسر گلاب سنگھ تنور نے کہاکہ’’72 حوریں‘‘ یہ دکھانے کےلیے بہترین کہانی ہےکہ’ ’کس طرح مذہب کے نام پر فرضی کہانیوں کو معصوم اور عام لوگوں کو سفاک دہشت گردوں میں تبدیل کرنے کے لیے بیچا گیا۔ ‘‘جبکہ معاون پروڈیوسر اشوک پنڈت جو کہ بی جے پی کے سخت حمایتی کی پہچان رکھتے ہیں نے عوام پر زور دیا کہ وہ عقلی ذہن  کے ساتھ فلم دیکھیں۔”

انہوں نے کہا کہ یہ فلم یقینی طور پر آپ کو معاشرے میں رائج بعض عقائد پر غور کرنے پر مجبور کرے گی اور یہ کہ وہ کس طرح محض تخیل کی تصویر ہے۔یہ آپ کو ان تصورات اور نظریات کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرے گا جو کسی بھی طرح سےحقیقت کے قریب بھی نہیں ہیں، اور کس طرح وہ محض لوگوں کو جہاد کے نام پر دہشت گردوں میں تبدیل کرنے کے لیے برین واش کے بعد استعمال ہوتے ہیں۔

اب اس سلسلہ میں مسلمانوں میں غم و غصہ پیدا ہوگیا ہے کہ 72 حوروں کا تذکرہ اور وعدہ قرآن میں موجود ہے۔اور یہ حوریں انہیں ملیں گی جو دنیا میں اچھے اعمال کریں گے، انسانوں کی خدمت کریں گے۔دہشت گردی کے نام پر بے گناہ اور بے قصور لوگوں کو موت کی نیند سلانے والوں ، بستیاں اجاڑنے والوں، ناحق قتل و خون کی ہولی کھیلنے والوں کےلیے حوروں کا وعدہ نہیں کیا گیا۔کیونکہ ایک انسان کے ناحق قتل کو اسلام نے ساری انسانیت کا قتل قرار دیتے ہوئے تنبیہ کی ہے۔

ہندوستانی مسلمان ہمیشہ سے ہی دہشت گردی اور دہشت گردوں کی حمایت سے بہت دور ہے۔اور جنہیں ان الزامات کے تحت برسوں جیلوں میں رکھا گیا تھا انہیں عدالتوں نے باعزت بری کر دیا ہے۔ہندوستانی مسلمان کبھی بھی اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ موب لنچنگ میں ملوث نہیں رہے اور نہ کبھی دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے مذہبی مقامات کی بے حرمتی کی، نہ زانیوں اور قاتلوں کا ساتھ دیا،نہ ان کے جیلوں سے باہر آنے پر مٹھائیاں ہی تقسیم کیں اور نہ انہیں ہیرو بناتے ہوئے جلوس ہی نکالے۔! اور بینکوں سے عوام کا کروڑہا روپیہ لوٹ کر ملک سے فرار ہونے والوں اور ملک سے غداری کرنے کے الزام میں گرفتار ہونےوالوں میں بھی مسلمان شامل نہیں ہیں۔

مسلمانوں کا احساس ہےکہ وقفہ وقفہ سے ایسی فلموں کے ذریعہ اسلام اورمسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔اور اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو مذہبی منافرت میں تبدیل کرنے کی لگاتار کوشش کی جارہی ہے اور ایسی فلموں کی ایک مخصوص جماعت اس کے قائدین اور طبقہ کی تائید بھی تشویشناک ہے۔! 

اس فلم پر بھی الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ یہ بھی لشمیر فائلز اور کیرالہ اسٹوری کی طرح مسلمانوں کے خلاف ایک پروپگنڈہ فلم ہے ایسے میں فلمی نقاد کمال آر خان  KRK# نے 31 مئی اپنے ٹوئٹ میں انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 20 مسلم مخالف فلمیں ابھی پروڈکشن میں ہیں اور وہ تمام فلمیں 2024 کے انتخابات سے پہلے ریلیز ہوں گی۔اگر لوگ ان فلموں کو قبول کریں گے تو بی جے پی کلین سویپ کرے گی۔اگر لوگ انہیں پروپیگنڈہ سمجھیں گے تو بی جے پی کی دھلائی ہوگی۔ آئیے انتظار کریں اور دیکھتے ہیں۔

" یہ بھی پڑھیں "

فلم کیرالہ اسٹوری کے متنازعہ ٹیزر کے خلاف ڈی جی پی کی ہدایت پرفلم کے عملہ کے خلاف ایف آئی آر درج

 

جمعیتہ علماء ہند فلم کیرالہ اسٹوری کی نمائش پر پابندی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع، 32 ہزار لڑکیوں کی کہانی تین لڑکیوں کی کہانی میں تبدیل!