سپریم کورٹ نے بلقیس بانو کیس کے 11 مجرمین کی درخواست مسترد کردی

سپریم کورٹ نے بلقیس بانو کیس کے 11 مجرمین کی درخواست مسترد کردی
دو ہفتوں میں خود سپردگی کا حکم برقرار

نئی دہلی : 19۔جنوری (سحرنیوز/ایجنسیز)

سپریم کورٹ نے آج جمعہ کے دن گجرات کے بلقیس بانو اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کیس کے 11 سزاء یافتہ مجرموں کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے کہ انہیں خود سپردگی کے لیے مختلف ذاتی وجوہات کے پیش نظر مزید مہلت دی جائے۔

معزز جسٹس بی وی ناگارتھنا اور معزز جسٹس اجول بھویان پرمشتمل دو رکنی بنچ نے سپریم کورٹ کا اپنا فیصلہ برقرار رکھاہےکہ وہ دو ہفتوں میں مجرمین خود کو حکام کےحوالے کردیں۔درخواست کو مسترد کرتےہوئے عدالت عظمیٰ نے کہاکہ درخواست میں بتائی گئیں وجوہات انہیں 8 جنوری کے دو ہفتوں کے اندر خود سپردگی کے حکم کی تعمیل کرنے سے نہیں روکتی ہیں۔آج سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ کی جانب سے اس درخواست کو مسترد کر دئیے جانے کے بعد اب اتوار 21 جنوری کو ان مجرموں کو خود کو جیل حکام کے سپرد کرنا ہوگا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سزاء کی تکمیل سے قبل گزشتہ سال گجرات حکومت کی جانب سے رہاء کیے گئے ان 11 مجرموں کے فیصلہ کو غلط بتاتے ہوئے 8 جنوری کو فیصلہ صادر کیا تھا کہ وہ دو ہفتوں میں خود سپرد ہوجائیں اور خود کو جیل حکام کے سپرد کر دیں۔

گزشتہ سال یوم آزادی کےموقع پر گجرات حکومت کی جانب سے ان مجرموں کی رہائی کےخلاف بلقیس بانو سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی تھیں۔ ان کے علاوہ سی پی آئی (ایم) قائد سبھاشنی علی، آزاد صحافی ریوتی لال اور سابق وائس چانسلر لکھنؤ یونیورسٹی روپ ریکھا ورمانے بھی چیلنج پٹیشن سپریم کورٹ میں داخل کی تھیں۔

میڈیا اطلاعات کےمطابق ان 11 مجرموں میں سے 9 مجرم ملک کی اعلیٰ عدالت کے اس فیصلہ کےبعد اپنے خاندانوں سمیت روپوش ہوگئے ہیں ان کے مکانات مقفل ہیں۔!! لیکن انہی 10 مجرموں کی مشترکہ درخواست سپریم کورٹ میں داخل کی گئی تھی کہ خاندانی ذمہ داریوں، ضعیف والدین کی دیکھ بھال،موسم سرما کی فصلوں کی کٹائی اور صحت کی صورتحال جیسی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے خود سپردگی کے لیے مزید مہلت طلب کی تھی۔اپنی درخواست میں 9 مجرموں نے مزید 6 ہفتے کی توسیع کی درخواست کی تھی جبکہ ایک مجرم نے مزید چار ہفتوں کا اضافی وقت مانگا تھا۔

8 جنوری کو سپریم کورٹ نے 2002 کے گجرات میں برپا کیے گئے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران بلقیس بانو کے ساتھ عصمت دری اور ان کی 3 سالہ لڑکی کے قتل کے علاوہ ان کے جملہ 7 افراد خاندان کو قتل کرنے کے الزام میں سزا یافتہ تمام 11 مجرموں کی قبل از وقت رہائی کی اجازت دیتے ہوئے گجرات حکومت کی معافی کو ختم کر دیاتھا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا تھا کہ گجرات حکومت کے پاس مہاراشٹر میں سنائی گئی سزا کی معافی کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔اس میں کہا گیا تھا کہ گجرات حکومت نے مئی 2022 کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست داخل نہ کرکے مہاراشٹر حکومت کی طاقت کو چھین لیا ہے۔

یاد رہےکہ ملک کی یوم آزادی کی 75 ویں سالگرہ کےضمن میں منائے جارہے”آزادی کے امرت مہوتسو”کےموقع پر 14 اگست 2022ء کوحکومت گجرات کی جانب سےان 11 قیدیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد کے نام پر رہا کیا گیا تھا۔

گجرات حکومت نے 17 اکتوبر 2022ء کو سپریم کورٹ کو بتایاتھا کہ 2002ء کے گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری کے لیے مجرم قرار دئیے گئے 11 مجرموں کو رہا کر دیا گیا،کیونکہ وہ 14 سال سے جیل میں تھے اور ان کا برتاؤ اچھا پایا گیا تھا۔سپریم کورٹ ان افراد کی رہائی کو چیلنج کرنے والی تین درخواستوں کی سماعت کر رہی تھی،جو یوم آزادی کےموقع پرحکومت گجرات کی جانب سے آزادکیے جانے کےخلاف دائر کی گئی تھیں۔

سپریم کورٹ میں داخل کردہ اپنے ایک حلف نامہ میں گجرات حکومت نےسپریم کورٹ کو بتایاتھا کہ مرکزی وزارت داخلہ نے 11 جولائی 2022ء کو ایک مکتوب کے ذریعہ ان 11 مجرموں کی قبل از وقت رہائی کومنظوری دی تھی۔

15 اگست 2022ء کو ان مجرموں کی جیل سے رہائی کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی شرمناک ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہوئی تھیں جن میں دیکھا گیا تھا کہ ان 11 مجرموں کی گودھرا سب جیل سے رہائی کے بعد ان کے پیر چھو کر آشیرواد لیتے ہوئے، مٹھائی کھلا کر اور تلک لگاکر باقاعدہ ان کا استقبال کیا گیا تھا جیسے یہ کسی جنگی محاذ سے دشمنوں کو زیر کرکے یا کوئی قابل فخر کارنامہ انجام دےکر لؤٹے ہوں!!۔افسوس کہ ان میں چند خواتین بھی شامل تھیں۔

ان کی ایسی تصاویر بھی وائرل ہوئی تھیں جن میں بتایا گیا تھا کہ وشوا ہندو پریشد کی جانب سے ان 11 قاتلوں کو تہنیت بھی پیش کی گئی بعد ازاں گجرات کے ایک بی جے پی کے رکن اسمبلی نے کہا تھا کہ رہاء کیے گئے 11 مجرم سنسکاری لوگ ہیں۔!!

بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت ریزی،ان کی تین سالہ بچی سمیت سات افراد خاندان کےقتل کےمعاملہ میں اس وقت عدالت نے”رادھےشیام شاہ، جسونت چتربھائی نائی، کیشو بھائی ودانیا، بکا بھائی ودانیا،راجی بھائی سونی،رمیش بھائی چوہان، سیلیش بھائی بھٹ،بپن چندرا جواشی،گووند بھائی نائی،متیش بھٹ اور پردیپ مودھیا کاجرم ثابت ہوجانےکے بعد انہیں عمر قید کی سزاسنائی تھی۔”

ان مجرموں کو آزادی کا امرت مہوتسو کےضمن میں گجرات حکومت نے گزشتہ سال یوم آزادی کے موقع پر رہا کردیا تھا۔جس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔حکومت گجرات کے اس فیصلہ کی کئی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے علاوہ سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

بلقیس بانو کیس کی مکمل تفصیلات، رہائی کے بعد ظاہر کیے گئے ردعمل پر خصوصی رپورٹ اور ویڈیوز اس لنک پر "

بلقیس بانو کی عصمت ریزی،تین سالہ لڑکی سمیت 14 افراد کے 11 قاتلوں کی رہائی کیوں؟ بیرسٹر اویسی،راہول گاندھی،کے ٹی آر ، جماعت اسلامی ہند نے اٹھائےسوال

مرکزی حکومت نے بلقیس بانو کے 11 مجرموں کی رہائی کو منظوری دی تھی، گجرات حکومت کا سپریم کورٹ میں حلف نامہ

یہ بھی پڑھیں "

ٹرین میں ایک مسافر کی ٹی ٹی ای کے ہاتھوں بے تحاشہ مار پیٹ، مسافر کے ساتھ اہانت آمیز فحش کلامی اور جانوروں جیسا سلوک

بہار میں چلتی ٹرین کی کھڑکی سے موبائل فون چوری کرنے کی کوشش، مسافر چور کا ہاتھ پکڑ کر پانچ کلومیٹر تک کھڑکی پر لٹکا کر پٹائی کرتے رہے

منور رانا کا انتقال اردو دنیا کا عظیم نقصان، ماں پر شاعری اور مہاجر نامہ سے منفرد پہچان