چیف منسٹر کیرالہ پنائی راجن وجین کی فلم دی کیرالہ اسٹوری پر تنقید، فلم کوسنگھ پریوار کا پروپیگنڈہ قرار دیا

چیف منسٹر کیرالہ کی فلم دی کیرالہ اسٹوری پر تنقید، فلم کوسنگھ پریوار کا پروپیگنڈہ قرار دیا
یوٹیوب پر 14 ملین افراد نے ٹرائلر دیکھا، 5 مئی کو ہندی، ملیالم،تمل اور تلگو میں فلم ریلیز ہوگی

ترواننت پورم: 30/اپریل
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

چیف منسٹر کیرالہ پنا رائی وجین نے سوشل میڈیا پر موضوع بحث فلم کیرالا اسٹوری پر تنقید کرتےہوئے کہا ہے کہ اس فلم کے ذریعہ کیرالہ جو کہ سیکولرازم کی سرزمین ہے اس کو مذہبی دہشت گردی کے مرکز کےطور پر پیش کرتےہوئےسنگھ پریوارکے پروپیگنڈے کو آگےبڑھایا گیا ہے۔

چیف منسٹر کیرالہ نے ریاست کے عوام کو پروپیگنڈہ کے ذریعہ سماج میں بدامنی پھیلانے کی کوششوں سے ہوشیار رہنے کی تلقین کرتے ہوئے ایسی کسی بھی سماج مخالف حرکتوں کے خلاف قانونی کارروائی کا انتباہ دیا۔

چیف منسٹر کیرالہ نے آج ملیالم زبان میں لکھےگئے اپنے فیس بک پوسٹ میں لکھاہے کہ یہ صرف جان بوجھ کر کہا گیا ہے کہ فلم لؤ جہاد پر مبنی ہے، ایک ایسا دعویٰ جسے تفتیشی ایجنسیوں،عدالتوں اور مرکزی وزارت داخلہ نے مسترد کر دیا ہے۔ تب مرکزی وزیر داخلہ اور اس وقت کے مملکتی مرکزی وزیر داخلہ جی۔کشن ریڈی نے پارلیمنٹ میں جواب دیاتھاکہ لو جہاد نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔انہوں نےلکھاکہ یہ سنگھ پریوار نے کیرالہ کو دنیا کے سامنے نیچا دکھانے،اس کے سیکولر ماحول کو تباہ کرنے اور فرقہ پرستی کے بیج بونے کے لیے کیا ہے۔

 

چیف منسٹر پنارائی وجین نے لکھا ہے کہ سنگھ پریوار جھوٹ پر مبنی فلم لےکر آیا ہے کیونکہ اس کی سیاست کیرالہ میں نتیجہ خیز نہیں تھی۔فلم کا ٹیزر ایک بہت بڑا جھوٹ پیش کرتا ہے کہ کیرالہ سے 32,000 خواتین کو تبدیل کر کے اسلامک اسٹیٹ (داعش) میں شامل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ سنگھ پریوار کے جھوٹ کی فیکٹری میں تیار کی گئی جھوٹی کہانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

اپنے اس فیس بک پوسٹ میں چیف منسٹر کیرالہ پنارائی وجین نےسخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”جو لوگ سنیما کو معاشرے میں تقسیم اور دھڑے بندی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں انہیں تخلیقی آزادی کے نام پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔” تخلیقی آزادی کا مطلب معاشرے کو فرقہ وارانہ بنانے اور جھوٹ پھیلانے کا لائسنس نہیں ہے۔”

قبل ازیں کیرالہ میں برسراقتدار سی پی آئی (ایم) اور اپوزیشن کانگریس نے آنے والی اس متنازعہ فلم دی کیرالہ اسٹوری کے خلاف سخت تنقید کی تھی اور اسے ریاست کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ سدیپتو سین Sudipto Sen# کی لکھی اور ہدایت کاری میں بننے والی فلم دی کیرالہ اسٹوری کا ٹیزر(ٹرائلر) حال ہی میں دوبارہ ریلیز کیا گیاہے۔اس فلم کے ذریعہ دعویٰ کیا گیاہے کہ تقریباً 32,000 خواتین مبینہ طور پر کیرالہ میں لاپتہ ہوئیں اور انہوں نےمذہب تبدیل کیا، بنیاد پرستی اختیار کی اور مختلف دہشت گرد سرگرمیوں میں تعینات کی گئیں۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگاکہ فلم کیرالہ اسٹوری سن شائن پکچرز کے بینر تلے ہدایت کار اور پروڈیوسر وپل امرت لال شاہ کی تیار کردہ فلم ہے۔اس فلم میں اداہ شرما، یوگیتا بہانی، سونیا بالانی اور سدھی ادنانی نے کام کیا ہے۔اور یہ فلم ہندی، ملیالم، تلگو اور تمل زبانوں میں 5 مئی 2023ء کوملک میں ریلیز ہونے والی ہے۔

یوٹیوب پرفلم دی کیرالہ اسٹوری کا پہلا ٹیزر(ٹرائلر) 3 نومبر 2022 کو ریلیز کیاگیاتھا۔جسے آج تک 1.2 ملین افراد نےدیکھاہے۔(اس سےمتعلق ایک تفصیلی نیوز اسٹوری سحر نیوز ڈاٹ کام نے 7 نومبر 2022ء کو ویڈیوز اور سوشل میڈیا پرموضوع بحث مواد کےساتھ پیش کی تھی۔جس کی لنک نیچے دی جارہی ہے)

اب دوبارہ سن شائن پکچرز کے یوٹیوب چینل پر فلم دی کیرالہ اسٹوری کا 2 منٹ 45 سیکنڈ پرمشتمل ایک اور ٹیزر (ویڈیو) چار دن قبل یوٹیوب پر پوسٹ کیا گیا ہے۔جسے صرف یوٹیوب چینل پر ہی 14 ملین سے زائد افراد نے دیکھاہے جبکہ اس چینل کے سبسکرائبرس کی تعداد 57 ہزار 700 ہے۔اس ویڈیو پر زائداز 86,000 کمنٹس کیے گئے ہیں جو کہ زیادہ تر اسلاموفوبیا پرمشتمل ہیں۔!!

اس کے علاوہ بھی اس فلم کے اس ویڈیو کو سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر بھی پوسٹ کیا گیا ہے جہاں لاکھوں سوشل میڈیا صارفین نے دیکھا ہے اور یہ ویڈیو اب واٹس ایپ پر بھی وائرل ہے۔

فلم دی کیرالہ اسٹوری کا پوسٹر ٹوئٹ کرتے ہوئے آج شام کانگریس کے سینئر لیڈر و رکن پارلیمان ترواننت پور(کیرالہ) ششی تھرورنےلکھاہےکہ ” یہ آپ کے کیرالہ کی کہانی ہو سکتی ہے۔یہ ہمارے کیرالہ کی کہانی نہیں ہے۔”

یاد رہے کہ ہندی میں موجود انگریزی سب ٹائٹلز پرمشتمل فلم کیرالہ اسٹوری کے ایک ٹیزر (ٹرائلر) کو پہلی مرتبہ 4 نومبر 2022 کو متنازعہ پاکستانی نثراد کینیڈین شہری طارق فتح نے ٹوئٹ کیا تھا۔جس کی اسی ہفتہ 24 اپریل کو کینسر سے موت واقع ہوگئی۔

میڈیا اطلاعات اور سونم مہاجن نامی ٹوئٹر ہینڈل سے کیے گئے ٹوئٹ کے مطابق کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں اسےنذر آتش کیا گیا۔طارق فتح کو مقامی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن مقامی لوگوں نے اس کے افراد خاندان کی اس درخواست کو قبول نہیں کیا جس کےبعد اس کی نعش کو جلادیا گیا۔تاہم طارق فتح کی بیٹی نتاشا فتح نے 28 اپریل کےاپنے ٹوئٹ میں دعویٰ کیاہےکہ ان کےوالد کی وصیت کے مطابق ہی ان کی نعش کو قریبی افراد خاندان اور دوستوں کی موجودگی میں سپرد آگ کیا گیا۔!!

4 نومبر 2022ء کو اس فلم کے ٹیزر کو طارق فتح کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئٹ کیا گیا تھا۔اس وقت اس ویڈیوکےساتھ طارق فتح نےفلم کا حوالہ دئیے بغیرلکھا تھا کہ” بھارت کی 32,000# ہندو لڑکیوں کواسلام قبول کروایا گیا۔ISIS# کی غلاموں کےطور پر انہیں فروخت کیاگیا۔اور اب یہ جیل میں ہیں یا ریت میں دفن ہیں: یہ ان کی کہانی ہے، TheKeralaStory#

اس وقت بھی یہ ویڈیو بہت زیادہ وائرل کیا گیاتھا۔اب دوبارہ فلم کیرالہ اسٹوری کا یہ ٹیزر سوشل میڈیا پر وائرل کیاگیا ہے۔آج تک نیوز چینل کی نیوز اینکر انجنا اوم کشیپ کے علاوہ دیگر گودی میڈیا کے صحافیوں نے فلم کیرالہ اسٹوری کےاس ٹیزر (ویڈیو) کو ٹوئٹ کرتےہوئےلکھا ہے کہ”وپل شاہ کی بے باک اور شاندار فلم، دیکھنے کے قابل!سن شائن پکچرز نے اعلان کیا ہے کہ اپنی بیٹیوں کے لیے سب سے بڑے غیر مرئی خطرے کے چھپے ہوئے سچ کو بے نقاب کرنے کا وقت ہے ۔دی کیرالہ اسٹوری دنیا بھر کے سینما گھروں میں 5 مئی کو ریلیز ہو رہی ہے۔ یہ اپنی بیٹیوں کو بچانے کا وقت ہے۔ SaveOurDaughters# "

کیرالہ کی 32 ہزار لڑکیوں کو داعش میں شامل کرنے والا ایک خاتون کا تہلکہ خیز ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل، حقیقت کیا ہے ؟

 

فلم کیرالہ اسٹوری کے متنازعہ ٹیزر کے خلاف ڈی جی پی کی ہدایت پرفلم کے عملہ کے خلاف ایف آئی آر درج