مرکزی حکومت نے بلقیس بانو کے 11 مجرموں کی رہائی کو منظوری دی تھی، گجرات حکومت کا سپریم کورٹ میں حلف نامہ

مرکزی حکومت نے بلقیس بانو کے 11 مجرموں کی رہائی کو منظوری دی تھی
سپریم کورٹ میں گجرات حکومت کا حلف نامہ 

نئی دہلی:17۔اکتوبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

گجرات حکومت نے آج سپریم کورٹ کو بتایا کہ 2002ءکے گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری کے لیے مجرم قرار دئیے گئے 11 افراد کو رہا کردیا گیا،کیونکہ وہ 14 سال سے جیل میں تھے اور ان کا برتاؤ اچھا پایا گیا تھا۔عدالت ان افراد کی رہائی کو چیلنج کرنے والی تین درخواستوں کی سماعت کررہی ہے،جو یوم آزادی کےموقع پرحکومت گجرات کی جانب سے آزادکیے جانے کےخلاف دائر کی گئی ہیں۔

سپریم کورٹ میں داخل کردہ اپنے ایک حلف نامہ میں،گجرات حکومت نےسپریم کورٹ کو بتایا کہ مرکزی وزارت داخلہ نے 11 جولائی 2022ء کو ایک مکتوب کے ذریعہ ان 11 مجرموں کی قبل از وقت رہائی کومنظوری دی تھی۔

بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت ریزی،ان کی تین سالہ بچی سمیت سات افراد خاندان کےقتل کےمعاملہ میں اس وقت عدالت نے”رادھےشیام شاہ،جسونت چتربھائی نائی،کیشو بھائی ودانیا،بکا بھائی ودانیا،راجی بھائی سونی،رمیش بھائی چوہان،سیلیش بھائی بھٹ،بپن چندرا جواشی،گووندبھائی نائی، متیش بھٹ اور پردیپ مودھیا کا جرم ثابت ہونےکےبعد انہیں عمر قید کی سزاسنائی تھی”۔جنہیں آزادی کا امرت مہوتسو کے ضمن میں گجرات حکومت نے یوم آزادی کے موقع پر رہا کردیا۔

ان مجرموں کی رہائی کی پر ملک کے کونے کونے سے مذمت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔اس رہائی کےخلاف سی پی ایم پولیٹ بیورو رکن سبھاشنی علی،ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمان مہووا موئترا اورایک دوسرےشخص نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیاتھا۔جس پر عدالت نے گجرات حکومت سے جواب طلب کیا تھا۔اس کیس کی آج 17 اکتوبر کو سماعت ہوئی۔

ان مجرمین کی رہائی کے بعد گجرات کے ایک بی جے پی رکن اسمبلی نے ان 11 درندوں کو ” سنسکاری ” قرار دیا تھا۔!!

یادرہےکہ ملک کی یوم آزادی کی 75 ویں سالگرہ کےضمن میں منائے جارہے”آزادی کے امرت مہوتسو”کے موقع پر 15 اگست کوحکومت گجرات کی جانب سے 11 قیدیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد کےنام پر رہا کیےجانے کے بعد بشمول مجلس اتحادالمسلمین،کانگریس،مختلف تنظیمیں،غیر جانبدار صحافیوں،سماجی جہدکاروں اورسوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پرسوال اٹھائے گئے تھے۔

کہ گجرات نسل کشی کے دؤران مارچ 2002 میں ضلع داہود میں ان 11 مجرموں کی جانب سے پانچ ماہ کی حاملہ خاتون بلقیس بانو(جن کی عمر اس وقت 21 سال تھی) کی اجتماعی عصمت ریزی اور ان کی تین سالہ بیٹی کو پتھر پر پٹک بےرحمی سے قتل،ساتھ ہی بلقیس بانو کے خاندان کی خواتین کی اجتماعی عصمت ریزی اور ان کے سات افراد کو قتل کرنے والے ان مجرموں کو کیوں اور کس بنیاد پر اس طرح آزاد کردیا گیا؟ جو عدالت کی جانب سے دی گئی عمر قید کی سزا بھگت رہے تھے؟

بتایاجاتا ہے کہ ان 11 افراد نے جملہ 14 افراد کو قتل کیا تھا۔2008 میں ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نےان 11 ملزمین کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔بعد میں بمبئی ہائی کورٹ نے اس سزا کو برقرار رکھاتھا۔اور 2019 میں سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کو ہدایت دی تھی کہ بلقیس بانو کو مکان اور ملازمت کے علاوہ 50 لاکھ بطور معاوضہ دیا جائے تاہم سپریم کورٹ کے احکام کے تین سال بعد یہ 11 مجرم آزاد کردئیے گئے۔

15 اگست کو ان مجرموں کی جیل سے رہائی کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی شرمناک ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہوئی تھیں جن میں دیکھا گیا تھا کہ ان 11 مجرموں کی گودھرا سب جیل سے رہائی کے بعد ان کے پیر چھوکر آشیرواد لیتےہوئےمٹھائی کھلاکر اور تلک لگاکر باقاعدہ ان کااستقبال کیا گیا تھا۔افسوس کہ ان میں چند خواتین بھی شامل تھیں۔ان کی ایسی تصاویربھی وائرل ہوئی تھیں جن میں بتایاگیا کہ وشواہندوپریشد کی جانب سے ان 11 قاتلوں کو تہنیت بھی پیش کی گئی۔

” اس معاملہ سے متعلق مکمل تفصیلات اور ویڈیوز سحرنیوز ڈاٹ کام کی اس لنک پر” :-

بلقیس بانو کی عصمت ریزی،تین سالہ لڑکی سمیت 14 افراد کے 11 قاتلوں کی رہائی کیوں؟ بیرسٹر اویسی،راہول گاندھی،کے ٹی آر ، جماعت اسلامی ہند نے اٹھائےسوال