بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے
تین سالہ لڑکا پولیس اسٹیشن پہنچ گیا
ماں کے خلاف مارنے،کھیلنے نہ دینے اور چاکلیٹ کھاجانے کی شکایت
ماں کو جیل میں ڈالنے کا مطالبہ،مدھیہ پردیش کا ویڈیو وائرل
بھوپال: 18۔اکتوبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
بچے انتہائی معصوم اور بھولے بھالے ہوتے ہیں۔جو ایک دوسرے کے خلاف سازشوں،دلوں میں کدورت،کسی سےحسد و بغض نہیں پالتے،نہ کبھی کسی کی توہین کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو کمتر سمجھتے ہیں۔آپس میں لڑتے بھی ہیں تو چند منٹوں میں ایسے نارمل ہوجاتے ہیں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ان کا دماغ ایک سلیٹ(تختی )کی مانند ہوتا ہے جس پر پانی چھڑکو یا کسی کپڑے سے صاف کردو فوری آئینے کی طرح صاف و شفاف ہو جاتا ہے۔اپنےگھروں میں بھی یہ معصوم اپنے والدین یا رشتہ داروں کی ڈانٹ ڈپٹ یا ہلکی چپٹ کو چند منٹوں میں بھول جاتے ہیں۔
آج کے بچوں کو بہت ہوشیار اور چالاک مانا جاتا ہے۔سائنسی ترقی کےساتھ ان کی صلاحیتوں میں بھی بے پناہ اضافہ دیکھاجاسکتا ہے۔موبائل فون اور کمپیوٹر/لیاپ ٹاپ سے وہ ایسےکھیل لیتے ہیں کہ جیسے یہ انہی کی ایجاد ہو۔!اکثر ماں باپ انہی بچوں سےموبائل فونس کےمختلف آپشن اور استعمال کے طریقے بھی سیکھ لیتے ہیں۔
شاید انہی حالات کو ذہن میں رکھتے ہوئے نامور شاعرہ پروین شاکر نے کبھی کہا تھا کہ؎
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے
دوسری جانب پولیس اور پولیس اسٹیشن کے نام سے ہی اچھے اچھوں کی سٹی گم ہوجاتی ہے،حتیٰ کہ چند شرفاکے پسینے تک چھوٹ جاتے ہیں۔ ایسے میں ایک تین سالہ لڑکا دیدہ دلیری کے ساتھ پولیس اسٹیشن پہنچ جاتا ہے وہ بھی اپنی ہی ماں کےخلاف شکایت درج کروانے۔
جی ہاں ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال سے 340 کلومیٹرکے فاصلہ پر موجود برہان پور ضلع کے دھتلائی گاؤں کا ایک ایسا ہی ویڈیو سوشل میڈیا پر سونامی کی طرح وائرل ہوا ہے۔جس میں خاتون سب انسپکٹر کے سوالات اور اس تین سالہ لڑکے کی جانب سے اپنی ہی ماں کے خلاف سوچ سوچ کر شکایتیں لکھوانے والا یہ ویڈیوسوشل میڈیا صارفین کو قہقہے لگانے اور اس بچے کی معصومیت پر سخت دلوں کو موم بنانے میں مصروف ہے۔
دراصل سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر پر اس بچہ کے تین الگ الگ ویڈیوز وائرل ہیں۔جن میں ایک ویڈیو 45سیکنڈ کا،ایک ویڈیو 58 سیکنڈ کا اور ایک ویڈیو 35 سیکنڈ کا ہے۔جسے مختلف زاویوں سے لیا گیا ہے اور اب تک ان ویڈیوز کو لاکھوں صارفین نے دیکھا ہے۔
اس ویڈیو میں دیکھاجاسکتا ہے کہ خاتون سب انسپکٹر پولیس پرینکا نائیک پولیس اسٹیشن کے باہری احاطہ میں ایک کرسی پر بیٹھی ہوئی ہیں،اپنے ساتھ موجود ایک پیاڈ پر رکھے کاغذ پر وہ اس لڑکے کی ایک ایک شکایت کو درج کرتی جاتی ہیں اورساتھ ہی سوال بھی پوچھتی جاتی ہیں۔اس دؤران وہاں موجود پولیس عملہ بھی اس معصوم کی شکایتوں پر قہقہے لگارہاہے اور سب انسپکٹرپولیس بھی اس معصوم کی شکایتوں کو تحریر کرتے ہوئے مسکراتی اور ہنستی جارہی ہیں۔
یہ تین سالہ لڑکا سب انسپکٹرپولیس پرینکا نائیک سے اپنی ماں کے خلاف شکایت لکھوارہا ہے کہ”اس کی ماں اسے کھیلنے نہیں دیتیں،چاکلیٹ اور کینڈی کھانے نہیں دیتیں اور ساتھ ہی مارتی بھی ہیں”۔اس تین سالہ لڑکے کا ایک اورمعصوم الزام یہ بھی تھاکہ اس کی ماں اس کے سارے چاکلیٹ کھاجاتی ہیں۔اور اسے اپنی چاکلیٹ چھینے بھی نہیں دیتیں۔
خاتون سب انسپکٹر پولیس اس لڑکے سے اس کا نام اور والدہ کا نام پوچھتی ہیں۔یہ لڑکا خاتون سب انسپکٹر سےشکایت درج کروانے کے بعد انتہائی معصومیت سے کہتا ہے کہ” میری ماں میرے چاکلیٹ چوری کرتی ہیں آپ انہیں جیل میں ڈال دیں۔”جب سب انسپکٹر اس بچہ سے اس کی ماں کا نام پوچھتی ہیں تو کہتا ہے کہ ” امی جان ” اور اپنا نام صدام بتاتا ہے۔
اس بچے کےمسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینے کا بہانہ کرتےہوئےسب انسپکٹر پولیس ہر ایک شکایتی نکتہ کو احتیاط کے ساتھ لکھتی جاتی ہیں تاکہ اس کو محسوس ہو کہ اس کی شکایت درج ہورہی ہے۔
اس معصوم کا نام صدام ہے۔اس سارےعمل کے بعد صدام کے والد نے بتایا کہ اس کی ماں اسے نہلانےکےبعد اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا رہی تھیں لیکن اس نے چاکلیٹ کھانے کی ضد کرکے انہیں پریشان کیا تو اس کی ماں نے اسے ایک ہلکا سا تھپڑ مارا، جس پر وہ رونے لگا اور مجھے کہا کہ اس کو فوری پولیس اسٹیشن لے جاؤں تاکہ وہ ماں کے خلاف شکایت درج کرواسکے۔اس لیے میں اسے یہاں لے کر آگیا۔
سب انسپکٹر پولیس پرینکا نائک نے کہاکہ بچے کی شکایت سن کربشمول ان کے وہاں موجود سب ہنس پڑے۔بعدمیں انہوں نے اس بچہ کوسمجھایا کہ اس کی ماں کا ارادہ کوئی برا نہیں ہے۔اور ہر ماں کے لیے اس کے بچے عزیز ہوتے ہیں۔اس کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ گھر چلا گیا۔سوشل میڈیا صارف اس ویڈیو کا بھرپور مزا لے رہے ہیں اور اس بچے کی معصومیت پرمشتمل ویڈیو دیکھ مسکرانے پر مجبور ہیں۔
” اس واقعہ کا مکمل ایک منٹ 44 سیکنڈ پرمشتمل ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ "


