جمعیتہ علماء ہند فلم کیرالہ اسٹوری کی نمائش پر پابندی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع، 32 ہزار لڑکیوں کی کہانی تین لڑکیوں کی کہانی میں تبدیل!

جمعیتہ علماء ہند فلم کیرالہ اسٹوری کی نمائش پر پابندی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع
کیرالہ اور مدراس ہائی کورٹس میں بھی درخواستیں داخل، نفرت اور جھوٹ پھیلانے کا الزام
فلمسازوں نے 32 ہزار لڑکیوں کے تبدیلی مذہب کے دعویٰ کو صرف تین لڑکیوں تک محدود کردیا!

نئی دہلی/ترواننت پورم : 02/مئی
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

جمعیتہ علماء ہند فلم دی کیرالہ اسٹوری کی تھیٹرز اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر نمائش پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آج سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی ہے۔لائیو لاء LiveLaw# کی رپورٹ کے مطابق جمعیتہ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں داخل کردہ اپنی درخواست میں کہا ہے کہ یہ فلم ہندوستان میں سماج کےمختلف طبقات کے درمیان نفرت اور دشمنی کاسبب بن سکتی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ فلم پورے مسلم طبقہ کی توہین کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں ہندوستان کی مسلم آبادی کی زندگی اور معاش کو خطرہ لاحق ہوگا جو کہ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کے تحت طبقات کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔

اس درخواست کے ذریعہ جمعیۃ علماء ہند نےکہاہے کہ فلم جس کا آغاز ایک نکتہ کو پیش کرنےسے ہوتا ہے کہ یہ سچے واقعات سےمشتمل ہے۔ اور اس فلم کے ٹریلر کے مطابق یہ بتاتاہے کہ کیرالہ میں ہندو اور عیسائی لڑکیوں کو انتہا پسند مولوی اسلام قبول کروا رہے ہیں اور افغانستان میں دہشت گرد تنظیم داعش کےلیے اسمگل کررہے ہیں جب کہ ان کےمسلمان ہم جماعت انہیں لالچ دےکر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

اس درخواست میں سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ یہ فلم یہ تاثر دیتی ہے کہ انتہا پسند علماء کے علاوہ جو لوگوں کو بنیاد پرست بناتے ہیں، عام مسلم نوجوان ان کے ہم جماعت بھی غیر مسلموں کو لالچ دینے اور انتہا پسند علماء کی جانب سے دی گئی ہدایات کےمطابق انہیں دوستانہ اور نیک فطرت ظاہر کر کے بنیاد پرست بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

 

جمعیتہ علماء ہند کی اس درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ فلم میں غلط طریقے سے دکھایا گیا ہے کہ 32,000 لڑکیاں کیرالہ چھوڑ کر مغربی ایشیا میں آئی ایس آئی ایس میں شامل ہوئی ہیں۔تاہم اقوام متحدہ،مرکزی وزارت داخلہ، پولیس ذرائع اور ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آئی ایس آئی ایس میں شامل ہونے کے لیے ملک چھوڑنے والے ہندوستانیوں کی تعداد تقریباً 66 ہے۔اور ISIS# کے حامی افراد کی زیادہ سے زیادہ تعداد جنہوں نے ISIS کی طرف جھکاؤ ظاہر کیا ہو 100 سے 200 کے درمیان ہے۔

اور یہ فلم اس نظریہ کو فروغ دیتی ہے کہ محبت جہاد LoveJihad# کا استعمال غیرمسلم خواتین کو اسلام قبول کرنے اور داعش میں شمولیت پر آمادہ کرنے کے لیے کیاجارہا ہے۔ تاہم,ریاستی پولیس کی جانب سے 2009 میں کی گئی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ ریاست کیرالہ میں محبت جہاد کا کوئی ثبوت حاصل نہیں ہوا۔

اس درخواست میں یہ استدلال بھی پیش کیاگیاہےکہ کیرالہ پولیس کامسلسل یہ خیال رہاہے کہ غیر مسلموں کو مذہب تبدیل کرنے کی کوئی سازش موجود نہیں ہے،اس میں مزید کہا گیا ہے کہ 2018 میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ کیرالہ میں خواتین کو زبردستی اسلام قبول کروایاجا رہا ہے۔فلم اوراس کا ٹریلر مساوات اور بھائی چارے کی آئینی اقدار کے دانتوں میں ہیں۔جمعیتہ یہ بھی کہتی ہے کہ 32000 کے قریب لڑکیاں لاپتہ ہو کر داعش میں شامل ہونے کا جھوٹا دعویٰ ” بد نیتی پر مبنی پروپگنڈہ ” ہے۔

وہیں سپریم کورٹ نے آج 2 مئی کو ہی فلم دی کیرالہ اسٹوری کی ریلیز پر روک لگانے کی درخواست کو اس بنیاد پر سننے سے انکار کر دیا کہ یہ بدترین قسم کی نفرت انگیز تقریر اور آڈیو ویژول پروپیگنڈہ ہے۔معزز جسٹس کے ایم جوزف اور بی وی ناگرتھنا کی بنچ کوسینئر ایڈوکیٹ کپل سبل اورایڈوکیٹ نظام پاشا نے بتایا کہ فلم کے یوٹیوب ٹریلر کو جو جمعہ کو ریلیز ہونے والی ہے 16 ملین ویوز حاصل ہو چکے ہیں۔

ایڈوکیٹ نظام پاشا نے کہاکہ یہ فلم نفرت انگیزی کی بدترین قسم ہے اور یہ مکمل طور پر آڈیو ویژول پروپیگنڈہ ہے۔بنچ نے کہاکہ نفرت انگیزتقاریر کی مختلف قسمیں ہیں۔اس فلم کو سرٹیفکیٹ مل گیاہے اورسنسر بورڈ نے اسے کلیئر کر دیا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ کوئی شخص پوڈیم پر آکر بے قابو تقریر کرنے لگے۔اگر آپ فلم کی ریلیز کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو مناسب فورم کے ذریعہ فلم سرٹیفیکیشن کو چیلنج کرنا چاہئے۔

دوسری جانب اس فلم کے خلاف کیرالہ ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے ہائی کورٹ نے درخواست کی سماعت 5 مئی تک ملتوی کر دی۔مدراس ہائی کورٹ میں بھی اس فلم کی نمائش کے خلاف آج ہی ایک درخواست داخل کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ فلم دی کیرالہ اسٹوری سن شائن پکچرز کے بینر تلے ہدایت کار اور پروڈیوسر وپل امرت لال شاہ کی تیار کردہ فلم ہے۔اس فلم میں اداہ شرما، یوگیتا بہانی، سونیا بالانی اور سدھی ادنانی نے کام کیاہے۔اور یہ فلم ہندی،ملیالم،تلگو اور تمل زبانوں میں 5 مئی 2023ء کو دنیا بھر میں ریلیز ہونے والی ہے۔

ڈائرکٹر سدیپتو سین Sudipto Sen# کی لکھی اور ہدایت کاری میں بننے والی فلم دی کیرالہ اسٹوری کے ٹریلر گذشتہ سال ماہ نومبر میں اور دوبارہ ایک ہفتہ قبل یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمزپر وائرل کیے گئے ہیں۔اس ٹریلر اورفلم میں دعویٰ کیاگیاہےکہ تقریباً 32,000 خواتین مبینہ طور پر کیرالہ میں لاپتہ ہوئیں اور انہوں نے مذہب تبدیل کیا،بنیاد پرستی اختیار کی اور مختلف دہشت گرد سرگرمیوں میں تعینات کی گئیں۔

جبکہ دو دن قبل ہی چیف منسٹر کیرالہ پنا رائی وجین نےسوشل میڈیا پرموضوع بحث فلم کیرالہ اسٹوری پرتنقیدکرتےہوئے کہاتھا کہ اس فلم کے ذریعہ کیرالہ جوکہ سیکولرازم کی سرزمین ہے اس کو مذہبی دہشت گردی کے مرکزکےطور پر پیش کرتے ہوئےسنگھ پریوار کےپروپگنڈہ کو آگے بڑھایا گیا ہے۔

یہاں قابل غور بات یہاں یہ ہے کہ گذشتہ سال سے یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر فلم کیرالہ اسٹوری کے ٹیزر/ٹریلر/ویڈیو کے ذریعہ یہ پروپگنڈہ کیا جارہاتھا کہ یہ کیرالہ کی 32,000 لڑکیوں کی سچی کہانی ہے۔جب سوشل میڈیا پر تنقید اور سوالات کاسلسلہ شروع ہوا جس کے بعد کل رات کے سن شائن فلمز کے یوٹیوب چینل پر قبل ازیں لکھےگئے Description# کو تبدیل کرتےہوئے لکھا گیاہے کہ "یہ کیرالہ کے مختلف حصوں کی تین خواتین کی کہانی ہے۔!!” 

اس سلسلہ میں ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فلم کیرالہ اسٹوری کے پہلے والے اور آج کے پوسٹر کووائرل کیا گیا ہے کہ کس طرح 32,000 لڑکیوں کے غائب ہوجانے، اسلام قبول کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں سے جوڑے جانے کا دعویٰ کرنے والےفلم کے ڈائرکٹر اور پروڈیوسر نے ثبوت و شواہد طلب کیے جانے کے بعد یوٹیوب پر اپنی اس فلم کے Description# میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے 32,000 لڑکیوں کی سچی کہانی سے تین لڑکیوں کی کہانی میں تبدیل کردیا۔جس پر شدیدتنقید کی جارہی ہےکہ آخر فلمسازوں کو یہ کرنے کی ضرورت ہی کیوں پڑگئی؟ 

ٹوئٹر پر اس تبدیلی کو لے کر بحث چل پڑی ہے۔ تاریخ داں Advaid@ نامی ٹوئٹر ہینڈل سے یوٹیوب پر کی گئی تبدیلی کے دونوں اسکرین شاٹس ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ” 32،000 سے 03 تک۔اس پروپیگنڈہ فلم کے پیچھے بزدلوں نے خاموشی سے کل یوٹیوب میں کیرالہ کہانی کے ٹیزر کی تفصیل بدل دی ہے۔’کیرالہ کی 32,000 خواتین کی دل دہلا دینے والی کہانیاں’اب’ کیرالہ کی تین نوجوان لڑکیوں کی کہانیاں’ بن چکی ہیں۔”

کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان ترواننت پورم (کیرالہ) ششی تھرور نے بھی آج رات ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” پلاٹ گاڑھا ہو جاتا ہے۔فلم سازوں نے یوٹیوب پرفلم کی تفصیل کو اپ ڈیٹ کیاہے اور 32,000 خواتین کو 3 خواتین میں تبدیل کردیاہے۔اس سے پہلے انہوں نے کہا کہ یہ فلم” کیرالہ میں 32,000 خواتین کی دل دہلا دینے والی کہانیوں”کے بارے میں ہے۔اب یہ کہتے ہیں کہ” کیرالہ اسٹوری، کیرالہ کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والی تین نوجوان لڑکیوں کی سچی کہانیوں کا مجموعہ ہے”۔

کل یکم مئی کو ششی تھرور نے ایک پوسٹر ٹوئٹ کیا تھا جس میں” مسلم یوتھ لیگ،کیرالہ اسٹیٹ کمیٹی” نے اعلان کیا ہے کہ کیرالہ اسٹوری فلم میں کیےگئے اس دعوےکے ثبوت و شواہد پیش کرنےوالوں کو ایک کروڑ روپئے کا انعام دیاجائے گا۔چیلنج قبول کریں اور انعام حاصل کریں۔ اس میں 4 مئی کو 11 بجے دن تا شام 5 بجے تک ثبوت و شواہد تمام اضلاع میں جمع کروانے کی دعوت دی گئی ہے۔

دوسری جانب آج رات فلم کیرالہ اسٹوری کا پریمئر شو جے این یو میں منعقد کیا گیا۔اپنی آنے والی فلم TheKeralaStory# کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستوں پر ہدایت کار سدیپٹو سین نے آج رات میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو اسے دیکھنا چاہئے۔اگر آپ کو یہ فلم پسند آتی ہے تو یہ میرے لیے سب سے بڑا انعام ہوگا۔ہمیں عدالت پر صد فیصد بھروسہ ہے۔لہذا ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا۔ آخر میں سچ کی جیت ہوتی ہے۔

دی کیرالہ اسٹوری ” فلم کا ٹریلر، چیف منسٹر کیرالہ کی تنقید اور تفصیلی رپورٹ سحر نیوز کی اس لنک کو کلک کرکے پڑھی جاسکتی ہے۔” 

چیف منسٹر کیرالہ پنائی راجن وجین کی فلم دی کیرالہ اسٹوری پر تنقید، فلم کوسنگھ پریوار کا پروپیگنڈہ قرار دیا