تلنگانہ میں کانگریس کا اقتدار پر آنا طئے، اسمبلی انتخابات 2024 کے انتخابات کا سیمی فائنل، تانڈور میں رکن راجیہ سبھا عمران پرتاپ گڑھی کا خطاب

تلنگانہ میں کانگریس کا اقتدار پر آنا طئے، اسمبلی انتخابات 2024 کے انتخابات کا سیمی فائنل
بی آر ایس کو ووٹ دینا بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے مماثل، کانگریس دؤر میں ہی مسلمان محفوظ
تانڈور میں رکن راجیہ سبھا عمران پرتاپ گڑھی کا انتخابی اجلاس سے خطاب

وقارآباد/تانڈور: 24؍نومبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ)

رکن راجیہ سبھا و صدر آل انڈیا کانگریس مینارٹی ڈپارٹمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کی لہر چل رہی ہے اور 3 ڈسمبر کونتائج کے ساتھ ریاست میں کانگریس کی سونامی طئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بشمول تلنگانہ دیگر چار ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ اور میزورم میں ہو رہے اسمبلی انتخابات 2024ء کے پارلیمانی انتخابات کا سیمی فائنل ہیں اور ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے کانگریس پارٹی مزید مضبوط ہوگی اور 2024ء میں راہول گاندھی کا وزیراعظم بننا یقینی ہے۔

نامور شاعر و رکن راجیہ سبھا عمران پرتاپ گڑھی گزشتہ رات وقارآباد ضلع کے تانڈور ٹاؤن میں موجود کلاسک گارڈن فنکشن ہال میں کانگریس کے امیدوار برائے حلقہ اسمبلی تانڈور بویانی منوہر ریڈی کے ایک انتخابی اجلاس سے اپنے مخصوص انداز میں خطاب کر رہے تھے۔ جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی بالخصوص نوجوانوں کی بڑی تعداد اس اجلاس میں شریک تھی۔خواتین کے لیے پردہ کا علحدہ نظم بھی کیا گیا تھا۔

رکن راجیہ سبھا و صدر آل انڈیا کانگریس مینارٹی ڈپارٹمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ راہول گاندھی کی 4,000 کلومیٹر طویل تاریخی بھارت جوڑو پدیاترا سے راہول گاندھی اور کانگریس کو ملک بھر میں مزید مقبولیت حاصل ہوئی ہے اور ساتھ ہی عوام میں مہنگائی،بیروزگاری،ظلم و ناانصافی اور مذہبی منافرت کے خلاف آواز اٹھانےکے لیے شعور بھی بیدار ہواہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ہی مسلمانوں نے کرناٹک اسمبلی کے انتخابات میں مکمل طور پر کانگریس کا ساتھ دیتے ہوئے اسے کامیاب بنایا اور وہاں جتنی اسکیمات کا وعدہ کیاگیا تھا ان پرعمل آوری شروع کردی گئی ہے۔

عمران پرتاپ گڑھی نے وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھر راؤ کی جانب سے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے وعدہ کو وزیراعظم نریندر مودی کے ہر بینک اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپئے کے وعدہ کی طرح ایک جملہ ہی قرار دیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ کانگریس ہی مسلمانوں کو انصاف فراہم کرسکتی ہے اور انہیں سیاست میں حصہ دار بھی بناتی ہے۔انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد، فخرالدین علی احمد، غلام نبی آزاد، عبدالرحمن انتولے سے یوٹی عبدالقادر تک کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ یہی کانگریس تھی جس نے ملک کے پہلے وزیر تعلیم سے لے کر صدر جمہوریہ اور وزرائے اعلیٰ کے علاوہ اسمبلی اسپیکر کے عہدوں تک مسلمانوں کو پہنچایا۔

https://www.youtube.com/watch?v=sWNFj75mBaU

رکن راجیہ سبھا عمران پرتاپ گڑھی نے کہاکہ وزیراعلیٰ کے سی آر اور ریاستی وزیر کے ٹی آ ر کو یقین ہوگیا ہے کہ ان کی پارٹی کی شکست طئے ہے۔اس لیے وہ رائے دہندوں کو راغب کرنے کی غرض سے گلی گلی گھوم رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کے سی آر نے اعتراف کیا کہ انہوں نے کے ٹی آر کو وزیراعلیٰ بنانے کے لیے نریندر مودی سے ملاقات کی تھی۔!!

عمران پرتاپ گڑھی نے الزام عائد کیاکہ اگر بی آر ایس پارٹی کو ووٹ دیا گیا تو بی جے پی کوسیاسی طاقت دینے کےمماثل ہوگا۔انہوں نے لوک سبھا میں رکن پارلیمان کنور دانش علی کےساتھ بی جے پی رکن پارلیمان کی گالی گلوچ اور بے عزتی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالات ایسے پیدا کیے جا رہے ہیں کہ مسلمانوں کو خوفزدہ کیا جائے اور مسلمانوں کے ساتھ مرکزی اور ریاستی حکومتیں ناانصافی کر رہی ہیں۔

انہوں نے کانگریسی امیدوار منوہر ریڈی کوحلقہ اسمبلی تانڈور سے کامیاب بنانے کی اپیل کرتےہوئے انہیں غیر مقامی قرار دئیے جانے کی مذمت کی۔اس اجلاس میں عمران پرتاپ گڑھی نے اپنے مخصوص انداز میں شاعری کے ذریعہ ایک جوش پیدا کر دیا تھا۔

کانگریسی امیدوار حلقہ اسمبلی تانڈور بویانی منوہر ریڈی نے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہیں کامیاب بنانے کی اپیل کی اور کہا کہ ان کے منتخب ہونے کے بعد وہ مقامی مسلمانوں کے تمام مسائل کے حل کو اولین ترجیح دیں گے۔

اس اجلاس سے نائب صدر تلنگانہ کانگریس مینارٹی ڈپارٹمنٹ خالد سیف اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ماحول میں نفرتوں کو ختم کرنا ہو تو کانگریس کومضبوط اور اقتدار پر لانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ 1947 میں ملک انگریزوں کا غلام تھا اور آج آپسی نفرتوں کا غلام ہے۔ ملک اور قوم کے بہتر مستقبل کے لیے نفرتوں کو مٹانا ضروری ہے۔

خالد سیف اللہ نے کہاکہ ملک سے نفرتوں کومٹاکر آپسی بھائی چارہ اور ایک دوسرے کےدرمیان محبت کی فضاء پیدا کرنا لازمی ہے۔انہوں نے کہا کہ گنگا جمنی تہذیب، ایک دوسرے کے مذہب کا احترام اور آپسی بھائی چارہ کے ذریعہ ہی ملک اور قوم ترقی کرسکتے ہیں۔

حافظ نعیم اختر نے اس اجلاس سے اپنے خطاب میں الزام عائد کیاکہ انتخابات کےدؤران چند نوجوانوں کومنشیات اور شراب کا عادی بنایا جارہا ہے جو کہ مستقبل کے لیے انتہائی نقصاندہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چار فیصد تحفظات کانگریس حکومت میں ہی فراہم کیے گئے تھے۔ جس کے باعث آج تک لاکھوں مسلمان بچے اور بچیاں ڈاکٹرس، انجینئرس بن رہے ہیں ان کے علاوہ ملازمتوں اور دیگر شعبہ جات میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہے ہیں۔

حافظ نعیم اختر نے کہا کہ تانڈور میں کانگریس کے دؤر حکومت میں ہی مانک نگر، اندرا نگر،راجیو گروہا کالونی اور اندرماں کالونی تعمیر کیے گئے۔اس اجلاس سے عبدالرؤف،دارا سنگھ، مرلی کرشنا گوڑ، ڈاکٹر سمپت کمار اور صدر تانڈور ٹاؤن کانگریس حبیب لالہ کےعلاوہ دیگر نے بھی خطاب کیا۔جبکہ عبدالاحد،سردار خان،محمد جاوید،عبدالقوی کوآپشن ممبر بلدیہ،سیدمسعود احمد کےبشمول دیگر کانگریسی قائدین بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔  

یہ بھی پڑھیں "

اِس ترکِ رفاقت پہ پریشاں تو ہوں لیکن ، اب تک کے تِرے ساتھ پہ حیرت بھی بہت تھی : شاعرہ پروین شاکر کے 71 ویں یوم پیدائش پرخصوصی پیشکش