مدھیہ پردیش: چاچا اپنی چار سالہ بھتیجی کی نعش کندھے پر اٹھاکر بس اسٹانڈ تک پہنچا، ایک خاندان نومولود کی نعش موٹرسیکل کے سائیڈ باکس میں لے گیا

مدھیہ پردیش: چاچا اپنی چار سالہ بھتیجی کی نعش کندھے پر اٹھاکر بس اسٹانڈ تک پہنچا
گاؤں جانے کے لیے بس کا کرایہ تک موجود نہیں تھا،ایک مسافر نے مدد کی
ایک اور خاندان نومولود کی نعش موٹرسیکل کے سائیڈ باکس میں لے گیا
سوشل میڈیا پر دلسوز ویڈیوز وائرل،ایمبولنس فراہم نہ کرنے کا الزام 

بھوپال: 20۔اکتوبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

ریاست مدھیہ پردیش جہاں گزشتہ دنوں ایم بی بی ایس کی تعلیم کا ہندی میں آغاز کیا گیا ہے سے اکثر ایسی خبریں اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر عام ہوتی ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں ایمبولنس کی فراہمی سے انکار کے بعد خانگی گاڑیوں کے کرائے اداکرنے کی طاقت نہ رکھنے والے غریب افراد اپنے رشتہ داروں کی نعشیں مختلف دل شکن طریقوں سے لے جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔یا پھر ایمبولنس میں آمد میں تاخیر کے باعث شدید زخمیوں کو جے سی بی مشین کے ذریعہ ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔!!

اب اسی مدھیہ پردیش کے دو ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ایک واقعہ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے ایک شخص بچی کی نعش اپنے کندھے پر اٹھائے ٹریفک کے درمیان مصروف سڑک پر چلتے ہوئے بس اسٹاپ پہنچ کر اپنے گاؤں لے جاتا ہے۔

اور دوسرے ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ایک نومولود بچہ کی نعش اس کےوالدین یا رشتہ داراپنی موٹرسیکل کے سائیڈ باکس( ڈکی) میں رکھ کرلےجانے پر مجبور ہوئے۔ دونوں دل شکن واقعات میں الزام عائدکیا جارہاہے کہ ہسپتالوں کے انتظامیہ نے ان نعشوں کی منتقلی کے لیے ایمبولنس فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔!!

میڈیا اطلاعات کےمطابق چھوٹی بچی کی موت اس کے گاؤں میں ہوئی تھی اور اس کی لاش کو پوسٹ مارٹم کےلیے چھتر پور کے ضلع ہسپتال بھیج دیا گیا تھا۔لیکن اس کی لاش کے ساتھ اپنے گاؤں واپس آنا اس کے چچا کے لیے ایک ہولناک تجربہ ثابت ہوا،جو پہلے ہی غمزدہ تھا۔

یہ بدقسمت چاچا اپنی بھتیجی کے مردہ جسم کو اپنی بانہوں میں لے کر،سواری کی تلاش میں بھٹکتارہا۔اسےکوئی سرکاری گاڑی نہیں ملی اور وہ خانگی گاڑی کا کرایہ ادا کرنے کامتحمل نہیں تھا۔اس لیے وہ نعش کو اٹھاکر بس اسٹینڈ تک اور وہاں سے اپنے گاؤں جانے والی بس میں سوار ہوا۔اس بدنصیب چاچا کے پاس بس کا کرایہ ادا کرنے کے پیسے بھی نہیں تھے ایک مسافرنے انسانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بس ٹکٹ کے پیسے ادا کیے۔

 

جبکہ کل اسی طرح کے ایک اور دل شکن واقعہ میں،ریاست مدھیہ پردیش کے سنگرولی ضلع میں ایک غمزدہ جوڑے کو ہسپتال کی جانب سے مبینہ طور پر ایمبولینس دینے سے انکار کرنے کے بعد اپنے مردہ بچے کو موٹر سائیکل کے سائیڈ باکس(ڈکی) میں لے جانا پڑاتھا۔

یہ جوڑا ضلع کلکٹر کے پاس مدد کی التجا کرنے پہنچا،جب بچہ کو دکھانے کےلیے کہا گیا توانہوں نے موٹرسیکل کا سائیڈ باکس کھولا اور احتیاط سے ایک پلاسٹک بیگ سےننھی لاش نکالی۔جس سےحکومت اور عہدیداروں کی بے حسی کا پردہ فاش ہوا۔ہمیشہ کی طرح اس معاملہ کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔!!

مدھیہ پردیش میں جاری ایسے معاملات میں ڈاکٹروں کے کردار کی تردید کرتےہوئےچیف میڈیکل ہیلتھ آفیسر لکھن تیواری نے کہا کہ یہ محکمہ شہری ترقی کا کام ہےکہ وہ لاشوں کی منتقلی کے انتظامات کرے۔انہوں نے کہاکہ”میں لوگوں سے درخواست کرتاہوں کہ ہسپتال اور اس کے ڈاکٹروں کو ان معاملات میں نہ گھسیٹیں۔؟!”

” حالیہ چند دنوں کے دؤران ریاست مدھیہ پردیش میں پیش آئے اور دیکھے گئے افسوسناک نظاروں کے ویڈیوز اور تفصیلات ان لنکس پر”

ماں کی نعش کو موٹرسیکل پر باندھ کر 80 کلومیٹر کا سفر، مدھیہ پردیش میں پھر ایک بار انسانیت ہوئی شرمسار، ایمبولنس فراہم کرنے سے انکار

 

کمسن بچہ، دو سالہ بھائی کی نعش لیے ڈھائی گھنٹوں تک سڑک کے کنارے بیٹھارہا، مدھیہ پردیش میں انسانیت ہوئی شرمسار

 

مدھیہ پردیش میں ایمبولنس کی آمد میں تاخیر، حادثہ میں زخمی نوجوان جے سی بی مشین کے ذریعہ ہسپتال منتقل

فرش پر بٹھاکر لڑکی کو خون چڑھایا گیا، ماں خون کی تھیلی پکڑ کر کھڑی رہی، مدھیہ پردیش میں پھر انسانیت ہوئی شرمسار