روس کے حملے کے بعد یوکرین میں مارشل لانافذ،ایرپورٹ ،ملٹری اور ڈیفنس پر میزائل حملے،شہری علاقوں پر بھی حملوں کی اطلاعات

روس کے حملے کے بعد یوکرین میں مارشل لا نافذ،ایرپورٹ اور ڈیفنس پر میزائل حملے
امریکی صدر اور نیٹو کی مذمت،اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس
شہری علاقوں پر بھی حملوں کی اطلاعات، شہری دارالحکومت کیف خالی کرنے پر مجبور
یوکرینی فوج کی جانب سے 5 روسی طیاروں اور ایک ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ!

نئی دہلی: 24۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

روس نے یوکرین کے خلاف جنگ چھیڑدی ہے۔آج صبح جہاں سوج طلوع ہونا تھا عین اسی وقت 45-5 بجے صبح بمباری کی شکل میں شعلے بلند ہوئے! روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی کے حکم کے بعد یوکرین اور دارالحکومت کیف کے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں بمباری کی اطلاعات ہیں۔

یوکرین میں جنگ کے سائرن بجادئیے گئے ہیں۔اس خبر کے لکھے جانے تک(ڈھائی بجے دن تک) خبررساں ادارے رائٹر کی اطلاع کے مطابق یوکرین نے تصدیق کی ہے کہ روس کی شل باری سے اب تک 7 شہریوں کی موت واقع ہوچکی ہے جبکہ 9 شدید زخمی ہوئے ہیں۔

ہندوستان نے یوکرین میں مقیم اپنے طلبہ اور شہریوں کے لیے کنٹرول روم قائم کردیا ہے،ہیلپ لائن نمبرس جاری کیے ہیں اور 24 گھنٹے ایمرجنسی خدمات انجام دی جارہی ہیں۔

 

یوکرین پر روس کے حملہ کے بعد روزنامہ جنگ کے مطابق روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یوکرین کے ایئر ڈیفنس کو تباہ کردیا ہے۔جاری کردہ بیان میں روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے یوکرین کے ایئر بیسز کا انفرا اسٹرکچر ناکارہ بنا دیا ہے۔روسی وزارت دفاع نے یوکرین کے شہروں پر میزائل اور آرٹلری حملوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس یوکرین کے ملٹری انفرا اسٹرکچر،ایئر ڈیفنس اور ایئر فورسز کو نشانہ بنا رہا ہے۔

روسی حملے کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف میں دھماکے بھی سنے گئے ہیں جبکہ پورے یوکرین میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا ہے۔یوکرین کے صدر زیلنسکی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مارشل لاء کا نفاذ پورے ملک پر ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ روس نے یوکرین کے انفرا اسٹرکچر،بارڈر گارڈز پر میزائل حملے کیے ہیں۔

یوکرین کے صدر زیلنسکی نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم مضبوط ہیں،ہر چیز کے لیے تیار ہیں،ہم ہی جیتیں گے۔یوکرین پر روسی حملوں میں تیزی آ گئی ہے،تاہم اب یوکرینی فوج کی جانب سے 5 روسی طیاروں اور ایک ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔یوکرین کے اس دعوے کی روس کی جانب سے تردید کی گئی ہے۔

https://twitter.com/ChaudharyParvez/status/1496761266882244614

روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیف کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر حملہ کیا گیا ہے،جس کے بعد سول طیاروں کے لیے یوکرین کی فضائی حدود بند کر دی گئی ہے۔یوکرین سول ایوی ایشن نے تمام ایئر لائنز کے لیے فضائی حدود کی بندش کا نوٹس بھی جاری کر دیاہے غیر ملکی میڈیا کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت کیف کے علاوہ ماریوپول اور بندرگاہ بلیک سی پورٹ اڈیسہ میں بھی دھماکے سنے گئے ہیں۔

روس کی فوج کے یوکرین پر حملے اور یوکرینی دارالحکومت کیف کے ایئر پورٹ پر بم دھماکے کے بعد لوگوں نے شہر خالی کرنا شروع کر دیا۔دھماکے کے بعد کیف کے شہری شہر کے مضافاتی علاقوں میں جا رہے ہیں۔کیف سمیت یوکرین کے مشرقی شہروں میں افرا تفری کی صورتِ حال ہے۔

https://twitter.com/NewsReaderYT/status/1496739613888720896

روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی اور تنازعہ پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری ہے۔سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ انتونیو گوٹریس نے روس پر زور دیا ہے کہ پیوٹن اپنی فوج کو یوکرین پر حملے سے روکیں،صدر پیوٹن امن کا موقع دیں،پہلے ہی کئی لوگ مر چکے ہیں۔سلامتی کونسل کاہنگامی اجلاس یوکرین کی درخواست پر بلایا گیا ہے،تین روز کے دوران سلامتی کونسل کا یہ دوسرا ہنگامی اجلاس ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق روسی سفیر برائے اقوامِ متحدہ نے سلامتی کونسل کو مشرقی یوکرین پر روسی حملے سے آگاہ کر دیا۔روسی سفیر برائے اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت روس کا آپریشن درست ہے۔

وہیں یوکرین کےسفیر برائے اقوام متحدہ نے سلامتی کونسل میں بیان دیا ہے کہ روس نے جنگ کا اعلان کیا ہے،روس کو جنگ سے روکنا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے۔امریکی سفیر برائے اقوامِ متحدہ نے سلامتی کونسل میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے خلاف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج قرارداد پیش کریں گے۔

https://twitter.com/Imamofpeace/status/1496754710803456005

امریکی سفیربرائے یواین کا کہنا ہے کہ جس وقت ہم یہاں امن کے خواہاں ہیں،اسی وقت پیوٹن نے جنگ کا پیغام دیا ہے۔برطانوی سفیر برائے اقوامِ متحدہ کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ مشرقی یوکرین میں روسی فوجی کارروائی بلا اشتعال اور بلا جواز ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کا امریکا اور اتحادی متحد اور فیصلہ کن انداز میں جواب دیں گے۔امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ روسی اقدامات پر مضبوط اور متحد ردِ عمل کے لیے نیٹو سے رابطہ کریں گے، یوکرین پر روسی حملہ تباہ کن انسانی نقصان کا سبب بنے گا۔انہوں نے کہا ہے کہ یوکرین پر حملے پر دنیا روس کو جواب دہ ٹھہرائے گی،اس روسی حملے کے نتائج پر آج قوم سے خطاب کروں گا۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ نے یوکرینی علاقے پر روسی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی حملے سے شہریوں کی جانوں کو خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ نیٹو اتحادی روس کی نئی جارحیت سے نمٹنے کے لیے ملاقات کریں گے، ہم اس خوفناک وقت میں یوکرین کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔نیٹو کے سیکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیٹو تمام اتحادیوں کے تحفظ اور دفاع کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔(بشکریہ: جنگ https://jang.com.pk/news/1054377 )

وہیں روسی صدر ولادیمیر پوتین نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ پوتین نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ یہ کارروائی یوکرین کی طرف سے لاحق خطرات کے جواب میں کی جا رہی ہے۔ روس کا مقصد یوکرین کا الحاق نہیں ہے۔پوتین نے کہا کہ یوکرین کی حکومت خونریزی کی ذمہ دار ہے۔ساتھ ہی انہوں نے دوسرے ممالک کو انتباہ دیا ہے کہ روسی کارروائی میں مداخلت کی کسی بھی کوشش کے”ایسے نتائج ہوں گے جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے ہوں گے”۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق یوکرین کے کراماتوسک میں دو دھماکے ہوئے ہیں۔روسی صدر نے نیٹو کو بھی دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے یوکرین کی حمایت کی تو اسے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔روس نے کہا ہے کہ اس کا یوکرین پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
تمام فیصلے ہو چکے ہیں۔روس نے نیٹو ممالک سے کہا ہے کہ ہم تمام نتائج کے لیے تیار ہیں۔یہاں ہندوستان نے یو این ایس سی میں ایک بار پھر کہا ہے کہ اس معاملہ کو پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہئے۔

دوسری جانب یوکرین کے وزیر خارجہ دمیترو کولیبا نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”پوٹین نے ابھی یوکرین پر مکمل حملے کا آغاز کیا ہے۔ یوکرین کے پرامن شہر حملوں کی زد میں ہیں۔یہ جارحیت کی جنگ ہے۔یوکرین اپنا دفاع کرے گا اور جیت جائے گا۔دنیا پیوٹین کو روک سکتی ہے اور اسے روکنا چاہئے۔اب عمل کرنے کا وقت ہے۔

یوکرین کے وزیر خارجہ دمیترو کولیبا نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والے یوکرینی شہریوں کے نام لکھے گئے پیغام میں کہا ہے کہ”پیوٹن نے حملہ کیا،لیکن کوئی بھاگنے والا نہیں،فوج اور سفارت کار سب کام کر رہے ہیں،یوکرین کی لڑائی یوکرین اپنا دفاع کرے گا۔یوکرین جیت جائے گا۔اپنے ممالک میں پوٹین کے حملے کے بارے میں حقیقت کا اشتراک کریں اور حکومتوں سے فوری طور پر کارروائی کرنے کا مطالبہ کریں

وہیں کیتھولک فرقہ کے پوپ فرانسس نے یوکرین کے لیے 2 مارچ کو یوم دعا اور روزہ کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔آج چہارشنبہ کو عام سامعین کے درمیان پوپ فرانسس نے یوکرین میں امن کی دلی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خطرے نے” میرے دل میں بہت درد” پیدا کیا ہے۔
” گزشتہ چند ہفتوں کی سفارتی کوششوں کے باوجود پوپ نے کہا کہ” تیزی سے تشویشناک منظرنامے کھل رہے ہیں، پوری دنیا میں بہت سے لوگ غم اور درد محسوس کر رہے ہیں۔
عام سامعین اختتامی خطاب کرتے ہوئے پوپ فرانسس نے سب کو دعوت دی کہ وہ 2 مارچ کو امن کے لیے روزہ رکھنے کا دن منائیں۔