ریلوے گیٹ پر ٹرین روک کر کچوریاں خریدنا مہنگا پڑگیا، ڈرائیورسمیت ریلوے کے پانچ ملازمین خدمات سے برطرف

ریلوے گیٹ پر ٹرین روک کر کچوریاں خریدنا مہنگا پڑگیا
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل،ڈرائیورسمیت پانچ ملازمین خدمات سے معطل
جئے پور/الوار : 24۔فروری(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)

زیادہ تر خانگی گاڑیوں،آٹو رکشاؤں یا دیگر سواریوں کے ڈرائیورز مختلف مقامات پر اپنی گاڑیاں روک کر مسافرین سے معذرت کا اظہارکرتے ہوئے قریب ہی موجود کسی دُکان یا فٹ پاتھ سے اپنے لیے یا اپنے گھر کے لیے ضرورت کا کوئی سامان خرید لیتے ہیں۔اور یہ عام بات ہے جس پر کسی کی جانب سے بھی زیادہ دھیان نہیں دیا جاتا۔

لیکن راجستھان کے آلور میں ایک ٹرین کو ریلوے گیٹ پر روک کر کچوریاں خریدنے کے دؤران کسی کی جانب سے اس منظر کا ویڈیو بناکر یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر وائرل کیے جانے کے بعد ٹرین کے ڈرائیور،معاون ڈرائیورسمیت جملہ پانچ ملازمین ریلوے کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑگیا۔

اس ویڈیو میں جوکہ آلور کے داؤد پور ریلوے گیٹ کا بتایا گیا ہے۔دیکھا جاسکتا ہے کہ ریلوے گیٹ بند ہے اور ٹریفک رُکی ہوئی ہے۔اسی دؤران ایک شخص اپنے ہاتھ میں کیاری بیگ لے کر ریل کی پٹریوں پر کھڑا ہوجاتا ہے۔چندسیکنڈ میں ہی ایک ٹرین اس شخص کے قریب پہنچ کر رُک جاتی ہے۔معاون ڈرائیور پٹریوں پر کھڑے ہوئے شخص سے وہ کیاری بیگ لے لیتا ہے پھر ٹرین اسٹارٹ ہوکر اس مقام سے روانہ ہوجاتی ہے۔

پچاس سیکنڈ کے اس مکمل میں ویڈیو میں ٹرین کا رُکنا اور معاون ڈرائیور کی جانب سے کیاری بیگ لینے والا منظر صرف 8 سیکنڈ پرمشتمل ہے۔قابل غور بات یہاں یہ ہے کہ اس ویڈیو کو "یوٹیوب” پر Deshi Records@ نامی یوٹیوبر نے اپ لوڈ کیا ہے جس کے صرف 19 سبسکرائبرس ہیں جبکہ اس ویڈیو کو 84،000 سے زائد افراد نے دیکھا ہے!!

جب یہ ویڈیو یوٹیوب سے ہوتے ہوئے سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمس پر وائرل ہوا تو جئے پور کے ڈویثرنل ریلوے مینجئر (ڈی آر ایم) نے اس واقعہ کی تحقیقات انجام دیں۔تو انکشاف ہوا کہ ڈرائیور اور معاون ڈرائیور نے ریلوے گیٹ پر چند سیکنڈ کے لیے ٹرین کو روک کر” کچوریوں” والا کیاری بیگ لیا تھا۔

جس کے فوری بعد ٹرین کے دو ڈرائیورس،ریلوے گیٹ پر خدمات پر مامور دو ملازمین اور مزید ایک ریلوے ملازم کو ابتدائی تحقیقات کے بعد خدمات سے معطل کردیا گیا۔ساتھ ہی ریلوے کے عہدیداروں نے کہا کہ ان کے خلاف مکمل تحقیقات کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

یہاں خاص بات یہ ہے کہ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ اس ایک ٹرین کا واقعہ نہیں ہے بلکہ داؤد پور کے اس ریلوے گیٹ پر ٹرینوں کی رفتار دھیمی کرکے یا انہیں چند سیکنڈ کے لیے روک کر ٹرین ڈرائیورس کی جانب سے روزآنہ کچوریاں خریدنا عام بات ہےاور قریب ہی موجود دُکاندار یہ کچوریاں ٹرین ڈرائیورس تک پہنچاجاتے ہیں۔

راجستھان کے ان ٹرین ڈرائیورس کی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ واقعی قابل گرفت ہے!! لیکن اس ویڈیو کے زیادہ تر ناظرین کمنٹس کررہے ہیں کہ ٹرین ڈرائیورس بھی انسان ہوتے ہیں،انہیں بھی بھوک لگتی ہے۔اور اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہوجاتا ہے کہ زیادہ تر ٹرین ڈرائیورس طویل ڈیوٹی کے دؤران غذا سے محروم رہتے ہیں۔گھر سے ٹفن کی شکل میں لائی گئی غذا میں کوئی نہ کوئی چیز کم ہوتی ہے۔یا پھر اس مقام کی کچوریاں ٹرین ڈرائیورس کو بہت زیادہ پسند ہیں! 

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ گزشتہ سال ڈسمبر میں ٹوئٹر پر پاکستان کا ایک ایسا ہی ویڈیو بہت زیادہ وائرل ہوا تھا۔جب ٹرین ڈرائیورس نے رات کے وقت” دہی Curd ” خریدنے کے لیے پوری ٹرین ہی روک دی تھی۔جس کے بعد اسسٹنٹ ڈرائیور قریب ہی موجود ایک دُکان پر جاکر دہی خرید کر لائے،ٹرین میں سوار ہوئے اور پھر ٹرین وہاں سے چل پڑی تھی۔پاکستان کے لاہور کا یہ واقعہ تھا۔انٹر سٹی ٹرین کے اس واقعہ کا ویڈیو بھی سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے کے بعد پاکستان کے وزیر ریلوے اعظم سواتی نے اس ٹرین کے ڈرائیور رانا محمد شہزاد اور اسسٹنٹ ڈرائیور افتخار حسین کو خدمات سے معطل کردیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” پاکستان کے اس ٹرین واقعہ کا ویڈیو اور تفصیلات سحر نیوز ڈاٹ کام کی اس لنک پر موجود ہے "

ٹرین روک کر دہی خرید نے والے ڈرائیور اوراسسٹنٹ ڈرائیور خدمات سےمعطل،سوشل میڈیا پر ویڈیو سونامی کی طرح ہوا وائرل