زرا ملک کے رہبروں کو بلاؤ!!
ماں کی نعش کو موٹرسیکل پر باندھ کر 80 کلومیٹر کا سفر
ہسپتال کی جانب سے ایمبولنس فراہم کرنے سے انکار
مدھیہ پردیش میں پھر ایک بار انسانیت ہوئی شرمسار
بھوپال:02۔اگست(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)
قارئین کو یاد ہوگا کہ 10 جولائی کو ریاست مدھیہ پردیش جہاں بی جے پی کی حکومت ہے کا ایک ایسا دل شکن ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہوا تھا کہ جس میں دیکھا گیا تھا کہ مدھیہ پردیش کے مورینا ڈسٹرکٹ ہسپتال کے قریب نہرو پارک کی دیوار سے ٹیک لگاکرایک 8 سالہ بھائی گلشن اپنے ڈھائی سالہ بھائی راجہ کی خون کی کمی،جگر کے عارضہ اور نمونیہ سے موت کے بعد دوگھنٹوں تک اپنی گود میں اس کی نعش رکھ کر وہیں بیٹھا رہا کیونکہ ہسپتال انتظامیہ نے ایمبولنس دینے سے انکار کردیا تھا اور ان کا باپ پوجارام جاناؤ کسی سستی سواری کا انتظام کرنے گیا تھا۔اس بچے کی نعش کو 30 کلومیٹر دور موجود ان کے گاؤں بدفرا لے جانا تھا جوکہ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال سے 450 کلومیٹر شمال میں موجودہے۔
اب اسی مدھیہ پردیش سے انسانیت کو شرمسار کرنے والا ایک ایسا ہی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک نوجوان سرکاری ہسپتال میں مرنے والی اپنی ماں کی نعش کو رسی کی مدد سے موٹرسیکل پر باندھ کر 80 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود اپنے گاؤں لے جارہا ہے۔اس نوجوان نے میڈیا کو بتایا کہ میڈیکل ہسپتال انتظامیہ نے نعش کی منتقلی کے لیے ایمبولنس دینے سے انکار کردیا تھا۔! اور معاشی مشکلات کے باعث وہ خانگی ایمبولنس حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
بھلے ہی گودی میڈیا ایسے انسانیت کو رسوا اور حکومتوں کی قلعی کھولنے والے واقعات کو چھپانے کےلیے فلم اداکار رنبیرسنگھ کی جانب سےکیے گئے برہنہ فوٹو شوٹ پر اور ہندو۔مسلم منافرت کوبڑھاوا دینے والے پروگراموں کےذریعہ گھنٹوں پرائم ٹائم کی کھڑکیوں پر دونوں جانب کےمرغوں اور لفافہ والوں کو اکساکربحث کرواتے رہیں تاکہ عوام کا دھیان اصل اور حساس معاملوں سے بھٹکایا جائے۔لیکن سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز اور غیر جانبدار میڈیا/صحافیوں کے انکشافات کے ذریعہ عوام اس سے بخوبی واقف ہوہی جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پروائرل اس دل شکن ویڈیو کی تفصیلات کےمطابق انوپ پورضلع کے موضع گوڈارو کی جیمنتری یادو کو سینے میں درد کی شکایت کے بعدضلع ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔جہاں سے اسے شاہڈول میڈیکل کالج منتقل کرنےکی صلاح دی گئی۔جہاں علاج کے دوران اس کی موت واقع ہوگئی۔
متوفیہ کے بیٹے سندر یادو نے الزام عائد کیاکہ ان کی والدہ کی موت مناسب علاج فراہم نہ کیے جانےکےباعث ہی ہوئی ہے۔انہوں نے اپنی والدہ کی موت کا ذمہ دار میڈیکل ہسپتال انتظامیہ کوٹھہرایا۔سندر یادو نے کہا کہ ہسپتال انتظامیہ نے ان کی ماں کی نعش منتقل کرنے کے لیے انہیں ایمبولنس یا مردہ گاڑی تک فراہم نہیں کی۔اور کہا گیا کہ کسی خانگی گاڑی کا کرایہ ادا کرتے ہوئے نعش کو گھر لے جایا جائے۔
بے بس اور لاچار بیٹے سندر یادو نے بتایا کہ ان کے پاس خانگی ایمبولنس کا کرایہ ادا کرنے کی رقم موجود نہیں تھی اور وہ خانگی گاڑی حاصل کرنے کےمتحمل نہیں تھے۔جنہوں نے ان کی ماں کی نعش کی منتقلی کے لیے 5,000 روپئے طلب کیے تھے۔سندر یادو نے میڈیا کو بتایا کہ”ہم نے ایک لکڑی کا تختہ خریدا،اپنی ماں کی نعش کواس سے باندھا اور اسے گھر واپس لے کر چلے گئے”۔

ٹوئٹرسمیت دیگرسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انسانیت کو شرمسار اور عوام کی غربت کا مذاق اڑانے والے ایسے دل شکن ویڈیوز اور تصاویر یقیناً ان سیاستدانوں اور بلند بانگ دعوے کرنے والی حکومتوں کے سربراہوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہیں جو ترقی اور غریب عوام کی فلاح و بہبود کےدعوے کرتے ہوئے نہیں تھکتے۔!!
ڈھائی سالہ بھائی کی نعش کے واقعہ کی تفصیلات اور ویڈیو سحر نیوز ڈاٹ کام کی اس لنک پر:-

