بدن میں دؤڑتا سارا لہو ایمان والا ہے
مگر ظالم سمجھتا ہے کہ پاکستان والا ہے
منور رانا کا انتقال اردو دنیا کا عظیم نقصان
ماں پر شاعری اور مہاجر نامہ سے منفرد پہچان
حیدرآباد: 15۔جنوری
(سحر نیوز/یحییٰ خان)
یہ خبر انتہائی رنج اور افسوس کےساتھ پڑھی جائےگی کہ ملک کے نامور و بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر و ادیب منور رانا کا اتوار کی رات دیر گئے انتقال پُرملال ہوگیا۔منور رانا کے انتقال سے اردو شعر ادب کی دنیا کاعظیم نقصان ہوا ہے۔اردو کےمعروف شاعرمنور رانا کا لکھنؤ کے پی جی آئی ہسپتال میں دل کا دؤرہ پڑنے سے انتقال ہوا۔ان کی عمر 71 سال تھی۔نماز جنارہ آج بروز پیر ادا کی جائے گی۔
500 اشعار پر مشتمل مہاجر نامہ جیسی طویل اور شاہکار مانی جانے والی نظم،ڈھیروں مشہور غزلوں اور زود عام اشعارکے خالق منوررانا گزشتہ کئی ماہ سے علیل تھے۔اور وہ پی جی آئی ہسپتال لکھنؤ میں زیر علاج تھے۔وہ کینسر، گردے اور دل کے امراض میں مبتلا تھے۔
منور رانا 26 نومبر 1952ء کو اتر پردیش کے رائے بریلی میں پیداہوئے،منور رانا اردو ادب اور شاعری میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے تھے۔ان کا شاعرانہ انداز اردو کے شیدائیوں تک رسائی کےلیے قابل ذکر تھا۔کیونکہ وہ فارسی اور عربی سے گریز کرتےہوئے اکثر ہندی اور اودھی الفاظ کواپنی شاعری میں برتنے کا ہنر رکھتےتھے۔اسی فن نے انہیں ہندوستان کےساتھ ساتھ دنیاکے ہر اس گوشہ میں جہاں جہاں اردو بولی جاتی ہے شہرت کی بلندیاں عطا کیں۔منور رانا نے ” ماں "کے پاکیزہ موضوع کو اس قدر برتا ہے گویا انہوں نے اسے اپنے حق میں” پیٹنٹ ” کرا لیا۔ان کی والدہ محترمہ کا انتقال 9 فروری 2016ء کو ہوا تھا۔
منور رانا نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کولکتہ میں گزارا جہاں ان کا ٹرانسپورٹ کا کاروبار تھا۔ہندوستان اور بیرون ملک مشاعروں میں ان کی موجودگی نمایاں مانی جاتی تھیں۔
اپنے پورے کیریئر کے دوران منور رانا کو ان کی شاعری کی کتاب ” شہدابہ ” کے لیے ڈسمبر 2014ء میں ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ سے نوازا گیا اس کے علاوہ انہیں متعدد ایوارڈز اور اعزازات بھی حاصل ہوئے۔تاہم انہوں نے چند سال قبل ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ ایوارڈ واپس کر دیا۔اس وقت ایک مخصوص گروہ نے انہیں اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔تاہم وہ اپنے موقف پر قائم رہے۔بعدازاں جب ان کی جانب سے وضاحت کی گئی تو اردو طبقہ نے بھی انہیں اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
منور رانا کو امیرخسرو ایوارڈ،میر تقی میر ایوارڈ،غالب ایوارڈ،ڈاکٹر ذاکر حسین ایوارڈ اور سرسوتی سماج ایوارڈز حاصل ہوئے۔ان کی کئی تخلیقات کا متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
منور رانا کی کتابیں :- بغیر نقشے کا مکان، جنگلی پھول، چہرے یاد رہتے ہیں، سخن سرائے، سفید جنگلی کبوتر، ماں، کہو ظل الٰہی سے
” جناب معین شاداب 19 جون 2021ء کو” منور رانا: غزل کا معصوم اور مقدس چہرہ"کےعنوان سے قومی آواز کےاپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ منور رانا کا اپنا تخلیقی جغرافیہ اور اپنا شعری محاورہ ہے۔ان کی شاعری اپنی دھرتی اور اپنا آکاش رکھتی ہے۔ ہندستانی زبان کے رنگ سے بھر پور ان کی غزل ” لوک غزل ” کی مثال ہے۔جو ہماری تہذیب اور معاشرت کی بھرپور نمائندگی کرتی ہے۔”
منور رانا کے سخن کے کئی حوالے ہیں،جو ہمیں غزل کے اس تازہ کار شاعر کی امتیازی شناخت کے اسباب تک پہنچاتے ہیں۔ان کے اشعار میں رشتوں کا حسن ہے،وہ ٹوٹتے بکھرتے بشری رابطوں کو جوڑتے ہیں۔وہ صارفیت کے اس عہد میں انسانی رشتوں کی قیمت نہیں،قدر طے کر تے ہیں۔محنت کشوں کے پسینے کو انہوں نے اپنے قلم کی روشنائی بنایاہے۔منور رانا سماجی خرابیوں کےخلاف شکوہ نہیں احتجاج کرتے ہیں۔ حق و انصاف کی خاطر اقتدار سے ٹکر لیتے ہیں، جد وجہد کرتے ہیں۔
درد کو محفوظ کرنے والی ان کی غزلوں میں اداسی تو ہے لیکن قنوطیت نہیں۔وہ خوابوں کے نہیں امیدوں کی شاعر ہیں۔ اپنی برتی اور اپنی جی ہوئی منو رانا کی شاعری آنسوؤں اور مسکراہٹوں کے درمیان کے فاصلے کو کم کرنا چاہتی ہے۔وہ کسی خاص اہتمام سےشعر نہیں کہتے،بس اپنے دل کی بات لکھتے جاتے ہیں۔
منور رانا کی بڑی شناخت یہ ہے کہ انہوں نے بت ہزار شیوہ غزل کو وہ معصویت اور تقدس بخشا ہے کہ وہ مہذب گھرانوں کی بہو بیٹی بن گئی ہے۔غزل اپنی صدیوں پرانی روایت کےمطابق آج بھی صنف نازک سےمکالمہ کرتی ہے۔لیکن یہ صنف نازک صرف محبوبہ کیوں؟ ماں، بیٹی، بہن یا بہو کیوں نہیں؟
بے لوث رشتوں کی خوبصورتی سے اپنے شعری کینوس کو سجانے والے منور رانا نے ” ماں "کے پاکیزہ موضوع کو اس قدر برتا ہے گویا انہوں نے اسے اپنے حق میں” پیٹنٹ ” کرالیا ہے۔انہوں نے مختلف زاویوں اور پہلوئوں سے ماں پر اتنے اشعار کہے ہیں کہ ان کی الگ سے پوری ایک کتاب بن گئی ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں ماں کے چہرے کو محبت سے نہارتے نہارتے،اس کی جھریوں کی تلاوت کرتے کرتے غزل جنتی ہوگئی۔( بشکریہ : قومی آواز )
مکمل مضمون اس لنک کو کلک کرکے پڑھا جا سکتا ہے :-
https://www.qaumiawaz.com/poem/munawar-rana-innocent-and-holy-face-of-ghazal-moin-shadab
پاکیزہ و مقدس ہستی ” ماں ” پر لکھے گئے منور رانا کے چند اشعار :-
٭٭ کسی کو گھر ملا حصّہ میں یا کوئی دُکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصّے میں ماں آئی
٭٭ منوّرؔ تم کبھی ماں کے آگے کُھل کر نہیں رونا
جہاں بنیاد ہو اِتنی نمی اچھی نہیں ہوتی !
٭٭ چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
٭٭ ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا
میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے
٭٭ اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
٭٭ جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہے
ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہے
” منور رانا ماں پر اشعار سناتے ہوئے "
٭٭ کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میں
یہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے
٭٭ تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہوں گے اے فلک
مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی
٭٭ یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوں
اس پیڑ کا سایا مرے بچوں کو ملے گا
٭٭ برباد کر دیا ہمیں پردیس نے مگر
ماں سب سے کہہ رہی ہے کہ بیٹا مزے میں ہے
٭٭ یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا
میں جب تک گھر نہ لوٹوں میری ماں سجدے میں رہتی ہے
٭٭ میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں
صرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا
٭٭ دن بھر کی مشقت سے بدن چور ہے لیکن
ماں نے مجھے دیکھا تو تھکن بھول گئی ہے
٭٭ شہر کے رستے ہوں چاہے گاؤں کی پگڈنڈیاں
ماں کی انگلی تھام کر چلنا بہت اچھا لگا
منور رانا نامور صحافی راویش کمار این ڈی ٹی وی کے مخصوص پروگرام”پرائم ٹائم”میں 11 سال قبل
منور رانا کے چند مشہور زمانہ اشعار یہاں پیش ہیں :۔
٭٭ بدن میں دوڑتا سارا لہو ایمان والا ہے
مگر ظالم سمجھتا ہے کہ پاکستان والا ہے
٭٭ بس اتنی بات پر اس نے ہمیں بلوائی لکھا ہے
ہمارے گھر کے ایک برتن پر آئی ایس آئی لکھا ہے
٭٭ سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
٭٭ دِل ایسا کہ سیدھے کیے جُوتے بھی بڑوں کے
ضِد ایسی کہ خود تاج اُٹھاکر نہیں پہنا
٭٭ دعوت تو بڑی چیز ہے ہم جیسے قلندر
ہرایک کے پیسوں کی دوا بھی نہیں کھاتے
٭٭ تمہارے شہر میں میّت کو سب کاندھا نہیں دیتے
ہمارےگاؤں میں چھپر بھی سب ملکر اٹھاتے ہیں
٭٭ غزل ہم تیرے عاشق ہیں مگر اس پیٹ کی خاطر
قلم کس پر اٹھانا تھا قلم کس پر اٹھاتے ہیں۔
٭٭ بلندی دیر تک کس شخص کےحصہ میں رہتی ہے
بہت اونچی عمارت ہر گھڑی خطرہ میں رہتی ہے
٭٭ خدا نے یہ صفت دنیا کی ہر عورت کوبخشی ہے
وہ پاگل بھی ہوجائے توبیٹے یاد رہتے ہیں
٭٭ حکومت کا ہر ایک انعام ہے بندوق سازی پر
مجھے کیسے ملے گا میں تو بیساکھی بناتا ہوں
٭٭ ہم سایہ دار پیڑ زمانے کے کام آئے
جب سوکھنے لگے تو جلانے کے کام آئے
٭٭ تلوار کی نیام کبھی پھینکنا نہیں
ممکن ہے دشمنوں کو ڈرانے کے کام آئے
٭٭ کچا سمجھ کے بیچ نہ دینا مکان کو
شاید یہ کبھی یہ سر کو چھپانے کے کام آئے
٭٭ سرقہ کا کوئی شعر غزل میں نہیں رکھا
ہم نے کسی لونڈی کو محل میں نہیں رکھا۔
٭٭ حالات نے چہرے کی چمک چھین لی ورنہ
دو چار برس میں تو بڑھاپا نہیں آتا
٭٭ بوجھ اٹھانا شوق کہاں ہے مجبوری کا سودا ہے
رہتے رہتے اسٹیشن پر لوگ قلی ہو جاتے ہیں
٭٭ ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے
تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا
” 2014ء میں منور رانا ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ حاصل ہونے کے بعد این ڈی ٹی وی پر راویش کمار کے ساتھ "
٭٭ گھر میں رہتے ہوئے غیروں کی طرح ہوتی ہیں
لڑکیاں دھان کے پودوں کی طرح ہوتی ہیں
٭٭ محبت ایک ایسا کھیل ھے جس میں مِرے بھائی
ہمیشہ جیتنے والے پریشانی میں رہتے ہیں
٭٭ خود سے چل کر نہیں یہ طرز سخن آیا ہے
پاؤں دابے ہیں برزگوں کے تو فن آیا ہے۔
٭٭ سیاست نفرتوں کا زخم بھرنے ہی نہیں دیتی
جہاں بھرنے پہ آتاہے تو مکھّی بیٹھ جاتی ہے۔
۔۔۔ منور رانا کی غزل ۔۔۔
میں دہشت گرد تھا مرنے پہ بیٹا بول سکتا ہے
حکومت کے اشارے پر تو مردہ بول سکتا ہے
٭٭
حکومت کی توجہ چاہتی ہے یہ جلی بستی
عدالت پوچھنا چاہے تو ملبہ بول سکتا ہے
٭٭
کئی چہرے ابھی تک منہ زبانی یاد ہیں اسکو
کہیں تم پوچھ مت لینا یہ گونگا بول سکتا ہے
٭٭
یہاں پر نفرتوں نے کیسے کیسے گل کھلایے ہیں
لٹی عصمت بتا دیگی دوپٹہ بول سکتا ہے
٭٭
بہت سی کرسیاں اس ملک میں لاشوں پہ رکھی ہیں
یہ وہ سچ ہےجسے جھوٹے سےجھوٹا بول سکتا ہے
٭٭
سیاست کی کسوٹی پر پرکھیے مت وفاداری
کسی دن انتقامن میرا غصہ بول سکتاہے
٭٭ بھٹکتی ہے ہوس دن رات سونے کی دکانوں پر
غریبی کان چھدواتی ہے تنکا ڈال لیتی ہے
٭٭ غریبوں پر تو موسم بھی حکومت کرتے رہتے ہیں
کبھی بارش کبھی گرمی کبھی ٹھنڈک کا قبضہ ہے
۔۔۔ غزل ۔۔۔
عجب دنیا ہے ناشاعر یہاں پر سر اٹھاتے ہیں
جو شاعر ہیں وہ محفل میں دری چادر اٹھاتے ہیں
٭٭
تمہارے شہر میں میّت کو سب کاندھا نہیں دیتے
ہمارے گاؤں میں چھپر بھی سب مل کر اٹھاتے ہیں
٭٭
انہیں فرقہ پرستی مت سکھا دینا کہ یہ بچے
زمیں سے چوم کر تتلی کے ٹوٹے پر اٹھاتے ہیں
٭٭
سمندر کے سفر سے واپسی کا کیا بھروسہ ہے
تو اے ساحل خدا حافظ، کہ ہم لنگر اٹھاتے ہیں
٭٭
غزل ہم تیرے عاشق ہیں مگر اس پیٹ کی خاطر
قلم کس پر اٹھانا تھا قلم کس پر اٹھاتے ہیں
٭٭
بُرے چہروں کی جانب دیکھنے کی حد بھی ہوتی ہے
سنبھلنا آئینہ خانو، کہ ہم پتھر اٹھاتے ہیں
پروفیسر عباس رضا نیر اودھ نامہ میں 12 اگست 2018 کو تحریر کردہ اپنے طویل مضمون” منور رانا ماں سے مہاجر نامہ تک ” تحریر کردہ اپنے میں لکھتے ہیں کہ”مہاجرنامہ‘‘ تقسیم ہند کےحادثے سے متاثر ہونےوالے انہیں مجبور اور بےکس انسانوں کی منظوم داستان ہےجنہوں نے ہجرت کا کرب سہاہے۔مسلسل 500 اشعار پر مشتمل اس طویل غزل کا ہر شعر اپنے آپ میں ایک مکمل داستان ہے۔
حالانکہ خود شاعر نے ہجرت کا درد نہیں سہا ہے لیکن اپنے بچپن یں انہوں نے تقسیم کے نتیجے میں ہونے والی بربادیوں کا براہ راست مشاہدہ کیا ہے۔سینکڑووں خاندانوں کا اجڑنا، خونی رشتوں کا بچھڑنا،سہمی ہوئی آنکھوں میں بس جانے والا خوف، سیاست کی دھوپ چھائوں غرض یہ کہ ہر احساس کو لفظوں کی صورت میں پیش کردیا ہے۔
” منور رانا مشاعرہ میں اپنا کلام سناتے ہوئے "
’’مہاجر نامہ‘‘ ایک فرد واحد کی داستان نہیں ہے بلکہ ایک پوری جمعیت پر گزرے المیے کی روداد خونچکاں ہے۔ اس میں نہ صرف یہ کہ تاریخ بھی موجود ہے بلکہ اس دور کا جیتا جاگتا معاشرہ بھی نظر آتا ہے۔اس نسل کو جو ازیتیں جھیلنی پڑیں اس کا درد وکرب تو ملتا ہی ہے ساتھ ہی اس حادثے کے بعد ذہنوں پر مرتب ہونےوالے گہرے اثرات کی بھی بخوبی عکاسی ملتی ہے۔ہجرت کرنے کے بعد جو لوگ وہاں چلے گئے وہ بظاہر دنیا والوں کی نظروں میں محفوظ ہوگئے لیکن اس ہجرت کے نتیجے میں ان کی ذہنی کیفیت Nostalgic سی ہوگئی جس سے رہائی پانا ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔ وہ جیسے ایک درد مسلسل کا شکار ہوکر رہ گئے۔
اپنی زمینیں،اپنی مٹی،اپنا وطن، اپنا کوچہ،اپنے درودیوار،اپنے لوگ، اپنے کھیت کھلیان، اپنی خوشبوئیں، اپنی فضائیں، ایک دم سے یوں چھوڑ کر چلے آنا آسان نہیں ہوتا۔ایک نئے دیس کو اپنانے کی جتنی بھی کوشش کی جائے اپنی مٹی کی خوشبو کہیں نہ کہیں دامن سے لپٹی ہی رہ جاتی ہے۔وقت کی گہماگہمی میں یادیں بھلے ہی دھندلی پڑجائیں لیکن جب کبھی ان لوگوں کے سامنے ہجرت کا تذکرہ کیجئے تو جیسے زخموں سے لہوٹپکنے لگتا ہو اور بقول رانا :
ہم خود ادھڑنے لگتے ہیں ترپائی کی طرح
منوررانا نے سرحد کے اس پار چلے جانے والوں کے جذبات کی ترجمانی جس دردمندی سے کی ہے معلوم ہوتا ہے جیسے وہ خود اس کرب سے گزرے ہوں۔اس مہاجر نامے کا ہر ایک شعر جیسےوہاں چلے جانےوالوں کے دل کی آواز ہے۔ جو باتیں، جو اذیتیں، جو تکلیفیں وہ مہاجر لوگ اپنے دلوں میں چھپاکر دنیا والوں کی نظروں میں مضبوط بنے رہے اور اندر ہی اندر گھٹتے رہے،سسکتے رہے،روتے رہے انہیں منوررانا نےمہاجر نامے کی شکل میں گویا مجسم کر دیا۔( بشکریہ : اودھ نامہ)
” اس مکمل مضمون کو اس لنک کو کلک کرکے پڑھا جاسکتا ہے "
مہاجِر نامہ :
بشکریہ : اردو محفل فورم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہاجر ہیں مگر ہم ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں
تمہارے پاس جتنا ہے ہم اتنا چھوڑ آئے ہیں
کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے
کہ ہم مٹی کی خاطر اپنا سونا چھوڑ آئے ہیں
نئی دنیا بسا لینے کی اک کمزور چاہت میں
پرانے گھر کی دہلیزوں کو سوتا چھوڑ آئے ہیں
عقیدت سے کلائی پر جو اک بچی نے باندھی تھی
وہ راکھی چھوڑ آئے ہیں وہ رشتہ چھوڑ آئے ہیں
کسی کی آرزو کے پاؤں میں زنجیر ڈالی تھی
کسی کی اون کی تیلی میں پھندا چھوڑ آئے ہیں
پکا کر روٹیاں رکھتی تھی ماں جس میں سلیقے سے
نکلتے وقت وہ روٹی کی ڈلیا چھوڑ آئے ہیں
جو اک پتلی سڑک اُنّاو سے موہان جاتی ہے
وہیں حسرت کے خوابوں کو بھٹکتا چھوڑ آئے ہیں
یقیں آتا نہیں، لگتا ہے کچّی نیند میں شائد
ہم اپنا گھر گلی اپنا محلہ چھوڑ آئے ہیں
ہمارے لوٹ آنے کی دعائیں کرتا رہتا ہے
ہم اپنی چھت پہ جو چڑیوں کا جتھا چھوڑ آئے ہیں
ہمیں ہجرت کی اس اندھی گپھا میں یاد آتا ہے
اجنتا چھوڑ آئے ہیں ایلورہ چھوڑ آئے ہیں
سبھی تیوہار مل جل کر مناتے تھے وہاں جب تھے
دیوالی چھوڑ آئے ہیں دسہرہ چھوڑ آئے ہیں
ہمیں سورج کی کرنیں اس لئے تکلیف دیتی ہیں
اودھ کی شام کاشی کا سویرا چھوڑ آئے ہیں
گلے ملتی ہوئی ندیاں گلے ملتے ہوئے مذہب
الہ آباد میں کیسا نظارہ چھوڑ آئے ہیں
ہم اپنے ساتھ تصویریں تو لے آئے ہیں شادی کی
کسی شاعر نے لکھا تھا جو سہرا چھوڑ آئے ہیں
کئی آنکھیں ابھی تک یہ شکایت کرتی رہتی ہیں
کہ ہم بہتے ہوئے کاجل کا دریا چھوڑ آئے ہیں
شکر اس جسم سے کھلواڑ کرنا کیسے چھوڑے گی
کہ ہم جامن کے پیڑوں کو اکیلا چھوڑ آئے ہیں
وہ برگد جسکے پیڑوں سےمہک آتی تھی پھولوں کی
اسی برگد میں ایک ہریل کا جوڑا چھوڑ آئے ہیں
ابھی تک بارشوں میں بھیگتے ہی یاد آتا ہے
کہ ہم چھپر کے نیچے اپنا چھاتا چھوڑ آئے ہیں
بھتیجی اب سلیقے سے دوپٹہ اوڑھتی ہوگی
وہی جھولے میں ہم جس کو ہمکتا چھوڑ آئے ہیں
یہ ہجرت تو نہیں تھی بزدلی شائد ہماری تھی
کہ ہم بستر میں ایک ہڈی کا ڈھانچا چھوڑ آئے ہیں
ہماری اہلیہ تو آ گئی ماں چھٹ گئی آخر
کہ ہم پیتل اٹھا لائے ہیں سونا چھوڑ آئے ہیں
مہینوں تک تو امی خواب میں بھی بدبداتی تھیں
سکھانے کے لئے چھت پر پودینہ چھوڑ آئے ہیں
وزارت بھی ہمارے واسطے کم مرتبہ ہوگی
ہم اپنی ماں کے ہاتھوں میں نوالہ چھوڑ آئے ہیں
یہاں آتے ہوئے ہر قیمتی سامان لے آئے
مگر اقبال کا لکھا ترانہ چھوڑ آئے ہیں
ہمالہ سے نکلتی ہر ندی آواز دیتی تھی
میاں آؤ وضو کر لو یہ جملہ چھوڑ آئے ہیں
وضو کرنے کو جب بھی بیٹھتے ہیں یاد آتا ہے
کہ ہم جلدی میں جمنا کا کنارہ چھوڑ آئے ہیں
اتار آئے مروت اور رواداری کا ہر چولا
جو اک سادھو نے پہنائی تھی مالا چھوڑ آئے ہیں
جنابِ میر کا دیوان تو ہم ساتھ لے آئے
مگر ہم میر کے ماتھے کا قشقہ چھوڑ آئے ہیں
اِدھر کا کوئی مل جائے اُدھر تو ہم یہی پوچھیں
ہم آنکھیں چھوڑ آئے ہیں کہ چشمہ چھوڑ آئے ہیں
ہماری رشتے داری تو نہیں تھی، ہاں تعلق تھا
جو لکشمی چھوڑ آئے ہیں جو درگا چھوڑ آئے ہیں
کل اک امرود والے سے یہ کہنا آ گیا ہم کو
جہاں سے آئے ہیں ہم اس کی بغیا چھوڑ آئے ہیں
وہ حیرت سے ہمیں تکتا رہا کچھ دیر پھر بولا
وہ سنگم کا علاقہ چھٹ گیا یا چھوڑ آئے ہیں
ابھی ہم سوچ میں گم تھے کہ اس سے کیا کہا جائے
ہمارے آنسوؤں نے راز کھولا چھوڑ آئے ہیں
محرم میں ہمارا لکھنؤ ایران لگتا تھا
مدد مولیٰ حسین آباد روتا چھوڑ آئے ہیں
محل سے دور برگد کے تلے نروان کی خاطر
تھکے ہارے ہوئے گوتم کو بیٹھا چھوڑ آئے ہیں
تسلی کو کوئی کاغذ بھی ہم چپکا نہیں پائے
چراغِ دل کا شیشہ یوں ہی چٹخا چھوڑ آئے ہیں
سڑک بھی شیرشاہی آ گئی تقسیم کی زد میں
تجھے ہم کرکے ہندوستان چھوٹا چھوڑ آئے ہیں
ہنسی آتی ہے اپنی ہی اداکاری پہ خود ہم کو
بنے پھرتے ہیں یوسف اور زلیخا چھوڑ آئے ہیں
گزرتے وقت بازاروں میں اب بھی یاد آتا ہے
کسی کو اس کے کمرے میں سنورتا چھوڑ آئے ہیں
ہمارا راستہ تکتے ہوئے پتھرا گئی ہوں گی
وہ آنکھیں جن کو ہم کھڑکی پہ رکھا چھوڑ آئے ہیں
تو ہم سے چاند اتنی بے رخی سے بات کرتا ہے
ہم اپنی جھیل میں ایک چاند اترا چھوڑ آئے ہیں
یہ دو کمروں کا گھر اور یہ سلگتی زندگی اپنی
وہاں اتنا بڑا نوکر کا کمرہ چھوڑ آئے ہیں
ہمیں مرنے سے پہلے سب کو یہ تاکید کرنا ہے
کسی کو مت بتا دینا کہ کیا کیا چھوڑ آئے ہیں
” منور رانا دبئی میں جشن اردو کے مشاعرہ میں اپنی شہرہء آفاق نظم ” مہاجر نامہ ” سناتے ہوئے ۔”
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج نامور شاعر منور رانا کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اترپردیش میں پیدا ہونے والے شاعر نے اردو ادب اور شاعری کے فروغ میں بے پناہ تعاون دیا ہے۔وزیر اعظم نے X (سابقہ ٹوئٹر ) پر ٹوئٹ کرتے ہوئےلکھا ہے کہ‘‘جناب منور رانا جی کی رحلت سے دکھ ہواہے۔انہوں نے اردو ادب اور شاعری کےفروغ میں بھرپور تعاون دیا ہے۔ان کے اہل خانہ اور مداحوں سے تعزیت کااظہار کیا ہے۔
سابق وزیراعلیٰ اتر پردیش و صدر سماج وادی پارٹی اکھلیش یادو نے منور رانا کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کے مکان پہنچ کر ان کے افراد خاندان کو پرسہ دیا۔اس موقع پر اکھلیش یادو نے کہا کہ منور رانا ہر مشاعرہ کی کامیابی مانے جاتے تھے ان کے انتقال سے اردو زبان و ادب کو عظیم نقصان پہنچا ہے۔
ترتیب و پیشکش، کلام اور ویڈیوز کا انتخاب : یحییٰ خان
( نوٹ: نیچے دی گئیں سوشل میڈیا لنکس کو کلک کرکے آپ مضمون نگار کو فالو کر سکتے ہیں ⬇️ )
Mail: khanreport@gmail.com
Facebook : @khanyahiya276
Instagram: @khan_yahiya276
Youtube: @Yahiya_Khan276
Twitter: @khanyahiya

