کمسن بچہ، دو سالہ بھائی کی نعش لیے ڈھائی گھنٹوں تک سڑک کے کنارے بیٹھارہا، مدھیہ پردیش میں انسانیت ہوئی شرمسار

مفلسوں کی زندگی کا ذکر کیا
مفلسی کی موت بھی اچھی نہیں

کمسن بچہ، دو سالہ بھائی کی نعش لیے دیڑھ گھنٹہ تک کچرے کے ڈھیر پر
سڑک کے کنارے بیٹھا رہا، مدھیہ پردیش میں انسانیت ہوئی شرمسار

بھوپال:11۔جولائی
(سحرنیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

ملک میں گزشتہ چند سال سے مذہبی جنونیوں کا غلبہ بڑھتا جارہا ہے۔مذہب کی افیون اس قدر چکھادی گئی ہے کہ سوائے اپنے دیگر مذاہب کے لوگوں سے شدید نفرت اور ان کے مذہب کی توہین کو قانونی حق مان لیا گیا ہے۔سڑکوں پر تشدد،کئی ریاستوں میں پولیس کی نااہلی یا پھر اپنے آقاؤں کےحکم پر ایمانداری کے ساتھ عمل،بلڈوزروں کے ذریعہ خون پسینہ سے بنائے گئے گھروں کو آن واحد میں زمین بوس کردینا،سڑکوں پر مذہب اور گائے کے نام پر موب لنچنگ،قتل و غارت گری کی خبریں اب تو اخبارت اور نیوز چینلوں سے بھی غائب نظر آنے لگی ہیں۔

مذہبی جذبات مجروح ہونے کے نام پرمعصوم و بے گناہ لوگوں کا قتل اس ملک میں ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے۔جبکہ انصاف کی فراہمی کے لیے اس ملک میں دستور ہے، قانون اور عدالتیں موجود ہیں۔ہر معاملہ کو مذہبی جذبات مجروح ہونے سے جوڑا جارہا ہے،پولیس میں شکایتوں کے بعدمخصوص لوگوں کی گرفتاری عروج پر ہے۔

لیکن افسوس کہ اب اس ملک کی اعلیٰ عدالت کے ججوں کو تک سوشل میڈیا پر ایک خاص گروپ بیباکی کے ساتھ نشانہ بناتے ہوئے ان کی توہین میں مصروف ہے۔اس پرحکومتوں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی خاموشی معنی خیز ہے!!

حال حال تک بھی عدالتوں کے فیصلوں اور ججوں کا احترام ہر شہری کے لیے واجب ہوا کرتا تھا اور اب بھی ہے۔اگرغلطی سے بھی کسی نے عدالتی فیصلہ پر اعتراض کردیا تو وہ توہین عدالت کا مرتکب ہوتا اور اس کی گرفتاری طئے ہوا کرتی تھی لیکن افسوس اب ایسا کچھ بھی نظر نہیں آرہا ہے!!

گستاخ رسولﷺ نوپورشرما کو سپریم کورٹ کے دو ججوں کی سرزنش کے بعد باقاعدہ سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ کو ایک نیا نام دیا گیا!! اور سرزنش کرنے والے دو ججوں کےخلاف لاکھوں کی تعداد میں ٹوئٹر پر اہانت آمیز الفاظ لکھے گئے(جسے ٹرولنگ کہا جاتا ہے)۔اس معاملہ میں اب تک نہ پولیس نے کوئی ازخود کارروائی کی،نہ عدالتوں نے اور نہ حکومتوں نے!!سوشل میڈیاکےپلیٹ فارمز مذہبی نفرت پھیلانے،مختلف شخصیتوں کی عزتوں سے کھیلنے،انہیں رسوا کرنے اور انہیں بدنام کرنے کا” اڈہ ” بن گئے ہیں جنہیں "ٹرولنگ” کا نام دیا گیا ہے۔بالخصوص ٹوئٹر اور فیس بک پر ایسی لاکھوں بے نامی آئی ڈیز موجود ہیں جو صبح سے رات تک اور رات سے صبح تک باقاعدہ اس کام میں مصروف رکھا جاتا ہے۔ 

مذہب کے نام پر لڑنے،لڑانے اور اکسانے میں رقصاں ان درندہ صفت بھیڑیوں کے” کوٹھے” اسی”سوشل میڈیا” پر گزشتہ دو دنوں سے ایک ایسی دہل دہلادینے والی تصویر وائرل ہوئی ہے جسےدیکھ کر ہر درد مند انسان کا دل روپڑتا ہے اور اس کی داستاں سن کر رؤنگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ کیسے ایک 8 سال کا معصوم لڑکا اپنے ہی 2 سال کے بھائی کی نعش جس پر چھوٹا سا سفید کپڑا ڈالا ہوا تھا کو سڑک کے کنارےکچرے کے ڈھیر پر دیڑھ گھنٹہ سے زائد تک اپنی گود میں لٹاکر ایسی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا رہا جس پر لکھا تھا "سوچھ بھارت مشن”۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس بچہ کی آنکھ میں ایک آنسو تک نظر نہیں آرہا شاید اس کے آنسو اپنی مفلسی،بے بسی ،چھوٹے بھائی کی موت اور اس طرح کے حالات کے باعث رو رو کر خشک ہوچکے تھے!!۔

مذہب کے نام پر لڑنے،مرنے اور مارنے کی دھمکیاں دینے والے بہادروں،غریب عوام کو وعدوں اور اعلانات کے ذریعہ روز بھوکاسلانےوالے حکمرانوں اور اس ملک کے ہر شہری کے منہ پر یہ تصویر ایک طمانچہ ہے اور ساتھ ہی ساری انسانیت کو اس تصویر نے مکمل طور پر برہنہ اور شرمسار کرکے رکھ دیا ہے۔

https://twitter.com/Anurag_Dwary/status/1546116285272322048

ٹوئٹر پر این ڈی ٹی وی بھوپال کے صحافئ”انوراگ دواری Anurag_Dwary@ "نے اس دل شکن ویڈیو کو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”8 سال کا بچہ اپنے دو سال کےبھائی کی لاش کو ایمبولنس والےنے 1،500 روپئے مانگے مگر غریب باپ کے پاس پیسے نہیں تھے۔آخر کوتوالی کے انسپکٹر آئے اور بچے کو گود سے اٹھایا۔لاش کی منتقلی کا انتظام کیا۔یہ تصویر بہت بھاری ہے!شہر،معاشرہ اور انتظامیہ سب کی روح مرچکی ہے”۔

اس دل دہلا دینے والے واقعہ کی تفصیلات کےمطابق ہفتہ کو مدھیہ پردیش کے مورینا گاؤں میں ایک مقامی صحافی نے یہ ویڈیو ریکارڈ کیا ہے۔جس میں 8 سالہ گلشن اپنے 2 سالہ بھائی راجہ کی لاش کے ساتھ بیٹھاہوا ہے۔مدھیہ پردیش کےدارالحکومت بھوپال سے 450 کلومیٹر شمال میں امبہ کے بدفرا گاؤں کے رہنے والے پوجارام جاٹاؤ اپنے 2 سالہ بیٹے کو جو کہ جگر،خون کی کمی اور نمونیہ کے مرض میں مبتلا تھا۔

ایک مقامی ہسپتال کی صلاح پر ایمبولنس کےذریعہ مورینا ڈسٹرکٹ ہسپتال لے کرآئے تھے۔کہ راجہ تھوڑی دیر بعد ہی دؤران علاج فوت ہوگیا۔لیکن جو ایمبولینس انہیں لے کر آئی تھی وہ پہلے ہی واپس ہوچکی تھی۔لڑکے کے باپ پوجارام جو کہ چار بچوں کا باپ،غریب اورمحدود وسائل کے آدمی ہے اپنے ساتھ اپنے ایک اور بیٹے گلشن 8 سالہ کو بھی ہسپتال لے کر آئے تھے نے ہسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے سے ان کےبیٹے نعش کو 30 کلومیٹر دور موجود ان کے گاؤں واپس لے جانے کے لیے ایمبونس فراہم کرنے کی درخواست کی۔

پوجارام کے مطابق ہسپتال کے عملہ نے ایمبولنس فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں ایمبولنس گاڑی نہیں ہے۔لہذا وہ کرایہ ادا کرکے خانگی گاڑی کا بندوبست کرلے۔

ہسپتال کے احاطے میں کھڑی ایک ایمبولینس آپریٹر نے لاش کی منتقلی کے لیے باپ سے 1,500 روپئے طلب کیے جوکہ پوجارام کے پاس نہیں تھے۔ایک بے بس و لاچار باپ پوجارام اپنے بیٹے راجہ کی نعش اور گلشن کو لے کر ہسپتال سے نکلا۔اسے کوئی گاڑی نہیں ملی۔اس کے بعد باپ نے اپنے بیٹے گلشن کو مورینا کے نہرو پارک کے سامنے چھوڑا اور یہ کہہ کر وہاں سے روانہ ہوئے کہ وہ کسی سستی سواری کا انتظام کرتے ہیں۔

جس کے بعد دیڑھ گھنٹے تک 8 سالہ گلشن اپنے مردہ 2 سالہ بھائی کی نعش کو سہلاتے ہوئے،اپنی آنکھوں سے آنسو ٹپکاتے ہوئے اور نعش پر بیٹھ رہیں مکھیوں کو اڑاتے ہوئے اپنی گود میں رکھ کر وہیں بیٹھارہا اس کی آنکھیں اپنے باپ کی واپسی کا انتظار کررہی تھیں۔

یہ منظر یکھ کر کسی نے پولیس کو اطلاع دی تو پولیس عہدیدار یوگیندر سنگھ جائے مقام پر پہنچ گئے اور راجہ کی نعش لاش اٹھائی اور گلشن کو واپس ضلع ہسپتال لے گئے جہاں باپ پوجارام اور اس کے بیٹوں کو ایک ایمبولینس فراہم کی گئی۔اس کے بعد باپ پوجارام، 8 سالہ بیٹا گلشن اور 2 سالہ راجہ کی نعش کو اپنے گاؤں منتقل کیا گیا۔ 

زرا ملک کے رہبروں کو بلاؤ 
جنہیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں ہیں؟