سری لنکا کے معاشی بحران اور مظاہروں کا سبق :شکیل رشید

سری لنکا کے معاشی بحران اور مظاہروں کا سبق

شکیل رشید 
ایڈیٹر،ممبئی اردو نیوز 

جو یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت کا حشر بھی سری لنکا جیسا ہوسکتا ہے،وہ یقیناً حقیقت کی دنیا میں نہیں رہتے ہیں۔بھارت کو سری لنکا بننے میں ابھی وقت لگےگا کیونکہ ابھی یہاں دودھ کی قیمت دو ہزار روپیے فی لیٹرنہیں ہوئی ہے اور نہ ہی غذا کی قیمتوں میں ساٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔دوائیں مل رہی ہیں،پٹرول اور ڈیزل لوگ بڑھے داموں پربھی آسانی کے ساتھ خریدرہے ہیں،انہیں لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔

بہت بڑی تعداد میں لوگ قوم پرستی کےنعروں کی دھن پررقصاں ہیں اور وکاس کی آس میں ان کی آنکھیں چمک رہی ہیں۔ابھی لوگ بھید بھاؤ اور نفرت کے حصار میں جکڑے ہوئے ہیں اور یہ جکڑ یا شکنجہ اس قدر مضبوط ہے کہ وہ نہ یہ دیکھنے کو آمادہ ہیں کہ نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد بے روزگار،فرقہ پرستی کے جنون میں مبتلا،مستقبل کے اندیشوں سے بے فکر،کہیں ماب لنچنگ کر رہی ہے تو کہیں کسی کو جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کررہی ہے۔اور نہ یہ دیکھنے کو تیار ہیں کہ وکاس جنتا کا نہیں صرف ارب پتیوں کا ہو رہا ہے۔بھارت کا خزانہ ابھی بھرا ہوا ہے خالی نہیں ہوا ہے،اور ہر آئے دن ترقی کے نئے نئے منصوبے بن رہے ہیں،امپورٹ ایکسپورٹ ابھی تھما نہیں ہے۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ سری لنکا کے حالات بھی ایسے ہی تھے۔معاشی بحران کی شروعات تو 2019 میں ہوئی ہے،ورنہ تو صدر گوٹابا راج پکشے، جو اب عوام کے پرتشدد مظاہروں کے خوف سے بھاگے ہوئے ہیں،سری لنکا کے شہریوں کو ڈیولپمنٹ کے سنہرے خواب دکھاتے اور قوم پرستی کے لیکچر دیتے پھر رہے تھے۔

یہ وہی راج پکشے ہیں جو تمل علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم ایل ٹی ٹی ای کے خاتمے کے موقع پر دفاع کےسکریٹری تھے اور عوام،بالخصوص سنہالی اکثریت انہیں سری لنکا کا ہیرو کہتی تھی۔انہیں،تمل دہشت گرد تنظیم کی بنیاد کھود کر اسے جڑ سے اکھاڑنے کے لیے الیکشن میں فاتح بنا کر انعام میں راج پاٹ سونپاگیاتھا۔باوجود اس کے کہ ان پر ایل ٹی ٹی ای سے جنگ کے دوران،جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔

راج پکشے خاندان کو لوگوں نے کس قدر سر آنکھوں سے لگایا تھا اس کا اندازہ اس سے کرلیں کہ ایک اور راج پکشے،مہندرا راج پکشے ملک کے وزیراعظم تھے۔پھر ہوا کیا،کیوں مہندرا کو استعفیٰ دینا پڑا اور گوٹابا راج پکشے کو عوام نے کھدیڑ دیا ؟

اس سوال کے پیچھے عوام کے استحصال اور ظالمانہ لوٹ پاٹ کی ایک شرم ناک کہانی چھپی ہوئی ہے۔نہیں چھپی ہوئی کہنا درست نہیں،جگ ظاہر کہانی ہے۔ ڈیولپمنٹ کے نام پر خزانے کی لوٹ،بے مقصد منصوبوں کی شروعات،کووڈ کی وبا سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کا فقدان، ایسٹر بمبنگ،کرنسی میں زبردست گراؤٹ،عالمی قرضوں کی ادائیگی میں تاخیر،سود کی رقومات اداکرنے میں ناکامی،فارین ایکسچینج ریزرو کا تقریباً خاتمہ، امپورٹ کے لیے ڈالرز میں ادائیگی کا نہ کرپانا،بہت سی غیر ملکی اشیاء کے امپورٹ پر پابندی،فرٹیلائزر کے امپورٹ پر پابندی اور پیداواری کے لیے آرگینک فارمنگ پر انحصار۔

یہ چند وجوہ سری لنکا کے معاشی بحران کی رہی ہیں۔قرض اربوں کھربوں کا لیا گیا،چین نے قرض دیا،عالمی بینکوں اور دیگرممالک سے قرض لیا گیا،قرضہ جات کی ادائیگی کے لیے بھی قرض لیا گیا،لیکن الزام ہے کہ قرض جو لیے گیے ان کی خوب لوٹ پاٹ ہوئی۔آرگنک فارمنگ کانتیجہ یہ نکلا کہ چائے کی پیداوار گھٹ گئی اور تقریباً 425 ملین ڈالر کا نقصان ہوا،چاول کی پیداوار ایسی گھٹی کہ 450 ملین ڈالر کا چاول خرید کر باہر سے منگوانا پڑا۔

کہا یہ بھی جاتا ہے کہ راج پکشے خاندان دھنا سیٹھوں کو اپنی تجوریاں بھرنے کا موقع فراہم کرتا رہا۔انڈسٹریلسٹ،بڑی بڑی صنعتوں کے مالکان راج پکشے کے دوست اور لوٹ پاٹ کے ساتھی تھے۔کورونا اور لاک ڈاؤن نے پہلے ہی کمر توڑ دی تھی۔مہنگائی آسمان بلکہ ساتویں آسمان کو چھونے لگی۔گوٹابا نے قوم پرستی کا راگ چھیڑا،وہ پہلے ہی یہ کہہ کر کہ میں تو صرف سنہالیوں کے ووٹوں سے جیت سکتا ہوں،قوم پرستی کو بڑھاوا دیتے رہے اور فرقہ پرستی کا کارڈ کھیل رہے تھے،لوگوں کی توجہ حالات سے ہٹانے کے لیے مزید زہریلی تقریریں کرنے لگے۔

مسلمان نشانہ پر آئے،کورونا کے دور میں مسلمانوں کی لاشیں جبرا جلائی جانے لگیں۔مگر جب لوگوں کو دو ہزار روپیہ لیٹر دودھ لینا پڑے اور ایک سے دو وقت کا کھانا ترک کرنا پڑے تو نہ قوم پرستی کا نعرہ اچھا لگتا ہے اور نہ وکاس کی باتیں۔

مہندرا راج پکشے کو پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں وزیراعظم کی گدی چھوڑنی پڑی اور گوٹابا کو قصر صدارت سے بھاگنا پڑا۔قصر صدارت کے آگے نوجوان اور طلبا مستقل ڈیرا ڈالے ہوئے تھے۔ان کا نعرہ تھا "گوٹابا بھاگو”۔اور انہوں نے گوٹابا کو واقعی بھگا دیا۔

نہ گرفتاریاں مظاہرین کو روک سکیں اور نہ ہی فوجی جوانوں کی سنگینیں اور پولیس کے بوٹ۔یہ عوامی طاقت ہوتی ہے۔سری لنکا کابحران سبق ہے ان حکمرانوں کے لیے جو وکاس کے کھوکھلے نعرے لگاتے اور قوم پرستی کا زہر پلاتے ہیں،صرف اس لیے کہ ان کی حکومتیں بنی رہیں اور ناکامیاں چھپی رہیں۔لیکن ایک دن وہ آتا ہے کہ اس دن کو آنا ہی جب عوام اٹھ پڑتے ہیں۔دنیا بھر کی ایسی حکومتیں اس واقعے سے سبق لیں۔