مراد آباد کے ایک گودام میں نماز تراویح کی ادائیگی کے خلاف بجرنگ دل کا احتجاج، دس مسلمانوں کو پولیس کی نوٹس

بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں
عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی

مراد آباد کے ایک گودام میں نماز تراویح کی ادائیگی کے خلاف
بجرنگ دل کا احتجاج، دس مسلمانوں کو پولیس کی نوٹس 

نئی دہلی/حیدرآباد: 28۔مارچ
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

گذشتہ دو دن سے اتر پردیش کا ایک ایسا واقعہ اور ویڈیوسوشل میڈیا پر چھایا ہواہے۔جو کہ صنعتی طور پرمشہور مرادآباد کاہے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق ہندوتواتنظیم بجرنگ دل سےوابستہ افرادنے ہفتہ 25 مارچ کو اترپردیش کے مرادآباد میں ایک ڈاتی گودام میں تراویح کی نماز ادا کرنے والے مسلمانوں کے ایک گروپ کے خلاف احتجاج کیا۔

دی وائر (انگریزی) کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے وہاں موجود 10 مسلمانوں کو CrPC 107/116 (امن کی خلاف ورزی سےبچنے کےلیے ایک احتیاطی اقدام) کے تحت نوٹس جاری کیا اور جائداد کے مالک مسلمان خاندان کو ہدایت دی ہے کہ کوئی اجتماعی نماز نہ ادا کریں۔ پولیس نے مسلم طبقہ کے ارکان سے یہ بھی پوچھا ہے کہ ان کی جانب سے اس علاقے میں” امن کو خراب کرنے "کے جرم میں فی کس 5 لاکھ روپے کیوں ادا نہ کیے جائیں۔؟ پولیس کی نوٹس اور تراویح کی نماز کی ادائیگی کو جرم قرار دیتے ہوئے فی کس پانچ لاکھ روپئے کی ادائیگی کے سیدھے حکم کے بجائے مسلمانوں سے ہی استفسار پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔

اس کے بعد بیان میں کہا گیاکہ پولیس نے وہاں کےمسلمانوں سے کہا کہ وہ روایت کے مطابق” پہلے سے موجود مذہبی مقامات ” میں یا انفرادی طور پر اپنے گھروں پر ایسے پروگرام کا انعقادکرلیں۔اطلاعات کے مطابق جائیداد مالک نے پولیس کو تحریری تیقن دیا ہے کہ آئندہ ان کے گودام میں ایسا کوئی تراویح یا اجتماعی نماز کا اہتمام نہیں کیا جائے گا۔!!

اس واقعہ کےمتعلق بجرنگ دل کی اتر پردیش یونٹ کے صدر روہن سکسینہ کا ایک ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ کسی کو” نئی روایات” قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔”ہم نے پولیس سے کہا ہے کہ جو لوگ نئی روایات، اور شہر کے امن کو خراب کرنا چاہتے ہیں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جانا چاہئے۔ہم کسی نئی روایت کی اجازت نہیں دیں گے۔نہ صرف مراد آباد بلکہ پورے اتر پردیش میں مسلمانوں کو ایسی اجازت نہیں دی جائے گی۔اس نے دھمکی بھی دی کہ اگر ان مسلمانوں کےخلاف کیس درج نہیں کیا جائے گا تو بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔

” بجرنگ دل اتر پردیش یونٹ کے صدر روہن سکسینہ کا دھمکی آمیز بیان ” 

دوسری جانب کل 27 مارچ کو اس معاملہ میں مراد آباد پولیس کے ٹوئٹر ہیندل سے ایس ایس پی مرادآباد ہیمراج مینا کا ایک ویڈیو بھی ٹوئٹ کیا گیا ہے۔جس میں ایس ایس پی نے عوام کو پیغام دیاہےکہ کسی بھی شخص کو دوسروں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔”اگر کوئی شخص نماز،تراویح یا پوجاپاٹھ پڑھ رہا ہے،تو کسی دوسری جماعت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوناچاہئے۔اگر کوئی ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔مانا جارہا ہے کہ ہر طرف سے تنقید کے بعد مراد آباد پولیس نے نرم رویہ اختیار کیا۔؟؟

ایس ایس پی مینا نے ہندوؤں اور مسلمانوں سے امن برقرار رکھنے کے لیے کہا اور ان سے کہا کہ وہ ہم آہنگی میں خلل ڈالے بغیر اپنے تہوار پرامن طریقے سے منائیں۔پولیس کو بعد میں پتہ چلا کہ یہ تنازعہ دراصل مسلم خاندان کے پرانے جائیداد کے تنازعہ سے شروع ہوا تھا۔ جائیداد کے تنازعہ میں ملوث دونوں فریقین کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

ٹوئٹر پر دستیاب پولیس کے بیان کے مطابق تھانہ کٹگھر کے علاقے لاجپت نگر چوکی میں ذاکر آئرن اسٹور کے مالک ذاکر حسین نے تیسرے روزہ کے موقع پر تراویح کی نماز کی ادائیگی کا بندوبست کیا تھا۔اس تراویح میں تقریباً 25-20 لوگوں نے شرکت کی۔” ہندو اکثریتی/مخلوط آبادی والے علاقے ” میں مقامی لوگوں کےاحتجاج کی اطلاع ملنے کےبعد پولیس موقع پر پہنچ گئی۔اور معاملہ کو سرد کیا۔بہر حال یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

اس معاملہ میں خاتون صحافی سواتی مشرا https://twitter.com/swati_mishr نے اپنے ٹوئٹ کے پولیس کی نوٹس ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” اتر پردیش میں یوپی میں نجی املاک پر نماز تراویح کو روکنےکے بعد اب 10 لوگوں سے 5۔5 لاکھ روپے کا سیکیورٹی/بانڈ مانگا گیاہے۔کہا گیا ہے کہ ان کی جانب سے امن کو خراب کرنے کاخدشہ ہے۔حکومت کانوریوں پر ہیلی کاپٹر سے پھول برساتی ہے،لیکن مسلمان اپنے گھروں میں نماز تراویح نہیں پڑھ سکتے۔!

 

گذشتہ سال مرادآباد میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے 26 مسلمانوں کے خلاف مبینہ طور پر عوامی جگہ پر نماز پڑھنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔یہ ایف آئی آر تعزیرات ہند(آئی پی سی) کی دفعہ 505 (عوامی فساد کو ہوا دینے والا بیان) کے تحت چجلیت پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی تھی۔الزام عائد کیاگیا تھا کہ لوگ اشتعال انگیزی اور دشمنی پیدا کرنے کےلیے عوامی مقامات پر نماز پڑھ رہے تھے۔

سوشل میڈیا پر اکثر سوال کیے جاتے ہیں کہ چند سال سے مذہبی منافرت کے اتنے واقعات اور چند گروپس کی جانب سے مختلف کھلی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔اذاں، نماز ،حجاب،حلال غرض ہر چیز کے خلاف مخصوص گروپس کی جانب سے کھلے عام احتجاج پر مرکزی اور ریاستی حکومتیں، عدالتیں اور پولیس خاموش کیوں ہیں۔؟

ملک کی چند مخصوص ریاستوں بالخصوص اتر پردیش، ہریانہ اور مدھیہ پردیش سے گذشتہ چند سال سےمسلمانوں کی جانب سےکھلے مقامات پر نمازوں کی ادائیگی کےخلاف بجرنگ دل اور دیگر ہندو شدت پسندتنظیموں کی جانب سے احتجاج عام بات بن کر رہ گئی ہے۔

پہلے ہریانہ کے گروگرام میں کھلے مقامات پر سرکاری اجازتوں کے باؤجود قریبی ملٹی نیشنل کمپنی کے ملازمین کی جانب سے جمعہ کی نمازوں کی ادائیگی کےخلاف منظم طریقہ سے احتجاج کیا گیا۔پولیس نے معاملہ رفع دفع کروایا لیکن اس کے بعد ہر جمعہ کو نماز کے وقت سے قبل اس اراضی کا پورا علاقہ گوبر سے بھردیا جاتا تھا اور وہاں پوجاپاٹ شروع کردی جاتی۔تھک ہار انتظامیہ نےبھی ہاتھ اٹھالیے اس طرح ہریانہ کے گروگرام میں کھلے مقامات پر جمعہ کی نمازوں پر پابندی عائد کرواکر ہی ان شدت پسندوں نے خوشی منائی۔

مراد آباد واقعہ کے خلاف بیباک و نامور صحافی ساکشی جوشی کا یہ ویڈیو ضرور دیکھیں "

https://www.facebook.com/sakshijoshi85/videos/159546730331080

 

گذشتہ سال ماہ ستمبر میں اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں کروڑہا روپئے کی سرمایہ کاری کرتےہوئے کیرالاکے ایک این آر آئی نامورمسلم تاجر نے ملک کا سب سے بڑا مال قائم کیا۔اس کے آغاز کے دو، تین دن بعد ہی نوجوانوں کا ایک گروپ مال کے اندر پہنچتا ہےجنہیں نہ قبلہ کا پتہ ہوتا ہے اور نہ نماز کے طریقہ کار کا اور نہ577 نمازوں کی ادائیگی کے وقت کاپتہ ہوتا ہے۔؟

یہ گروپ دس سیکنڈ میں ہی جوجس رخ میں بیٹھاتھا اسی جانب سجدے کرکے فرار ہوجاتا ہے اور اس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردیا جاتا ہے۔بعدازاں ان شرپسندوں کو گرفتار کرلیا گیا تھا جن کا مسلمانوں سے تعلق نہیں تھا۔اس شرپسندانہ حرکت کے بعد سے ریاست اترپردیش میں عوامی اور کھلے مقامات پر تمام مذہبی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی۔

اسی دؤران سوشل میڈیا پر گذشتہ ماہ ستمبرکے اواخر میں اتر پردیش کا ایک ایسا ویڈیو وائرل کرتے ہوئے تنقید،مذمت اور حمایت کی گئی جس میں دیکھا گیا تھا کہ ایک ضعیف خاتون ہسپتال کے ایک بند اور خالی کمرے میں نماز ادا کررہی ہیں۔جس کے فوری بعد چند میڈیا گروپس نے ایسی خبروں کے ذریعہ ہلچل پیدا کردی تھی کہ الہ آباد (پریاگ راج) پولیس نے اس خاتون کے خلاف کیس درج کرلیاہے۔

بعدازاں اسی رات پریاگ راج پولیس نے باقاعدہ ایک پریس نوٹ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعہ جاری کرتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ ”وائرل ویڈیو کی تحقیقات میں پتہ چلاہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون بغیرکسی غلط ارادے کے کسی کے کام یا نقل وحرکت کو متاثر کیے بغیر،ہسپتال میں داخل اپنے مریض کی جلد صحت یابی کی دعا کررہی تھیں۔ان کا یہ عمل کسی جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔اور اس خاتون کے خلاف کیس درج کیے جانے کی اطلاعات غلط ہیں۔

ملک میں گذشتہ چند سال سے جاری ایسے حالات پر نامور شاعر افتخار عارف کا یہ مشہور شعر صادق آتا ہے ؎” 

بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں
عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی

انہی دنوں اتر پردیش سے ہی ایک خبر وائرل ہوئی کہ مغربی بنگال سے اجمیر کی درگاہ جانے والے 15 زائرین کو اتر پردیش پولیس نے اس وقت تحویل میں لیا تھا جب وہ ایک ڈھابہ پر بس کے رکنے کےبعد باجماعت نماز اداکررہےتھے۔جس کےخلاف بجرنگ دل والوں نےاحتجاج کیاتھا۔ بعدازاں ان زائرین پر جرمانہ عائد کرکے چھوڑ دیا گیاتھا۔ان مسافروں نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ اترپردیش میں عائد پابندی سے ناواقف تھے۔

گذشتہ سال ہی ماہ اکتوبر کے اواخر میں اسی اتر پردیش کا ایک اور ویڈیو سونامی کی طرح سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔یہ معاملہ ٹرین میں چار مسلمانوں کی جانب سے نماز کی ادائیگی کا تھا۔اس وقت میڈیا اطلاعات میں بتایا گیا تھا اتر پردیش کے سابق بی جے پی ایم ایل اے دیپ لال بھارتی کی جانب سے بنائی گئی اس ویڈیو میں کھڈا ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے رکنے کے بعد چار مسلمانوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔یہ واقعہ 20 اکتوبر کا تھا۔

دیپ لال بھارتی نے مزید کہاتھاکہ وہ ستیہ گرہ ایکسپریس میں سفر کررہے تھے جب انہوں نے دیگر مسافرین کا راستہ روک کر چار آدمیوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور اس کی ویڈیو لےکر سوشل میڈیا پر پوسٹ کردی۔اس وقت ریلوے پولیس نے تیقن دیا تھا کہ اس وائرل ویڈیو کی جانچ کی جائے گی یہ کون لوگ تھے۔

اس کے بعد یہ سلسلہ مدھیہ پردیش تک دراز ہوگیا جہاں دارالحکومت بھوپال کے ڈی بی مال کے عملہ کی جانب سے مال کے ایک سنسان مقام پر نماز ادا کرنے کے دوران بجرنگ دل کارکنوں کی جانب سے احتجاج، مال کے درمیان میں بیٹھ کر نعرہ بازی اورہنومان چالیسیہ پڑھنے کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔جس کے بعد اس مال میں بھی نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی گئی۔اس کے ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر خوب وائرل کیے گئے تھے۔

ملک میں ایسے بڑھتے واقعات پر سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر اور نامور غیر جانبدار آزاد صحافی بھی شدید مذمت کر رہے ہیں کہ یہ لوگ کون ہوتے ہیں جو مسلمانوں کے گھروں میں داخل ہوکر انہیں ان کی عبادت سے روکتے ہیں؟اور دھمکیاں دیتے ہیں، جبکہ دستور اور قانون نے اس ملک کے تمام شہریوں کو مساوی مذہبی آزادی کے حقوق دئیے ہیں۔

" مراد آباد کے اس واقعہ پر بے باک صحافی ہرشیتا مشرا کا یہ ویڈیو ضرور دیکھیں "

https://www.facebook.com/TimesMailToday/videos/710353497532903

یہ بھی پڑھیں ” 

الہ آباد کے ہسپتال میں خاتون کی جانب سےنماز ادا کرنا کوئی جرم نہیں، خاتون کے خلاف کیس درج کرنے کی خبریں غلط، پولیس کا بیان

اتر پردیش میں ٹرین میں نماز ادا کرنے پر تنازعہ، سابق بی جے پی رکن اسمبلی نے ویڈیو لی، ریلوے پولیس سے کی شکایت : ویڈیو وائرل

بھوپال میں ڈی بی مال کے عملہ کی جانب سے نماز کی ادائیگی پر تنازعہ،بجرنگ دل کے ارکان نے ہنومان چالیسیہ پڑھا، پولیس کی مداخلت