تمل ناڈو کے ایروڈ میں مجالس مقامی کے انتخابات
بی جے پی امیدوار نے صرف ایک ووٹ حاصل کیا
افرادخاندان،دوستوں اور پارٹی کارکنوں نے دھوکہ دیا: نریندرن
تمل ناڈو/ایروڈ:24۔فروری(سحر نیوز ڈاٹ کام)
مرکز اور ملک کی چند ریاستوں میں برسر اقتدار اور خود کو ناقابل تسخیر سیاسی جماعت ماننے والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کئی سال سے جنوبی ہند کی ریاستوں میں اپنے قدم جمانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زرو لگارہی ہے۔لیکن اسے کیرالا اور تمل ناڈو کے رائے دہندگان کی شدید مخالفت و مزاحمت کا سامنا ہے۔جبکہ کرناٹک میں جوڑ توڑ کے ذریعہ وہ اقتدار پر قبضہ کرچکی ہے۔وہیں آندھرا پردیش میں اس کے حامیوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جارہا ہے! جبکہ جنوب کی ہی اہم ریاست تلنگانہ میں وہ آہستہ آہستہ اپنی بنیادیں مضبوط کرنے میں لگی ہوئی ہے!!
گزشتہ دنوں تمل ناڈو کے بلدی انتخابات میں بی جے پی کے امیدوار نریندرن جنہوں نے تمل ناڈو میں منعقدہ بلدی اور پنچایت کے انتخابات میں ایروڈ کے بھوانی ساگر میں وارڈ نمبر 11 سے مقابلہ کیا تھا اور انہوں نے صرف ایک ووٹ حاصل کیا۔
جب تمام ووٹوں کی گنتی ختم ہوئی تو نریندرن کو احساس ہواکہ سوائے ان کے انہیں ان کے خاندان والوں،دوستوں اور پارٹی کارکنوں سمیت کسی نے بھی ووٹ نہیں دیا اور یہ لمحہ ان کے لیے افسردہ تھا۔
ان بلدی انتخابات میں بی جے پی امیدوار نریندرن کو ڈی ایم کے کے امیدوار نے شکست دی جنہوں نے جملہ 162 ووٹوں میں سے 84 ووٹ حاصل کیے۔
اپنی شکست اور صرف اپنا ہی ایک ووٹ حاصل کرنے والے بی جے پی امیدوار نریندرن نے کہا کہ”میرے افراد خاندان،رشتہ داروں، دوستوں اور خود بی جے پی کے پارٹی کارکنوں نے مجھے ووٹ نہیں دیا”۔انہوں نے مزید کہا کہ”سب نے جھوٹی یقین دہانی کرکے انہیں دھوکہ دیا ہے "۔
یاد رہے کہ تمل ناڈو میں 19 فروری کو 21 کارپوریشنوں،138 میونسپلٹیوں اور 489 ٹاؤن پنچایتوں کے لیے 12,500 وارڈس کے لیے انتخابات منعقد ہوئے تھے۔برسراقتدار ڈی ایم کے نے تمل ناڈو کے شہری بلدیاتی انتخابات میں غلبہ حاصل کیا۔جس کے نتائج کا اعلان منگل 22 فروری کو کیا گیا۔ڈی ایم کے نے مغربی تمل ناڈو میں کامیابی کا بہترین مظاہرہ کیا جو AIADMK کا گڑھ مانا جاتا ہے۔اس نے کوئمبتور،سیلم اور تروپور کی میونسپل کارپوریشنز میں شاندار جیت درج کروائی۔اس کے ساتھ ساتھ کوئمبتور کی سات میونسپلٹیوں میں بھی زبردست فتح حاصل کی۔

