تلنگانہ میں کانگریس کو قطعی اکثریت حاصل، 64 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت
بی آر یس سمٹ کر 39 تک محدود،مجلس 7 حلقوں میں کامیاب، بی جے پی کو 8 نشستیں
ریونت ریڈی اور ڈی کے شیوا کمار کی ریاستی گورنر سے ملاقات،حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ پیش
حیدرآباد : 03۔ڈسمبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام)
ریاست تلنگانہ میں تنہا اپنی جانب سے حکومت بنانے کے لیے کانگریس پارٹی نے جادوئی ہندسہ حاصل کرلیا ہے۔اسے کسی اور جماعت کی تائید کی ضرورت نہیں پڑ رہی ہے۔30 نومبر کو رائے دہی اور آج 3 ڈسمبر کو ہوئی رائے شماری کے بعدعلحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کی طویل اور صبر آزما جدوجہد میں اہم رول اداکرنےوالے کے۔چندرا شیکھرراؤ اور ان کی جماعت بھارت راشٹرا سمیتی(بی آرایس۔سابقہ ٹی آر ایس) کو ان انتخابات میں سخت ہزیمت کا سامنا کرتے ہوئے اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا ہے۔
سال 2014ء میں 119 رکنی تلنگانہ اسمبلی کےلیے منعقدہ انتخابات میں اس وقت کی ٹی آر ایس (تلنگانہ راشٹرا سمیتی،موجودہ بی آر ایس)نے 34.3 فیصد ووٹوں کے تناسب کےساتھ 63 نشستوں پر کامیابی حاصل کرتےہوئے کے۔چندرا شیکھرراؤ کی قیادت میں حکومت تشکیل دی تھی۔اس وقت کانگریس کو 21 سیٹوں پر،تلگودیشم کو 15 سیٹوں پر، کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کو 7 سیٹوں پر، بی جے پی کو 5 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی اور دیگر 8 امیدوار بھی منتخب ہوئے تھے۔بعد ازاں تلگودیشم اور دیگر جماعتوں کے ارکان اسمبلی بھی ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے تھے۔
سال 2018ء میں وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے 6 ستمبر 2018 کو 9 ماہ قبل ہی ریاستی اسمبلی کوتحلیل کرتےہوئے مستعفی ہو کر انتخابات کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس طرح 7 ڈسمبر 2018 کو تلنگانہ اسمبلی کے لیے رائے دہی ہوئی تھی اور 11 ڈسمبر کو ووٹوں کی گنتی کے بعد ٹی آر ایس نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے 88 نشستوں پر کامیابی درج کروائی تھی۔جبکہ کانگریس کے 19 مجلس کے 7، بی جے پی کا صرف ایک،تلگودیشم کے دو اور دیگر دو امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔اس طرح کے۔چندراشیکھرراؤ نے 2018ء میں دوبارہ اقتدار سنبھالا تھا۔بعدازاں چند ماہ بعد کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی بی آر ایس میں شامل ہوگئے تھے۔
اب جاریہ سال الیکشن کمیشن کی جانب سے 9 اکتوبر کو الیکشن کا شیڈول جاری کرنے کے بعد 30 نومبر کو ریاست تلنگانہ میں رائے دہی ہوئی تھی جس کے ووٹوں کی گنتی آج 3 ڈسمبر کو مکمل کرلی گئی۔
نتائج کے اعلان کے بعد اب تلنگانہ میں کانگریس نے کے۔چندراشیکھر راؤ اور ان کی پارٹی بی آر ایس کو اقتدار سے بے دخل کر دیا ہے۔ اور حکومت بنانے کے درکار 60 کے جادوئی ہندسہ کو عبور کرتے ہوئے 64 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔کانگریس کو حکومت بنانے کے لیے کسی دیگر جماعت کی تائید کی ضرورت نہیں پڑے گی،وہیں اس کی اتحادی جماعت سی پی آئی نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ریونت ریڈی اور نائب وزیراعلیٰ کرناٹک ڈی کے شیوا کمار نے آج رات ریاستی گورنر سے ملاقات کرتے ہوئے حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ پیش کیا ہے۔گورنر تملائی سؤندرراجن سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیوا کمار جو کہ تلنگانہ کانگریس کے آبزرور بھی ہیں نے کہا کہ ہم نے اس نئے منتخب ایوان میں 65 ارکان کے ساتھ حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا ہے۔اور کانگریس کی جانب ہم نے کل پیر کی صبح 9.30 بجے کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔

ان انتخابات میں دو مرتبہ عنان حکومت سنبھالنےوالے کے۔چندراشیکھر راؤ اوران کی بی آر ایس پارٹی 39 نشستوں تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔ جبکہ مجلس اتحادالمسلمین اپنی سات روایتی سیٹوں کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگئی اور بی جے پی کے 8 امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔
ان انتخابات میں بی جے پی کو اہم دھکا لگا ہے جہاں ریاست میں اس کے سب سے نمایاں چہرے اور ریاستی سطح کے قائدین ایٹالہ راجندر کو حضور آباد اور گجویل (وزیر اعلیٰ کے سی کے خلاف) دونوں حلقوں سے شکست ہوئی ہے،وہیں سابق صدر تلنگانہ بی جے پی بنڈی سنجے کمار کو حلقہ اسمبلی کریم نگر سے(جو کہ رکن پارلیمان حلقہ کریم نگربھی ہیں)،دھرما پوری اروند(جو کہ رکن پارلیمان حلقہ نظام آبادبھی ہیں) کو کورٹلہ اسمبلی حلقہ سے اور رکن اسمبلی راگھونندن راؤ کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔
وہیں حلقہ اسمبلی کاماریڈی سےبی جے پی امیدوار وینکٹ رمنا ریڈی نے قومی صدر بی آر ایس و وزیراعلیٰ تلنگانہ کے سی آر اور صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ریونت ریڈی کو حیرت انگیز طور پر شکست سے دوچار کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے چندراشیکھرراؤ جہاں گجویل اسمبلی حلقہ سے کامیاب ہوئےہیں وہیں انہیں حلقہ اسمبلی کاماریڈی سےشکست ہوئی ہے۔جبکہ ان کے فرزند و ریاستی وزیر آئی کے ٹی آر راجنا سرسلہ سے کامیاب ہوگئے،ان کے وزراء ٹی۔ہریش راؤ(سدی پیٹ سے)،پی۔سبیتا اندرا ریڈی( مہیشورم سے)، تلسانی سرینواس یادو، ملا ریڈی، ویمولہ پرشانت ریڈی اور گنگولا کملاکر کامیاب ہوئے ہیں۔
جبکہ وزیراعلیٰ کے سی آر کی کابینہ کے 6 وزراء اندرا کرن ریڈی،نرنجن ریڈی،ایرا بیلی دیاکرراؤ،اجئے کمار،کوپولا ایشور اور سرینواس گوڑشکست سے دوچار ہوگئے ہیں۔
آج انتخابی نتائج میں بی آر ایس کی اکثریت سے محرومی کے بعد وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے ریاستی گورنر تملسائی سوندرراجن کو اپنا استعفیٰ سونپ دیاہے جسےقبول کرلیاگیا۔بی آر ایس پارٹی کی اس ہزیمت سے عوام اور سیاسی پنڈت حیرت زدہ ہیں کہ دس سال کے دؤران اتنی ساری فلاحی اسکیمات اور ترقیاتی کاموں کے باؤجود وزیر اعلیٰ کے۔چندرا شیکھر کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے اصل اسباب کیا ہو سکتے ہیں۔؟
” یہ بھی پڑھیں "


