بلقیس بانو کی عصمت ریزی،تین سالہ لڑکی سمیت 14 افراد کے 11 قاتلوں کی رہائی کیوں؟ بیرسٹر اویسی،راہول گاندھی،کے ٹی آر ، جماعت اسلامی ہند نے اٹھائےسوال

گجرات: بلقیس بانو کی عصمت ریزی
تین سالہ لڑکی سمیت 14 افراد کے 11 قاتلوں کی رہائی کیوں؟
بیرسٹر اویسی،راہول گاندھی،کے ٹی آر،جماعت اسلامی ہند اور دیگر نے اٹھائےسوال

نئی دہلی:17۔اگست
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)

ملک کی یوم آزادی کی 75 ویں سالگرہ کے ضمن میں منائے جارہے”آزادی کے امرت مہوتسو”کے موقع پر15 اگست کوحکومت گجرات کی جانب سے 11 قیدیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد کے نام پر رہا کیےجانے کےبعدبشمول مجلس اتحادالمسلمین ،کانگریس مختلف تنظیمیں،غیر جانبدارصحافی، سماجی جہدکار اورسوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پرسوال اٹھائے جارہے ہیں کہ گجرات نسل کشی کے دؤران مارچ 2002 میں ضلع داہود میں ان 11 مجرموں کی جانب سے پانچ ماہ کی حاملہ خاتون بلقیس بانو (جن کی عمراس وقت 21سال تھی) کی اجتماعی عصمت ریزی اور ان کی تین سالہ بیٹی کو پتھر پر پٹک بےرحمی سے قتل،ساتھ ہی بلقیس بانو کے خاندان کے جملہ سات افراد کو قتل کرنے والے ان مجرموں کو کیوں اور کس بنیاد پر اس طرح آزاد کردیا گیا؟ جو عدالت کی جانب سے دی گئی عمر قید کی سزا بھگت رہے تھے؟بتایا جارہا ہے کہ ان 11 افراد نے جملہ 14 افراد کو قتل کیا تھا۔

2008میں ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے ان 11 ملزمین کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔بعد میں بمبئی ہائی کورٹ نے اس سزا کو برقرار رکھاتھا۔

یہاں تک کہ 2019 میں سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کو ہدایت دی تھی کہ بلقیس بانو کو مکان اور ملازمت کے علاوہ اسے  50 لاکھ بطور معاوضہ دیا جائے تاہم سپریم کورٹ کے احکام کے تین سال بعد یہ 11 مجرم آزاد کردئیے گئے۔

اس سلسلہ میں سوشل میڈیاپر ایسی شرمناک ویڈیو اور تصاویروائرل ہوئی ہیں جن میں دیکھاجاسکتا ہےکہ ان 11 قاتلوں کی پیرکے دن گودھرا سب جیل سے رہائی کےبعد ان کے پیر چھوکر آشیرواد لیتےہوئےمٹھائی کھلاکر اور تلک لگاکر باقاعدہ ان کااستقبال کیا جارہا ہے۔افسوس کہ ان میں چند خواتین بھی شامل تھیں۔جیسے کہ ان 11 درندوں نے انسانیت کی بھلائی کےلیےجیل کی صعوبتیں برداشت کیں یا یہ کوئی مجاہدین آزادی ہیں یا ملک کے جیالے ہیں!!ان کی ایسی تصاویربھی وائرل ہوئی ہیں جن میں بتایاگیا ہے کہ وشواہندوپریشد کی جانب سے ان 11 قاتلوں کو تہنیت بھی پیش کی گئی۔

بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت ریزی،ان کی تین سالہ بچی سمیت سات افراد خاندان کےقتل کےمعاملہ میں اس وقت عدالت نے”رادھےشیام شاہ،جسونت چتربھائی نائی،کیشو بھائی ودانیا،بکا بھائی ودانیا،راجی بھائی سونی،رمیش بھائی چوہان، سیلیش بھائی بھٹ،بپن چندرا جواشی،گووند بھائی نائی،متیش بھٹ اور پردیپ مودھیاکا جرم ثابت ہونےکے بعد انہیں عمر قید کی سزاسنائی تھی”۔جنہیں آزادی کا امرت مہوتسو کے ضمن میں گجرات حکومت نے یوم آزادی کے موقع پر رہا کردیا ہے۔

 

اس معاملہ میں بلقیس بانو کے شوہر یعقوب رسول نے کہاکہ خاندان اس رہائی پرکوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا ہے۔”ہمیں اس بارے میں نہیں بتایا گیا۔ہم صرف اپنے قریبی اور عزیزوں کی روح کے سکون کے لیے دعا کرنا چاہتے ہیں۔جنہوں نے فسادات میں اپنی جانیں گنوائیں”۔

صدرکل ہندمجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان بیرسٹراسدالدین اویسی نے بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت ریزی اور ان کی بچی کےبشمول سات افراد خاندان کوقتل کرنے والے ان 11 درندہ صفت مجرمین کی رہائی کے خلاف اپنے ٹوئٹ میں وزیراعظم نریندرمودی کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ "یوم آزادی کے موقع پر اپنی تقریر میں مودی نے ہندوستانیوں سے عہدلینے کو کہاتھا کہ وہ ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے خواتین کی عزت کم ہو۔انہوں نے ناری شکتی کی حمایت کے بارے میں کچھ کہا۔اور گجرات کی بی جے پی حکومت نےاسی دن اجتماعی عصمت دری کے مجرموں کو رہا کردیا۔پیغام واضح ہے۔”بیرسٹر اویسی نے بشمول این ڈی ٹی وی دیگر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان درندوں کی رہائی پر تنقید کی۔

سابق صدرکل ہند کانگریس کمیٹی و رکن پارلیمان راہول گاندھی نے آج اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”پانچ ماہ کی حاملہ خاتون کی عصمت ریزی اور ان کی تین سالہ بچی کا قتل کرنے والوں کو آزادی کا امرت مہوتسو کے دوران رہا کیا گیا،خواتین کی طاقت کی جھوٹی باتیں کرنےوالے ملک کی خواتین کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ پردھان منتری جی پورا ملک آپ کے قول و فعل کو دیکھ رہا ہے” 

 

تلنگانہ کے وزیر آئی ٹی صنعت و بلدی نظم نسق کے۔تارک راما راو (کے ٹی آر) نے کل اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ:
"بھاشن: ” خواتین کا احترام کریں "
کام: اسی دن گجرات حکومت نے معافی کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے 11 عصمت دری کرنے والوں کو رہا کردیا۔
وزیراعظم کی آبائی ریاست مثالی طور پر آگے بڑھ رہی ہے”۔

پون کھیرا کل ہند کانگریس کمیٹی کے چیئرمین میڈیا اینڈ پبلسٹی نے 11 مجرمین کی رہائی کےخلاف سخت لفظوں میں ٹوئٹ کرتےہوئےلکھا ہے کہ "لعنت ہے ایسی سیاست اور ایسی صحافت پر جوعصمت ریزی کا شکار اور عصمت ریزی کرنے والے کا مذہب دیکھ کر ہی منہ کھولتی ہے”۔

سی پی آئی (ایم) پولیٹ بیورو رکن برنداکرات نے اس معاملہ میں کہاکہ مجرموں کی رہائی مرکز کے رہنما یانہ خطوط کی کھلی خلاف ورزی ہے جس میں عصمت دری،اجتماعی عصمت دری اور قتل کے مجرموں کو عمر قید کی معافی کے فوائد سے باہر رکھا گیا ہے۔اس سال جون میں”آزادی کا امرت مہوتسو(آزادی کے 75 سال)کے موقع پر سزا یافتہ قیدیوں کےلیے خصوصی رہائی کی پالیسی تجویز کرتے ہوئے مرکز نے ریاستوں کو ہدایات جاری کیں۔عصمت دری کےمجرمان ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں اس پالیسی کے تحت رہائی نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ان 11 مجرموں کی گجرات حکومت کی جانب سے رہائی کا حکم حیران کن،شرمناک اور قابل مذمت ہے۔

تلنگانہ کے وزیر کے ٹی آر نے آج بلقیس بانو کی کہانی پرمشتمل ویڈیو کے ساتھ پی۔وشنووردھن ریڈی کےایک ٹوئٹ کو ری۔ٹوئٹ کیا ہے۔جس میں لکھا گیاہے کہ” پی ایم مودی جی،بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت ریزی اور ان کے 7 افراد خاندان کے قتل کے مجرم گودھراسب جیل سے باہر آگئے،گجرات حکومت نے اپنی معافی کی پالیسی کے تحت ان کی رہائی کی اجازت دی”۔” کیا یہ وہی ناری شکتی ہے جس کے بارے میں آپ نے بات کی تھی؟”۔

وزیر تلنگانہ کے ٹی آر نے اپنے ایک ٹوئٹ میں وزیراعظم کو ٹیاگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”محترم وزیراعظم نریندرمودی جی،اگر آپ کا اصل مطلب یہ تھا کہ آپ نے خواتین کی عزت کرنے کے بارے میں بات کی ہے۔تو آپ سے گزارش ہےکہ مداخلت کریں اور 11 عصمت ریزی و قتل کے مجرموں کو رہا کرنے والے گجرات حکومت کے معافی کے حکم کو منسوخ کریں۔جناب،اسے عام طریقہ سے اور مرکزی وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) کے حکم کے خلاف کہنا متضاد ہے۔ضرورت ہے کہ آپ قوم کے سامنے تدبر کا مظاہرہ کریں۔

اپنے ایک اور ٹوئٹ میں وزیر آئی ٹی تلنگانہ کے ٹی آر نے لکھا ہے کہ”جناب،میں آپ سے یہ بھی گزارش کرتاہوں کہ تعزیرات ہند (IPC) اور ضابطہ فوجداری (CRPC) میں مناسب ترمیم کریں تاکہ عدلیہ کے ذریعے کسی عصمت ریزی کرنے والے کو ضمانت نہ مل سکے۔مضبوط قانون سازی ہی اس بات کو یقینی بنانے کا واحد طریقہ ہے کہ عدلیہ تیزی سے اپنے فیصلے صادر کرسکے اور اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرسک”ے۔

 

نامور صحافی برکھادت جنہوں نے 2002گجرات نسل کشی کی اس وقت این ڈی ٹی وی کےلیے گراؤنڈ سےرپورٹنگ کی تھی نے اپنے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل پر کیےگئے ٹوئٹ میں لکھا ہےکہ”میں وہ رات نہیں بھول سکتی،جس رات میں بلقیس بانو سے ایک ریلیف کیمپ میں ملی تھی،اس کا بازو ایک کاسٹ میں تھا جسے توڑا گیا تھا،انہوں نے سب سے پہلے اس کی ماں، اس کی دو بہنوں کی عصمت دری کی تھی،اس کی 3سالہ بیٹی کوقتل کیا اور باری باری حاملہ بلقیس پر حملہ کیا۔ بلقیس اور یعقوب نے اپنے نومولود کا نام اپنے مردہ بچے کے نام پر رکھا۔

 

نامورصحافی راج دیپ سردیسائی جنہوں نے 2002 گجرات نسل کشی کے دوران این ڈی ٹی وی کےلیےگجرات سے گراؤنڈ رپورٹنگ کی تھی نے اپنے ٹوئٹ کے ذریعہ سوال اٹھایا ہے کہ”21 سالہ بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور اس کے خاندان کے 7 افراد کو قتل کرنے والے 11 افراد آزاد ہیں،ان کی عمرقید کی سزامعاف کردی گئی ہے۔اگر وہ بلقیس بانو کی طرح اسی گاؤں میں گھومتے پھریں تو کیا وہ کبھی نارمل زندگی گزار سکے گی؟ کیا یہ ’’انصاف‘‘ ہے؟ "

ممتاز صحافی عارفہ خانم شیروانی نے بھی ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ”20سال قبل 5 ماہ کی حاملہ بلقیس بانو کو اس کے پڑوسیوں نےاجتماعی عصمت ریزی کا نشانہ بنایا،اس کی 3 سالہ بیٹی کواس سے چھین کرقتل کردیا گیا،اس کےخاندان کے 7 دیگرافراد کوبھی قتل کر دیا گیا۔آج 1.3 بلین لوگ ان ریپ کرنے والوں کو آزاد ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں”۔

 

وہیں خاتون صحافی ہریندرباویجا نے اپنے ٹوئٹ میں لکھاہےکہ”بلقیس بانو کی عصمت دری کرنے والے آزاد۔بابو بجرنگی ضمانت پر رہا،مایا کوڈنانی کو مجرم قرار دیا گیا اور پھر بری کر دیا گیا۔کرونا لوجی سمجھئے”۔

یہاں یہ تذکرہ غیرضروری نہ ہوگاکہ گجرات میں 2002ء میں سابرمتی ایکسپریس ٹرین کی ایک کوچ کو جلائے جانے سے 59 کارسیوک زندہ نذرآتش ہوگئے تھے۔ پھر اس کے بعد گجرات میں بڑے پیمانے پرمسلمانوں کے خلاف تشدد اور قتل و خون کا بازار گرم کردیا گیا تھا۔اس وقت نریندر مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے۔بعدازاں اس وقت کے وزیراعلیٰ گجرات نریندرمودی پر عائدمختلف الزامات پر تمام عدالتوں اور حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ نےکلین چٹ دے دی کہ گجرات نسل کشی میں نریندرمودی کا کوئی رول نہیں تھا اور ان کی شبیہ خراب کرنے کی غرض سے چند افراد نے ایسے الزامات عائد کیے تھے۔

اس سلسلہ میں اس وقت کی ریاستی وزیرمایا کوڈنانی بھی مسلمانوں کےقتل عام کی مجرم پائی گئی تھیں اور عدالت نے انہیں بھی سزا سنائی تھی تاہم چند ماہ بعد وہ جیل سے آزاد ہوگئیں۔وہیں بابوبجرنگی نے اس وقت”تہلکہ ڈاٹ کام”کے خفیہ کیمرے(اسٹنگ آپریشن) میں اعتراف کیاتھا کہ کس طرح قتل و غارت گری مچائی گئی تھی۔

وہیں مشہورصحافی رعنا ایوب نے بھی خفیہ طریقہ سے اس نسل کشی کی رپورٹنگ کی تھی اورانہوں نے باقاعدہ ایک کتاب بھی لکھی جس کانام   "گجرات فائلز” ہے جو کہ انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو اور مختلف زبانوں میں دستیاب ہے۔

گجرات حکومت کی جانب سے 11 مجرمین کی رہائی پر رعنا ایوب نے 15 اگست کو کیے گئے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”آج اپنی یوم آزادی کی تقریر میں نریندرمودی نے خواتین کو بااختیار بنانے کی بات کی۔آج شام وہ لوگ جنہوں نےگجرات کےمسلم مخالف قتل عام کےدوران بلقیس بانو کے ساتھ وحشیانہ گینگ ریپ کیا تھا وہ آزاد ہو گئے ہیں”۔

بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری کے قصورواروں کی رہائی قابل مذمت: جماعت اسلامی ہند

”بلقیس بانو کی عصمت دری اور اس کے خاندان کے سات افراد کے قتل میں ملوث قصورواروں اور عمر قید کی سزا پانے والوں کو رہائی دینے کے فیصلے میں گجرات حکومت کے کردار پر ہمیں بہت افسوس ہے۔ہم اس فیصلے کی مذمت کرتےہیں اور امیدکرتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ اس معاملے میں مداخلت کرے گی تاکہ حکومتی پالیسی کی آڑ میں کی گئی اس سنگین نا انصافی کو ختم کیا جاسکے“۔یہ باتیں نائب امیرجماعت اسلامی ہند پروفیسرسلیم انجینئر نے میڈیا کو آج جاری اپنے ایک بیان میں کہی۔

انہوں نےگجرات سرکار کےاس رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ”اگر ریاستی حکومتوں کو گھناؤنے جرائم میں ملوث ہونے کے باجود’معافی پالیسی‘کے ذریعے اپنی پسند کے مجرموں کو رہا کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے ہمارا عدلیہ نظام ایک مذاق بن جائے گا اور عام شہریوں کی اس نظام سے وابستہ امیدیں ٹوٹ جائیں گی۔’انصاف سب کے لئے‘ ہمارے آئین کے سب سے زیادہ بھروسہ کئے جانے والے اصولوں میں سے ایک ہے۔اگر ’معافی پالیسی‘ کا یہی سلسلہ جاری رہا تو ہمارے ملک کی جمہوریت کمزور ہوجائے گی۔اس سے جرائم پیشہ اور ان کے ماسٹر مائنڈز کو حوصلہ ملے گا کیونکہ انہیں انتہائی سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے کے باوجود جلد یا دیر سےسسٹم کے ذریعےضمانت حاصل کرنے کا یقین ہوگا۔

ہم ’ناری شکتی‘ کو فروغ دینے کی بات کرتے ہیں اور خواتین کی عزت و وقار کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر اس طرح کی پالیسی سے ہمارا دوہرا رویہ اجاگر ہوجاتا ہے”۔

پروفیسرسلیم انجینئر نے مزید کہا کہ”بلقیس بانوعصمت دری کیس میں رہا ہونے والوں کو سی بی آئی کورٹ نے قصوروارٹھہرایا تھا اور اس فیصلے کو بمبئی ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔ان گیارہ مجرموں میں سے صرف ایک نے سزا کی معافی کےلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھاجس کے بعد عدالت عظمیٰ نے گجرات کی ریاستی حکومت کو قبل از وقت رہائی کے لئے کی گئی اس اپیل پر غور کرنے کی ہدایت کی تھی۔

لیکن ریاستی حکومت نے ایک پینل تشکیل دیا اور تمام گیارہ مجرموں کی معافی کے حق میں فیصلہ کردیا۔اگر ہم اس پورے واقعہ پر نظر ڈالیں تو بلاشبہ یہ فیصلہ ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے جوہمارے انصاف فراہمی کے نظام کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گا۔اگر ہم جمہوریت اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو اس فیصلے کو تبدیل کرنا ہوگا“۔