اتر پردیش میں ٹرین میں نماز ادا کرنے پر تنازعہ، سابق بی جے پی رکن اسمبلی نے ویڈیو لی، ریلوے پولیس سے کی شکایت : ویڈیو وائرل

اتر پردیش میں ٹرین میں نماز ادا کرنے پر تنازعہ
سابق بی جے پی رکن اسمبلی نے واقعہ کی ویڈیو لی
ریلوے پولیس تحقیقات میں مصروف : ویڈیو وائرل

لکھنؤ : 22۔اکتوبر
(سحرنیوزڈاٹ/سوشل میڈیا ڈیسک)

گزشتہ ماہ اترپردیش کے پریاگ راج(الہ آباد) کے ایک سرکاری ہسپتال میں وارڈ کے باہر مریض کے ساتھ موجود ایک مسلم خاتون کی جانب سے تنہا نماز کی ادائیگی کا ویڈیو وائرل ہواتھا۔جس کے فوری بعد چند میڈیا گروپس نے ایسی خبروں کے ذریعہ ہلچل پیدا کردی تھی کہ الہ آباد (پریاگ راج) پولیس نے اس خاتون کےخلاف کیس درج کرلیا ہے۔

بعدازاں پریاگ راج پولیس نے باقاعدہ ایک پریس نوٹ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کےذریعہ جاری کرتےہوئے وضاحت کی تھی کہ”وائرل ویڈیو کی تحقیقات میں پتہ چلاہےکہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون بغیرکسی غلط ارادے کے کسی کے کام یا نقل وحرکت کو متاثر کیے بغیر،ہسپتال میں داخل اپنے مریض کی جلد صحت یابی کی دعا کررہی تھیں۔ان کا یہ عمل کسی جرم کےزمرے میں نہیں آتا۔اوراس خاتون کے خلاف کیس درج کیے جانے کی اطلاعات غلط ہیں۔

اب اسی اترپردیش کا ایک اور ویڈیو سونامی کی طرح سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔یہ معاملہ ہے ٹرین میں چار مسلمانوں کی جانب سے نماز کی ادائیگی کا۔جس کے بعد ایک نیا تنازعہ شروع ہوگیا ہے۔اور ان مسلمانوں کا یہ عمل سوشل میڈیا پر تنقید کا موضوع بن گیا ہے۔!

میڈیا اطلاعات کے مطابق اتر پردیش کے سابق بی جے پی ایم ایل اے دیپ لال بھارتی کی جانب سے بنائی گئی اس ویڈیو میں کھڈا ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے رکنے کے بعد چار مسلمانوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔یہ واقعہ 20 اکتوبر کا ہے۔

دیپ لال بھارتی نے مزید کہا کہ وہ ستیہ گرہ ایکسپریس میں سفر کررہے تھے جب انہوں نے دیگر مسافرین کا راستہ روک کر چار آدمیوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔اتر پردیش کے سابق بی جے پی ایم ایل اے دیپ لال بھارتی نے کہا کہ میں نے یہ ویڈیو بنائی۔انہوں نے سلیپر کوچ میں نماز ادا کی جس سے تکلیف ہوئی،کیونکہ دوسرےمسافر ٹرین میں داخل یا باہر نکلنے کے قابل نہیں تھے۔انہوں نےسوال اٹھایاکہ وہ عوامی مقامات پر نماز کیسے پڑھ سکتے ہیں؟ یہ غلط تھا۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق دراصل جمعرات کی دوپہر کپتان گنج جانے والی ستیہ گرہ ایکسپریس کھڈا ریلوے اسٹیشن پر رکی تھی۔اس دوران جب لوگ ٹرین میں سوار ہونے لگے تو وہاں کامنظر دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ٹرین کی سلیپر بوگی میں چارلوگ چٹائی بچھاکر نماز پڑھ رہے تھے۔جب لوگ اپنی نشستوں کی جانب جانےلگے تو دروازے کے پاس بیٹھے ایک شخص نے انہیں اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ نماز پڑھی جا رہی ہے۔ پہلے اسے ختم ہونے دیں۔

ٹرین میں داخل ہونے کا راستہ بند ہوجانے سےمسافروں کو شدید پریشانی کاسامنا کرنا پڑا۔چند مسافر وہیں پر کھڑے راستہ دیکھتے رہے اور اپنی سیٹوں پر جانے کا انتظار کرنے لگے۔اس دوران بی جے پی کے سابق ایم ایل اے دیپ لال بھارتی بھی وہاں موجود تھے۔انہوں نے فوراً اس کی ویڈیو بنائی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس 28 سیکنڈ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ کیوں عام لوگوں کاراستہ روک کر نماز پڑھی جارہی ہے؟ ٹرین میں اس طرح نماز پڑھنا درست ہے یا غلط؟ کیا یہ دوسرے لوگوں کےحقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے؟

سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ ملک کےموجودہ حالات اور خود اترپردیش میں سادہ لوحی یا پھر ناسمجھی میں کی جانے والی ایسی حرکت مسلم مخالف طاقتوں کے لیے بہترین موقع فراہم کرنے کا باعث بنتی ہیں۔! پتہ نہیں ایسے لوگ کب ہوش کے ناخن لیں گے؟سوشل میڈیا پر خودمسلمانوں کی جانب سے ان مسافروں کی جانب سے اس طرح ٹرین میں قطار بناکر نماز ادا کرنے کو غلط بتاتےہوئے ان پر تنقید کی جارہی ہے کہ وہ اسلام اور اس کی تعلیمات کو کس طریقہ سے پیش کررہے ہیں؟ اور کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟؟

وہیں سابق چانسلر مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی(مانو)ظفر سریش والا نے بھی اس واقعہ کے ویڈیو کوٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”یہ نماز پڑھنے کا بالکل طریقہ نہیں ہے!عوامی جگہ استعمال کرنا اور لوگوں کونماز پڑھنے کےلیےمشکلات میں ڈالنا نہ صرف گناہ ہے بلکہ عبادت کا مذاق بھی ہے! مذہبی ناخواندگی جہالت کی بدترین شکل ہے۔!”

یاد رہے کہ اترپردیش حکومت کی جانب سےلکھنؤ کےایک مشہور مال میں کی گئی دس سیکنڈ میں نماز کی ادائیگی والی شرپسندانہ حرکت کے بعد سے ریاست اترپردیش میں عوامی اور کھلے مقامات پر تمام مذہبی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

وہیں ماہ اگست میں مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے ڈی بی مال کےعملہ کی جانب سے مال کےایک سنسان مقام پرنماز ادا کرنے کے دوران بجرنگ دل کارکنوں کی جانب سے احتجاج،مال کے درمیان میں بیٹھ کرنعرہ بازی اور ہنومان چالیسیہ پڑھنے کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔جس کے بعد اس مال میں بھی نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی گئی۔

جبکہ اسی ماہ مغربی بنگال سے اجمیر کی درگاہ جانے والے 15 زائرین کو اترپردیش پولیس نےاس وقت تحویل میں لیاتھا جب وہ ایک ڈھابہ پربس کے رکنے کے بعد باجماعت نماز اداکررہے تھے۔جس کے خلاف بجرنگ دل والوں نے احتجاج کیا تھا۔بعدازاں ان زائرین پر جرمانہ عائد کرکے چھوڑ دیا گیا تھا۔ان مسافروں نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ اترپردیش میں عائد پابندی سے ناواقف تھے۔

یہ معلوم نہیں ہوپایا ہے کہ نماز پڑھنے والے کون اور کہاں کے تھے؟۔اطلاعات کے مطابق اس معاملہ میں کوئی شکایت درج نہیں کروائی گئی ہے اور نہ ہی کوئی کیس درج کیا گیا ہے۔!!تاہم اس سلسلہ میں ریلوے پروٹیکشن فورس نے ازخود ویڈیو کی جانچ کرنے کا تیقن دیاہے۔ایس پی گورنمنٹ ریلوے پولیس(جی آر پی) اودیش سنگھ نےاس سلسلہ میں خبررساں ادارہ اے این آئی کوبتایاکہ وائرل ویڈیو میں کشی نگر میں چند افراد کو ٹرین میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا گیا۔”تفتیش کی جائے گی اور اس کے بعد اس معاملے میں مزید کارروائی کی جائے گی۔