یوکرین میں پھنسے طلبہ کی پریشانیوں پر آنند مہندرا بے چین
ہندوستان میں فوری میڈیکل کالج کے قیام کا منصوبہ
حیدرآباد کی مہندرا یونیورسٹی میں میڈیکل کالج کے قیام کا امکان!
نئی دہلی: 06۔مارچ
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)
یوکرین کے مختلف شہروں میں ہندوستانی طلبہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ہندوستانی شہری بھی یوکرین میں موجود ہیں۔جنہیں مرکزی حکومت ان طلبہ کے یوکرین کے پڑوسی ممالک کو پہنچنے کے بعد آپریشن گنگا کے تحت ملک واپس لانے میں مصروف ہے۔وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یوکرین میں جملہ 18,000 طلبا و طالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں۔وہیں میڈیا ذرائع کی اطلاعات میں ان کی تعداد 25,000 سے زائد بتائی جارہی ہے!!۔
جنگ زدہ یوکرین کے مختلف شہروں میں ہنوز ہزاروں طلبہ پھنسے ہوئے ہیں۔سب سے زیادہ پریشان یوکرین کے شہر سومی میں پھنسے ہوئے ہندوستانی طلبہ کی بتائی جارہی ہے جو کہ سومی اسٹیٹ یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھے۔ان کی سب سے زیادہ پریشانی یہ ہے کہ یہ شہر روس کی سرحد سے صرف 45 کلومیٹر دور بتایا جاتا ہے جبکہ دیگر پڑوسی ممالک کی سرحدیں سینکڑوں کلومیٹر کے فاصلہ پر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ طلبہ سومی سے اتنا طویل فاصلہ طئے کرکے یوکرین کے پڑوسی ممالک سلوواکیہ،پولینڈ،رومانیہ مالڈووا اور ہنگری کی سرحدوں تک نہیں پہنچ سکتے۔
وہاں پھنسے ہوئے طلبہ روزآنہ جو ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کررہے ہیں اس کے مطابق سومی میں روس کی بمباری سے ریلوے اور روڈ ٹرانسپورٹ ذرائع کو نقصان پہنچا ہے۔ایسے میں سومی میں پھنسے ہنددستانی طلبہ نے اعلان کردیا ہے کہ وہ روس کی سرحد تک پہنچیں گے جس پر وزارت خارجہ نے انہیں منع کردیا ہے کہ وہ اپنی پناگاہوں میں ہی رہیں ایسا کوئی کام نہ کریں۔
یوکرین میں پریشان حال ہندوستانی طلبہ کے ویڈیوز اوران سے متعلق خبریں پڑھ کر ملک کے نامور صنعت کار مہندرا اینڈ مہندرا کمپنی کے مالک مسٹر آنند مہندرا Anand Mahindra@ بے چین ہوگئے ہیں۔اور انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ مہندرا گروپ کی جانب سے ملک میں میڈیکل قائم کیا جائے تاکہ ملک کے طلبہ دیگر دور دراز ممالک نہ جاکر اپنے ہی ملک میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرسکیں۔
اس سلسلہ میں مسٹر آنند مہندرا نے ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ہندوستان میں میڈیکل کالجوں کی اتنی کمی ہے۔انہوں نے اپنے اس ٹوئٹ میں ٹیک مہندرا کے مینجنگ ڈائرکٹر و چیف ایگزیکٹیو آفیسرمسٹرسی پی گرنانی CP Gurnani@ کو ٹیاگ کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا ہم” مہندرا یونیورسٹی کے کیمپس میں میڈیکل اسٹڈیز کا ادارہ قائم کرنے کے ذرائع تلاش کرسکتے ہیں؟۔
مسٹر آنند مہندرا نے اپنے اس ٹوئٹ کے ساتھ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ بھی پوسٹ کی ہے۔جس میں وزارت خارجہ کے حوالے سے اعداد وشمار لکھے گئے ہیں کہ چین میں 23،000، یوکرین میں 18،000، روس میں 16،500، فلپائن میں 15،000، کرقزستان میں 10،000،جارجیا میں 7،500، بنگلہ دیش میں 5،200،قزاقستان میں 5،200،پولینڈ میں 4،000 اور آرمینا میں 3،000 ہندوستانی طلبہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
مسٹر آنند مہندرا کے اس ٹوئٹ کے جواب میں ٹیک مہندرا کے مینجنگ ڈائرکٹر و چیف ایگزیکٹیو آفیسرمسٹرسی پی گرنانی نے کمنٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”ہاں،آنند۔صحت کا شعبہ ٹیکنالوجی میں ہمارے لیے توجہ کا مرکز رہا ہے۔تاہم یہ”مہندرا یونیورسٹی” میں یہ نہیں ہے۔اور یہ معاملہ فوری روڈ میاپ میں نہیں ہے۔لیکن ٹیم مستقبل کے لیے جائزہ لے گی”۔
سوال یہ ہے کہ اگر مہندرا گروپ کی جانب سے ملک میں میڈیکل کالج قائم کیا جاتا ہے تو ملک کی کس ریاست اور کونسے شہر میں قائم کیا جائے گا؟ اس سلسلہ میں چونکہ مہندرا یونیورسٹی ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں قائم ہے تو اس کے امکانات بہت زیادہ ہیں کہ یہ میڈیکل کالج اسی مہندرا یونیورسٹی کے کیمپس میں قائم کیا جائے گا!!

