سومی میں پھنسے ہوئے طلبہ کا روس کی سرحد کی جانب کوچ کرنے کا اعلان، یہ ہمارا آخری ویڈیو ہوگا، اگر ہمیں کچھ ہوا تو حکومت ہند ذمہ دار ہوگی

سُمی میں پھنسے ہوئے سینکڑوں طلبہ کا روسی سرحد کی جانب کوچ کرنے کا اعلان
یہ ہمارا آخری ویڈیو ہوگا،اگر ہمیں کچھ ہوا تو حکومت ہند ذمہ دار ہوگی
وزارت خارجہ نے کہا اپنی پناہ گاہ میں رہیں،خطرہ نہ لیں

نئی دہلی: 06۔مارچ
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک )

یوکرین کے سومی ( سُمی Sumy# ) نامی شہر میں پھنسے ہوئے ہندوستانی طلبہ کی حالت قابل رحم ہے جن کی تعداد 700 سے زائد بتائی جارہی ہے۔روس کے حملہ کے بعد سے وہاں سے مسلسل ان طلبہ کی جانب سے روانہ کیے جارہے ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جو کہ انتہائی قابل رحم اور دل دہلادینے والے ہیں۔میڈیا اطلاعات کے مطابق 300 ہندوستانی طلبہ خارکیف میں بھی پھنسے ہوئے ہیں۔

ان طلبہ کے مطابق وہاں روس کے حملہ کے بعد برقی سربراہی بند ہوگئی ہے۔پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے حتی کہ پینے کے لیے تک پانی دستیاب نہیں ہے۔سومی سے ایک ویڈیو ایسا بھی وائرل ہوا کہ یہ ہندوستانی بچے وہاں سحربرفباری کے دؤران باہری مقامات پر جمع ہونے والی برف کو سمیٹ کر اور اسے پگھلاکر پانی پینے پر مجبور ہیں۔اور بار بار حکومت ہند سے اپیل کررہے ہیں کہ انہیں سومی سے نکالا جائے۔

سومی اسٹیٹ یونیورسٹی کے طلبہ وہاں سے متعدد ویڈیوز روانہ کررہے ہیں کہ وہاں صورتحال دن بہ دن خراب ہوتی جارہی ہے۔اور طلبہ خوف و ہراس کا شکار ہیں۔اور وہاں بنکروں میں چھپ کر دن گزار رہے ہیں۔

وہیں سوشل میڈیا پر ان پریشان حال مشرقی یوکرین کی سومی اسٹیٹ یونیورسٹی سحرکے ہندوستانی طلبہ کا ایک تازہ ویڈیو آیا ہے۔جس میں طلبہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے 50 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود روسی سرحد تک ایک پرخطر سفر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اس ویڈیو میں ہندوستانی پرچموں کے ساتھ طلبہ کی بڑی تعداد نے واضح کردیا کہ ان کا یہ آخری ویڈیو ہوگا اور اگر انہیں کچھ ہوجاتا ہے تو اس کے لیے حکومت ہند اور انڈین ایمبسی ذمہ دار ہوگی۔اور اگر انہیں یوکرین سے بحفاظت نہیں نکالا جاتا تو مانا جائے کہ حکومت کا” آپریشن گنگا” ناکام ہوگیا ہے!!

جس کے فوری بعد ہندوستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے روس اور یوکرین کی حکومتوں پر متعدد ذرائع سے فوری جنگ بندی کے لیے”سخت دباؤ” ڈالا ہے تاکہ یوکرین میں جاری جنگ کے دوران پھنسے ہوئے طلبہ کے لیے ایک محفوظ راہداری بنائی جا سکے۔ وزارت خارجہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزارت اور ہندوستانی سفارت خانے ان طلبہ کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں،جو متاثرہ علاقہ سے انخلاء کے لیے مایوس اور جذباتی درخواستوں پر مشتمل ویڈیوز بھیج رہے ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان مسٹر ارندم باغچی نے کہا ہے کہ”ہمارے طلبہ کو حفاظتی و احتیاطی تدابیر اختیار کرنے،پناہ گاہوں کے اندر رہنے اور غیر ضروری خطرات سے بچنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔”

یاد رہے کہ سومی میں پھنسے ہوئے ہوئے ہندوستانی طلبہ سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر پر لگاتار ویڈیوز پوسٹ کرتے ہوئے لکھ رہے ہیں کہ انہیں براہ روس واپس لانا ہے جس کی سرحد اس مقام سے صرف 48 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔اور جنگی حالات میں ان طلبہ کا یوکرین کی مغربی سرحد پر جانا ناممکن ہے کیونکہ سومی شہر سے اس کا فاصلہ 1,300 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ روس کی جانب سے 24 فروری کو یوکرین سحر پر حملہ اور وہاں کے جنگی حالات دنیا بھر کے حساس انسانوں کو بے چین کیے ہوئے ہیں۔جنگ زدہ یوکرین میں پھنسے ہوئے ہندوستانی طلبہ کی تعداد زائد از 25,000 بتائی جاتی ہے۔جن میں سے اب تک مرکزی حکومت آپریشن گنگا کے تحت چند ہزار ایسے طلبہ کو ملک واپس لاچکی ہے جو مشکلات اور مصائب کا سامنا کرتے ہوئے یوکرین کے پڑوسی ممالک سلوواکیہ، پولینڈ،رومانیہ مالڈووا اور ہنگری کی سرحدیں عبور کرکے ان ممالک میں داخل ہوئے تھے۔یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

تاہم اب بھی کئی ہزار طلبہ یوکرین کے مختلف ایسے شہروں میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں سے فاصلہ اتن طویل ہے کہ وہ مذکورہ بالا پڑوسی ممالک تک نہیں پہنچ سکتے۔