اترپردیش: بی جے پی امیدوار بھوپیش چوبے نے انتخابی جلسہ میں اپنے کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کی،ایک اور موقع دینے کی اپیل

"یہ جو پبلک ہے یہ سب جانتی ہے!”
اترپردیش میں بی جے پی امیدوار بھوپیش چوبے نے انتخابی جلسہ میں
اپنے کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کی،ایک اور موقع دینے کی اپیل

لکھنئو: 23۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام)

ملک کی پانچ ریاستوں گوا،منی پور،پنجاب،اتر اکھنڈ کے علاوہ ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے مراحل جاری ہیں۔ان میں سے چند ریاستوں میں رائے دہندوں نے اپنے ووٹوں کے ذریعہ ووٹنگ مشینوں میں امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کے قسمت کے فیصلے محفوظ کردئیے ہیں۔

جبکہ ریاست پنجاب میں 20 فروری کو ایک ہی مرحلہ میں رائے دہی کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔وہیں گوا اور اتراکھنڈ اسمبلیوں کے لیے بھی 14 فروری کو رائے دہی کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔منی پور میں پہلے مرحلہ کی رائے دہی 28 فروری اور دوسرے و قطعی مرحلہ کی رائے دہی 5 مارچ کو ہونے والی ہے۔

اسی طرح ملک کی سب بڑی ریاست اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے لیے پانچ مرحلوں میں رائے دہی منعقد کرنے کا الیکشن کمیشن نے اعلان کیا تھا۔جس کی تواریخ 10 فروری،23،20،14 فروری، 3 مارچ اور 7 مارچ کو آخری مرحلوں کے تحت رائے دہی ہوگی۔

اتر پردیش میں تین مرحلوں کے لیے رائے دہی کا عمل مکمل کرلیا گیا تھا اور آج 23 فروری کو چوتھے مرحلہ کی رائے دہی کا عمل بھی پورا کرلیا گیا ہے۔

اترپردیش اسمبلی انتخابات بالخصوص مرکز اور ریاست میں برسر اقتدار بی جے پی پارٹی کے لیے کرو یا مرو جیسی صورتحال کا سامنا ہے! یہی وجہ ہے کہ اتر پردیش میں ہر قسم کے حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔اب تک کے رحجان اور چند بی جے پی کے اعلیٰ قائدین سے لے کر گودی میڈیا کی حرکتوں سے احساس ہوتا ہے کہ اتر پردیش میں بی جے پی کے لیے سب کچھ ٹھیک نہیں ہے؟! اور بہت کٹھن ہے راہ پنگھٹ کی جیسے آثار نمایاں ہیں!

بالخصوص بی جے پی قائدین اور امیدواروں کی جانب سے جہاں رائے دہندوں کو ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے وہیں چند امیدوار اپنی عزت نفس داؤ پر لگانے پر بھی تیار نظر آرہے ہیں!

سوشل میڈیا پر بی جے پی کے ایک موجودہ ایم ایل اے اور امیدوار راگھویندرا پرتاپ سنگھ کا ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے۔ویب سائٹ اسکرول Scroll کے مطابق راگھویندرا پرتاپ سنگھ نے فروری میں ڈومریا گنج میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ”اس گاؤں میں،اگر کوئی ہندو دوسروں کو ووٹ دیتا ہے،تو اس کی رگوں میں "میاں” مسلمانوں” کا خون ہے۔وہ غدار ہے۔وہ جئے چند کا کمینہ بیٹا ہے۔وہ اپنے باپ کی ناجائز اولاد ہے۔‘‘

"راگھویندر پرتاپ سنگھ کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے”

 

آج سہء پر اترپردیش کے رابرٹس گنج اسمبلی سے بی جے پی کے موجودہ رکن اسمبلی و امیدوار بھوپیش چؤبے کا ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔جنہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دؤران جلسہ عام میں حلقہ کے عوام کی ناراضگی دور کرنے کے لیے پہلے اپنے ہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگی کہ پانچ سال کے دؤران بی جے حکومت اور انہوں نے ریاست اور اس حلقہ کے لیے کچھ بھی نہیں کیا ہے لہذا انہیں معاف کردیا جائے اور انہیں دوبارہ ووٹ دے کر کامیاب بنایا جائے۔

لیکن جب بات ان کی دال گلتی ہوئی نظر نہیں آئی جلسہ میں ہجوم خاموش تماشائی بنا رہا تو 47 سالہ ” بھوپیش چؤبے” بغیر کسی ہچکچاہٹ اور پشیمانی کے اپنے دونوں کان پکڑ کر اسٹیج پر ہی اٹھک بیٹھک شروع کردی اور گزشتہ پانچ سال کے دؤران اپنی تمام غلطیوں کے لیے جلسہ میں موجود عوام سے معافی مانگنے لگے۔

” بی جے پی کے موجودہ رکن اسمبلی و امیدوار بھوپیش چؤبے کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے "

اس سے قبل رابرٹس گنج ہیڈکوارٹر میں بی جے پی کی ایک عوامی میٹنگ میں پہنچے۔اس دؤران عوام نے بی جےے پی رکن اسمبلی کے خلاف جم کر نعرے لگائے تھے۔یہی وجہ تھی کہ عوام کو راضی کرنے اور اپنے حق میں ووٹ مانگنے کے لیے بی جے پی رکن اسمبلی و امیدوار بھوپیش چوبے اسٹیج پر کھڑے ہوگئے اور اپنے دونوں ہاتھوں سے دونوں کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک شروع کردی۔

بی جے پی امیدوار کا یہ ویڈیو سوشل میڈیا کے کئی پلیٹ فارمز پر وائرل ہوا ہے اور ان کی اس مضحکہ خیزی کا سوشل میڈیا صارفین مذاق اڑارہے ہیں کہ ووٹوں کے لیے ایسے لوگ کبھی کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں!!

اب دیکھنا یہ ہوگا کہ جس دن رائے دہی ہوگی ان کے حلقہ کا ووٹر ان پر ترس کھاکر ووٹ دے گا یا ان کی پانچ سالہ بدتر کارکردگی کے خلاف ووٹ دے گا! کیونکہ ” یہ جو پبلک ہے یہ سب جانتی ہے "

” راجیش کھنہ اور ممتاز کی مشہور فلم روٹی کا یہ مکمل نغمہ یہاں پیش ہے "