جماعت اسلامی ہند تانڈور کی جانب سے کانگریسی امیدوار بویانی منوہر ریڈی کی تائید کا اعلان
امیر مقامی نے کانگریسی امیدوار کومسائل و مطالبات پر مبنی یادداشت حوالے کی
وقارآباد/تانڈور: 23؍نومبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام)
جماعت اسلامی ہند تلنگانہ کی جانب سے تلنگانہ میں 119 نشستوں کے لیے ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں کل برسر اقتدار بھارت راشٹرا سمیتی ( بی آر ایس )کے 41 امیدواروں،کانگریس کے 69 اور کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے 7 امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔وہیں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے ایک، ایک امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا گیا تھا۔
اسی دؤران آج جماعت اسلامی ہند تانڈورنے وقارآبادضلع کےحلقہ اسمبلی تانڈور سے کانگریسی امیدوار بویانی منوہر ریڈی کی تائید کا اعلان کیاہے۔ بویانی منوہر ریڈی نےکانگریسی قائدین داراسنگھ،ڈاکٹر سمپت کمار،عبدالرؤف،عامرعبداللہ،سیدحبیب پاشا،سیدمسعود احمدکے ساتھ دفتر جماعت اسلامی ہند تانڈور پہنچ کر جماعت کے ذمہ داران سے ملاقات کی۔اس موقع پر سید عبداللہ مبشر امیر مقامی جماعت اسلامی ہند، محمد خواجہ ناظم جماعت اسلامی ہند ضلع ونپرتی،سابق امیر مقامی محمد فہیم خان اور دیگر موجود تھے۔
بعدازاں سید عبداللہ مبشر امیر مقامی جماعت اسلامی ہند نےبتایاکہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ نے ریاستی سطح پر امیدواروں کوان کی بہتر کارکردگی اور عوامی پسند کی بنیاد پر اپنی تائید کا اعلان کر رہی ہے۔اس ضمن میں حلقہ اسمبلی تانڈور سے کانگریس پارٹی کے امیدوار بویانی منوہر ریڈی کو تانڈور کے حل طلب اقلیتی اور تانڈور کے چند اہم مسائل کو حل کرنے کی غرض سے تحریری یادداشت حوالےکرتے ہوئے ان کے تیقن کے بعد انہیں جماعت اسلامی ہند تانڈور اپنی تائید کا اعلان کر رہی ہے۔
امیر مقامی جماعت اسلامی ہند تانڈور سید عبداللہ مبشر نے بتایا کہ 18 نکات پر مشتمل ایک یادداشت کانگریس کے امیدوار بویانی منوہر ریڈی کے حوالے کی گئی۔جس میں حلقہ اسمبلی تانڈور کےتمام سرکاری اسکولوں اور گورنمنٹ جونیئر و ڈگری کالج تانڈور(اردو میڈیم) میں اساتذہ کےتقررات، گورنمنٹ ڈگری کالج تانڈورمیں بی اے اور بی ایس سی کورس کا آغاز،تانڈور میں گورنمنٹ بی ایڈ اور ڈی ایڈ کالجوں کا قیام اور اردو میڈیم کے طلبہ کے لیے خصوصی ڈی ایس سی کے اعلان کے ذریعہ ٹیچرس کے تقررات۔
اسمبلی حلقہ تانڈور میں موجود تمام صنعتوں میں مقامی نوجوانوں کو ملازمت کی فراہمی،دفتر کلکٹر یٹ میں اردو عہدیدار کےتحت مکمل عملہ کے ساتھ اردو سیکشن کا قیام،تانڈور میں پالی ٹیکنک کا قیام اور 6 سال قبل منظورہ آئی ٹی آئی کی عمارت کی تعمیر اور آغاز کےعلاوہ حلقہ اسمبلی تانڈور کے طلبہ کےلیے پوسٹ میٹرک ہاسٹل کا قیام، ٹمریز کےتحت جاری تعلیمی داروں کی پوسٹ گرائجویشن تک توسیع، تانڈور کے گورنمنٹ ضلع ہسپتال میں ایم آر آئی مشین کی تنصیب کےعلاوہ دیگر طبی سہولتوں کی فراہمی،مکمل طبی عملہ کے تقررات کے علاوہ تمام سرکاری دفاتر میں اردو زبان کو رائج کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔

اس یادداشت میں مطالبہ کیا گیاہے کہ تانڈور میں موجود اوقاف کی جائدادوں کا مکمل تحفظ کیا جائے،ایم ایل اے فنڈ سے تانڈور کی اقلیتوں کے محلوں میں سڑک، پینے کا پانی اور موریوں کی تعمیر کے علاوہ عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کے لیے مارکیٹ کمیٹی کے ذریعہ مویشیوں کی سربراہی،
اسمبلی حلقہ تانڈور میں آبادی کے تناسب کی بنیاد پر سیاسی حصہ داری اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ تلنگانہ کی جانب سے جاری کردہ جی او نمبر 239 کو منسوخ کرتے ہوئے اردو صحافیوں اور اردو اخبارات کی ترقی، بقاء اور تحفظ کے لیے نئی حکومت سے موثر نمائندگی شامل ہیں۔
اس موقع پر سید جاوید بدر، عبدالرحیم، عتیق احمد، سید زین العابدین، محمد نذیر احمد، عبداللطیف، محمدخواجہ معین الدین،محمد لائق علی،محمدمعین، عبدالمتین کے بشمول دیگر موجود تھے۔
” یہ بھی پڑھیں ”
تانڈور میں 40 لاکھ روپئے کی نقد رقم ضبط، موٹرسیکل کے ذریعہ رقم کی منتقلی کے دؤران پولیس کی کارروائی

telanganaelections2023@
jamaateislamihindtelangana@
jamaateislamihindtandur@
supportstocongress@
tandurconstituency@
vikarabaddistrict@
telangana@

