وقارآباد: وزیر ریلوے اشونی ویشنو کی نگرانی میں”کاوچ آلہ” کے ذریعہ ایک ہی ٹریک پر دو ٹرینوں کے ٹکراؤ کو روکنے کا تجربہ کامیاب

وزیر ریلوے اشونی ویشنو کی نگرانی میں”کاوچ آلہ” کے ذریعہ
ایک ہی ٹریک پر دو ٹرینوں کے ٹکراؤ کو روکنے کا تجربہ کامیاب
لنگم پلی اور وقارآباد کے درمیان ٹرین اور انجن کی مدد سے تجربہ

وقارآباد/تانڈور: 05۔مارچ (سحرنیوزڈاٹ کام)

مرکزی وزیر ریلوے مسٹر اشونی ویشنوئی کی نگرانی میں ساؤتھ سنٹرل ریلوے کی جانب سے لنگم پلی ریلوے اسٹیشن اور وقارآباد ریلوے اسٹیشن ریلوے لائن پر مواضعات گولا گوڑہ اور چٹی گڈہ ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان ایک ہی ریلوے ٹریک پر انسانی یا تکنیکی غلطی یا پھر سگنل نظام کے ناکارہ ہوجانے کے باعث آجانے والی دوتیز رفتار ٹرینوں میں ٹکراؤ کو روکنے کی غرض سے بنائے گئے خودکار آلہ کا تجربہ کیا گیا جو کہ انتہائی کامیاب رہا۔

اس موقع پرکل تجربہ کے دؤران استعمال کئے گئے اس خودکار آلہ کا نام "کاوچ "رکھا گیا ہے۔ جبکہ اس آلہ کے تجربہ کا آغاز دس سال قبل کیا گیا تھااور اس آلہ کانام” ٹی۔کاس( ٹرین کولیثرن اوائیڈنس سسٹم )رکھا گیا تھا۔تاہم اب اسے "میک ان انڈیا ـ کے تحت” کاوچ” کا نام دیا گیا ہے۔

اس تجربہ کے دؤران ایک ٹرین کے انجن میں مرکزی وزیر ریلوے مسٹر اشونی ویشنوئی اور دیگر عہدیدار سوار تھے جبکہ مخالف سمت سے آنے والے ایک ریل انجن میں صدرنشین ریلوے بورڈ و چیف ایگزیکٹیو آفیسر مسٹر ونئے کمار ترپاٹھی سوار تھے۔

اس تجربہ کے دؤران لنگم پلی کی جانب سے ریلوے انجن کو اور وقارآباد کی جانب سے ریل کو ایک ہی ریلوے ٹریک پر دؤڑایا گیا ان دونوں میں حادثات کو روکنے والے "کاوچ” آلے نصب کئے گئے تھے ۔ریل فی گھنٹہ 100 کلومیٹر کی رفتار سے دؤڑرہی تھی جس میں مرکزی وزیر ریلوے سوار تھے جبکہ مخالف سمت سے آنے والے ریل انجن کی رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

ان دونوں کے درمیان 600؍میٹر کا فاصلہ تھا لیکن دونوں جانب کے ٹرین ڈرائیورس نے اپنی طرف سے بریک نہیں لگائے اور نہ رفتار کم کرنے کی کوشش ہی کی تاہم مخالف سمتوں سے آنے والے ریل انجن اور ٹرین کی رفتار خودبخود کم ہونے لگی اور ان دونوں کےدرمیان جب فاصلہ 380 میٹر تھا تو یہ دونوں خود کار آلہ کاوچ کی وجہ سے رک گئے۔

جس کے بعد مرکزی وزیر ریلوے مسٹر اشونی ویشنوئی نے تالیاں بجاتے ہوئے اس کامیاب تجربہ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ساتھ میں موجود ریلوے کے عہدیداروں اور ریل ڈرائیور کو پیٹھ تھپا تھپا کر مبارکباد دی۔

بعدازاں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر ریلوے مسٹر اشونی ویشنوئی نے کہا کہ اس طرح کے حادثات کو روکنے کے لئے یہ آلہ انتہائی موثر ثابت ہوگا انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلہ کے تحت جاریہ سال اس کاوچ آلہ کو دو ہزار کلومیٹرفاصلہ کی ریلوے لائن پر دؤڑنے والی ٹرینوں میں استعمال کیا جائے گا۔بعدازاں اس میں مرحلہ وارسطح پر توسیع دی جائے گی۔

اس تقریب میں رکن پارلیمان نظام آباد دھرما پوری اروند،ارکان اسمبلی چیوڑلہ،پرگی اور وقارآباد کالے یادیا،مہیش ریڈی اور میتکو آنند کے علاوہ دیگر شریک تھے۔

 

مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنونے کہاکہ اس آلہ کور یسرچ ڈیزائن اسٹانڈرڈ آرگنائزیشن (آر ڈی ایس او) اور دیگر ملکی اداروں کی مدد سے تیار کیا گیا ہے جسے مکمل طور پر سودیشی کہا جاتاہے۔ساتھ ہی مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے کہا کہ اس کاوچ آلہ کو دیگر ممالک کو بھی درآمد کیا جائے گا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اس طرز کے حفاظتی آلہ کو دیگر ممالک سے خریدا جائے تو فی کلومیٹر دو کروڑ روپئے تک کا خرچہ ہوگا جبکہ اب اس کاوچ سے 50 لاکھ روپئے فی کلومیٹر ہی خرچ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ آلہ حفاظت کے معاملہ میں چوتھے اسٹانڈرڈ کا حامل ہے۔

وزیر ریلوے نے بتایا کہ یہ آلہ صرف ایک ہی ٹریک پر دو ٹرینوں کے تصادم کو نہیں روکتا بلکہ آگے موجود ریلوے ٹریک کی خرابی سے بھی واقف کرواتا ہے۔اسی طرح پیچھے آنے والی ٹرین کے فاصلہ اور دوری سے بھی ٹرین ڈرائیور کو الرٹ کرتا ہے۔

مرکزی وزیر ریلوے نے کہا کہ آج 180 کلومیٹر کی رفتارکے ساتھ کیا گیا تجربہ کامیاب رہا اب 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پرمشتمل تجربہ بھی کیا جائے گا۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ” ٹرین کولیثرن اوائیڈنس سسٹم (ٹی۔کاس ) آلہ لکھنئو میں موجود ریسرچ ڈیزائن اسٹانڈرڈ آرگنائزیشن (آر ڈی ایس او)،کیر نیکس،میدھا اور حیدرآباد میں موجود ہندوستان بیاٹری لمیٹیڈ کی مشترکہ ایجاد ہے۔

اور ملک میں پہلی مرتبہ 11 اکتوبر 2012ء کو اس تجربہ کا آغاز ضلع وقارآباد کے حلقہ اسمبلی تانڈور میں موجود بشیر آباد منڈل کے ناوندگی اور منتٹی ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان کامیابی کے ساتھ انجام دیا گیا تھا۔پھر دوبارہ 16 اکتوبر 2012ء کو اسی مقام پریہ تجربہ دہرایا گیا تھا۔

پھر 12 جنوری 2014 ؍کو اس کا آخری تجربہ بھی عمل میں لایا گیا تھا اس دؤران ناوندگی،منتٹی اور کرناٹک کے کرگنٹہ ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان جس کا فاصلہ 30 کلومیٹر ہے پر دو مسافر ٹرینوں میں جس میں مسافرین موجود نہیں تھے اور ایک ٹرین میں 3 بوگی اور دوسری ٹرین میں 6 بوگی لگائے گئے تھے۔

ان دونوں ٹرینوں کے انجن میں” ٹرین کولیثرن اوائیڈنس سسٹم (ٹی سی اے ایس)سسٹم”نامی آلہ نصب کیا گیا تھا اور ان دو ٹرینوں کو ایک ہی ٹریک پر ایک دوسرے کے مخالف دوڑایا گیا اس تجربہ کے دوران جب رفتار کے ساتھ ایک ہی ٹریک پر دونوں ٹرینیں قریب آتی چلی گئیں تو دونوں ٹرینوں میں نصب آلے سے سا ئرن بجنے لگے اور ڈرائیورس چوکس ہوگئے اور 100 میٹر تا 500 میٹر کی دوری پر ہی بناء بریک لگائے یہ دونوں ٹرینیں رُک گئیں۔

واضح رہے کہ ملک میں پہلی بارمحکمہ ریلوے کی جانب سے یہ تجربہ ضلع وقارآباد کے تانڈور اسمبلی حلقہ میں موجود ناوندگی اور منتٹی ریلوے اسٹیشنوں کے درمیا ن کیا گیا تھا۔اس وقت ان تجربوں میں مصروف ماہرین نے بتایا تھا کہ ساری دنیا میں ہندوستانی ریلوے کو ایسا آلہ ایجاد کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے جس سے قیمتی انسانی زندگیوں کی حفاظت ہوگی۔