ٹرین حادثہ کو مذہبی رنگ دینے والوں کے خلاف ہوگی کارروائی : اوڈیشہ پولیس کا انتباہ

ٹرین حادثہ کو مذہبی رنگ دینے والوں کے خلاف ہوگی کارروائی، اوڈیشہ پولیس کا انتباہ
حادثہ کے مقام پر موجود مندر کو مسجد ظاہر کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف ناپاک مہم
پٹریوں کی مرمت اور متاثرہ بوگیوں کو ہٹانے کے بعد مقام حادثہ پر ٹریفک بحال

بھوبنیشور /دہلی : 05/جون
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

2 جون کی شام دیر گئے اوڈیشہ کے بالاسور میں پیش آئے ملک کی تاریخ کے بھیانک اور افسوسناک ٹرین حادثوں میں سے ایک میں زائداز 275 ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے قبل ازیں ان کی تعداد 288 بتائی گئی تھی اور 1,100 سے زائد مسافر اس وقت زخمی ہوگئے تھے جب کورومنڈل ایکسپریس ایک مال گاڑی سے ٹکرا گئی تھی، جس کی وجہ سے اس کی کئی بوگیاں الٹ گئیں،جن میں سے چند بوگیاں قریب ہی موجود ریلوے ٹریک پرگری تھیں اسی دوران اس طرف سےگزرنے والی بنگلورو-ہاؤڑہ سوپر فاسٹ ایکسپریس ان بوگیوں سے ٹکراگئی تھی اس ٹرین کی تین۔چار بوگیاں بھی الٹ گئی تھیں۔

ان تین ٹرینوں کےحادثہ کےبعد وزیراعظم نریندرمودی، چیف منسٹرز اوڈیشہ و بنگال نوین پٹنائک،ممتابنرجی اور دیگر نے جائے حادثہ پر پہنچ کر مشاہدہ کیا اور امدادی کاموں کا جائزہ لیا۔مغربی بنگال سے بھی امدادی اشیاء اور عملہ روانہ کیا گیا تھا۔بتایا جاتا ہے کہ مقامی افراد نے بلاء لحاظ مذہب نعشوں کو نکالنے، ان کی منتقلی، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے،مفت غذا اور پانی کی فراہمی جیسی خدمات انجام دیں۔وزیر ریلوے اشونی ویشنو حادثہ کی رات سے دیرگئے ہی جائےحادثہ پر کیمپ کیے ہوئے ہیں۔

55 گھنٹوں کی لگاتار کوشش،ہزاروں ریلوے ملازمین اور مقامی مزدوروں کی مدد سےحادثہ کے باعث تباہ ہونے والی ریلوے لائن کو گذشتہ رات 10 بجے کارکرد بنادیا گیا۔ جس کے بعد کل اتوار کی رات 45-10 بجے آندھرا پردیش کے ویزاگ بندرگاہ سے راورکیلا اسٹیل پلانٹ تک کوئلے سےلدی ایک مال گاڑی اس پٹری سے گزاری گئی۔جائے حادثہ پر ٹرینوں کا ملبہ ابھی صاف کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب اتنے خوفناک حادثہ اور سینکڑوں کی تعداد میں افسوسناک ہلاکتوں کے بعد سوشل میڈیا پر نفرتی ذہن کاانسانیت دشمن جھنڈ فوری حرکت میں آگیا تھا۔ اس حادثہ کی نوعیت کم کرنے اورمسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی غرض سے ایسی تصاویر وائرل کی گئیں کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ سبوتاج ہے۔

The Random Indian@ نامی ایک مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل سے حادثہ کےمقام کی ایک تصویر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا گیا کہ” صرف بتارہا ہوں،کل جمعہ تھا ” (یاد رہے کہ یہ ٹرین حادثہ جمعہ کی شام دیر گئے پیش آیا تھا)۔

اس تصویر میں جائے حادثہ پر بکھرے ہوئے ٹرینوں کے ڈبوں کے قریب ایک سفید عمارت نظر آ رہی ہے اور اس کی جانب تیر کا نشان بناکر دکھایا گیا۔بظاہر اس کا اشارہ مسجد کی جانب تھا۔اس طرح جمعہ کے دن اور اس عمارت کو مسجد ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر یہ ظاہر کرنے کی ناپاک سازش رچی گئی کہ ٹرین حادثہ میں مسلمان ملوث ہیں۔!!

بعدازاں فیاکٹ چیکرز نے فوری اس عمارت کی حقیقت پیش کرتے ہوئے ٹوئٹرپر واضح کردیا کہ جس عمارت کو اوپر سے کاٹ کر مسجد کہہ رہے ہیں دراصل وہ اسکان مندر ہے۔اس وقت تک نفرت اور جھوٹ کایہ زہر ٹوئٹر سے ہٹ کر دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی وائرل کر دیا گیا تھا۔

بعدازاں کل اوڈیشہ پولیس نے باقاعدہ دو ٹوئٹ کرتےہوئے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ” یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچھ سوشل میڈیاہینڈل بالاسور میں ہونے والے المناک ٹرین حادثے کو شرارت سے فرقہ وارانہ رنگ دے رہے ہیں۔یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے۔جی آر پی،اوڈیشہ کے ذریعہ حادثے کی وجہ اور دیگر تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں۔”

 

اپنے ایک اور ٹوئٹ میں اوڈیشہ پولیس نے لکھا ہے کہ” ہم تمام متعلقہ افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کی جھوٹی اور غیر محرک پوسٹس کو گردش کرنے سے باز رہیں۔افواہیں پھیلا کر فرقہ وارانہ انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔”

نیوز لانڈری News Laundry# کے نمائندہ نےمقام حادثہ کے قریب موجود اس اسکان مندر پہنچ کر اس ساری مسلم مخالف مہم کو غلط ثابت کر دیا اور اس مندر کے ذمہ دار مذہبی نمائندہ سے بھی بات کی۔ ( ویڈیو : 4 منٹ )

https://www.facebook.com/NewslaundryHindi/videos/604106048363389

 

 

” اس سازشی مہم کے خلاف کل پیش کی گئی سحر نیوز ڈاٹ کام کی خصوصی رپورٹ اس لنک کو کلک کرکے پڑھ سکتے ہیں۔

اوڈیشہ ٹرین حادثہ : مقام حادثہ کے قریب موجود مندر کو مسجد اور جمعہ کا دن بتا کرنفرت پھیلانے کی کوشش