کوویڈ کی روک تھام اور کسانوں سے دھان کی خریدی میں ریاستی حکومت ناکام،کسان پریشان
وائی ایس شرمیلا کا وقارآباد ضلع کے دوما منڈل کا دؤرہ،دھان خریدی مرکز پر کسانوں سے ملاقات
وقارآباد/پرگی: 11۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام)
وائی ایس شرمیلا جو چند دنوں سے ریاست تلنگانہ کی سیاست میں سرگرم ہوگئی ہیں نے آج ضلع وقارآباد کے پرگی اسمبلی حلقہ کے دومامنڈل کے تحت موجودموضع پالے پلی کا دؤرہ کرتے ہوئے یہاں سرکاری دھان خریدی مرکز کا مشاہدہ کیا۔اور دھان فروخت کرنے کی غرض سے آئے ہوئے کسانوں سے انکے ساتھ زمین پر بیٹھ کر بات کی اور انہیں درپیش مسائل سے واقفیت حاصل کی۔

اس موقع پر کسانوں نے ان کی تباہ شدہ دھان دکھاتے ہوئے وائی ایس شرمیلا سے شکایت کی کہ دھان خریدی مراکز پر دھان خریدنے میں تاخیر کی جا رہی ہے اور بارش کے باعث ان کی دھان بھیگ رہی ہے جس میں سے کونپلیں تک پھوٹ رہی ہیں۔
جبکہ دھان خریدتے وقت مختلف وجوہات بتاتے ہوئے فی کنٹل دھان سے چار تا پانچ کلو دھان نکالی جارہی ہے۔کسانوں سے مسائل کی سماعت کے بعد وائی ایس شرمیلا نے کلسٹر انچارج دھان خریدی مراکز انجیا سے فون پر بات کی اور انہیں کسانوں کی پریشانیوں سے واقف کرواتے ہوئے سوال کیا کہ کسانوں سے دھان کب خریدی جائے گی؟
اور کب تک انہیں دھان خریدی مراکز پر بارش کے باوجود روک کر رکھا جائے گا؟ وائی ایس شرمیلا نے کہا کہ ایک ماہ سے کسان اس خریدی مرکز پر اپنا دھان فروخت کرنے کے انتظار میں ہیں اور ماہ جون کیساتھ ہی بارش کا آغاز ہوگیا ہے بارش میں دھان بھیگنے کی وجہ سے اس میں کونپلیں پھوٹ رہی ہیں۔
جس پر انجیا نے کچھ وجوہات بتائیں اور اعتراف کیا کہ چند مسائل کے باعث کسانوں سے دھان کی خریدی میں تاخیر ہورہی ہے۔
بعدازاں کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے آنجہانی وزیراعلیٰ متحدہ آندھراپردیش ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی دختر اور وزیراعلیٰ آندھرا پردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی کی ہمشیرہ وائی ایس شرمیلا نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت لاکھ دعوؤں کے باؤجود ریاست میں کوروناوائرس پر قابو پانے میں اور کسانوں سے دھان کی خریدی میں ناکام ہوگئی ہے۔

اور ریاست میں یہی دو اہم مسائل ہیں جو گزشتہ چند دنوں سے میڈیا میں زیر گشت ہیں۔وائی ایس شرمیلا نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ کے سی آر کو کسانوں کے آنسو نظر نہیں آرہے ہیں جو کہ لباس کی تبدیلی کی طرح اپنی بات تبدیل کرنے میں مشہور ہیں!
وائی ایس شرمیلا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں سے دھان کی خریدی کے عمل کو تیز کیا جائے اور ساتھ ہی کونپلوں والی دھان بھی امدادی قیمت پر ہی خریدی جائے۔
وائی ایس شرمیلا نے کہا کہ کسان بڑی محنت کے بعد فصل تیارکر کے خریدی مراکز تک لارہے ہیں لیکن مہینوں تک ان سے دھان نہیں خریدی جارہی جبکہ وزیراعلیٰ کے سی آر نے خود اعلان کیا تھا کہ کسانوں سے ایک ایک دانہ خریدا جائے گا۔
وائی ایس شرمیلا نے سوال کیا کہ 80 ہزار کتابیں پڑھنے کا دعویٰ کرنے والے وزیراعلیٰ کو معلوم نہیں ہے کہ ماہ جون کے آغاز کیساتھ ہی بارشوں کا آغاز ہوجاتا ہے۔
وائی ایس شرمیلا نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ کے سی آر مخالف کسان ہیں اور وہ کسانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں کیونکہ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا تھا کہ خریدی کے بعد اندرون 48؍گھنٹے کسانوں کے بینک اکاؤنٹ میں رقم پہنچ جائے گی لیکن ایک ماہ گزرجانے کے بعد بھی کسان اپنی فصلوں کی رقم سے محروم ہیں۔

قبل ازیں وائی ایس شرمیلا کے گاڑیوں کے قافلے کو چیوڑلہ پر پولیس نے روک دیا تھا تاہم بات چیت کے بعد انہیں پرگی کے دوما منڈل کے دؤرہ کی اجازت دی گئی۔

