حیدرآباد: 23۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام)
ادا شدنی ٹریفک چالانات کے ساتھ اپنی گاڑیوں کو سڑکوں پر لے جانا زیادہ تر گاڑی مالکین کے لیے پریشان کیے ہوئے ہے۔ریاست میں کئی ایسی گاڑیاں ہیں جن پر ہزاروں روپیوں کے چالانات کی رقم اداشدنی ہے۔اکثر گاڑی مالکین کی شکایت ہوتی ہے کہ جب جیب میں رقم موجود نہیں ہوتی اسی وقت کہیں کسی موڑ پر یا اہم علاقہ میں پولیس کی جانب سے روک لیا جاتا ہے اور ان کی ضد ہوتی ہے کہ بقایہ شدہ چالانات کی رقم ادا کرکے ہی جاسکتے ہیں۔ایسے میں لامحالہ منت سماجت،بحث و تکرار کے بعد یہ معاملات کسی حد تک حل کرلیے جاتے ہیں۔
گزشتہ دنوں اضلاع عادل آباد اور وقارآباد میں برہم گاڑی مالکین نے اپنی گاڑیوں کو پولیس کے سامنے ہی نذرآتش کردیا تھا جن پر ہزاروں روپئے کے چالانات ادا شدنی تھے۔وہیں ایک ایسی گاڑی کے متعلق بھی اطلاع زیر گشت تھی کہ اس گاڑی پر 27 ہزار روپئے کے ٹریفک چالانات ادا شدنی ہیں جبکہ اس قدیم گاڑی کو فروخت پر بمشکل 15 تا 20 ہزار روپئے ہی حاصل ہونے کا امکان ہے!!
اب تلنگانہ پولیس بہت جلد ایسے ہی پریشان حال گاڑی مالکین کے لیے”بمپر آفر” کا اعلان کرنے جارہی ہے!!جن کی گاڑیوں پر ہزاروں روپئے کے چالانات ادا شدنی ہیں۔
ذرائع سے دستیاب اطلاعات کے مطابق تلنگانہ پولیس کی جانب سے بھاری ادا شدنی چالانات کی رقم میں غیر یقینی کٹوتی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔جسے حکومت اوراعلیٰ پولیس عہدیداروں کی جانب سے جلدمنظوری دئیے جانے کا امکان ہے!اور اس سلسلہ میں جلد ہی باقاعدہ سرکاری طورپر اعلان بھی کیا جانے والا ہے!! اور اس سلسلہ میں کمشنر سٹی پولیس حیدرآباد مسٹر سی وی آنند نے پولیس عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس بھی طلب کیا ہے!
پولیس کی جانب سے بنائےگئے اس منصوبہ کے تحت ٹووہیلر گاڑیوں Two Wheelers کے ادا شدنی چالانات کی رقم کی ایکمشت ادائیگی پر 75 فیصد چھوٹ دی جانے والی ہے۔جبکہ فور وہیلرس(کاروں) پر اداشدنی چالانات کی ادائیگی میں 50 فیصد چھوٹ دینے کامنصوبہ بنایا گیا ہے۔وہیں آرٹی سی بسوں کے لیے 30 فیصد اور ٹھیلہ بنڈیوں پر عائد کیے گئے چالانات کی ادا شدنی رقم میں 20 فیصد کی خصوصی رعایت دینے پر غور کیا جارہا ہے!
تاہم ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ”تھری وہیلرس (آٹو رکشاؤں،مال بردار گاڑیوں) پر ادا شدنی چالانات کی رقم پر کتنی رعایت دئیے جانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے؟
اطلاعات کے مطابق تلنگانہ پولیس کی جانب سے آغاز کی جانے والی اس خصوصی بمپر آفر کا آغاز یکم مارچ سے ہوگا اور 31 مارچ قطعی تاریخ ہوگی!اور ادا شدنی ٹریفک چالانات کی یہ رقم رعایت کے بعد آن لائن اور می۔سیوا سنٹرس کے ذریعہ ادا کی جاسکتی ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق صرف حیدرآباد، سائبر آباد اور راچہ کونڈا پولیس کمشنریٹ کے حدود میں گزشتہ 8 سال سے 600 کروڑ روپئے مالیتی چالانات کی رقم گاڑی مالکین سے وصول طلب ہے۔تاہم یہ واضح نہیں ہوپایا ہے کہ پوری ریاست تلنگانہ میں گاڑی مالکین سے کتنی رقم وصول طلب ہے؟اور کیا یہ آفر (رعایت) پر پوری ریاست میں عمل کیا جائے گا؟اس سلسلہ میں سرکاری اعلان کا انتظار کرنا ہوگا۔چند علاقائی نیوز چینلوں اور اردو، تلگو اور انگریزی ویب سائٹس پر بھی بناء کسی مصدقہ ذرائع کے اس انتہائی اہم خبر کو پیش کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب آج سہء پہر سے اس رعایت سے متعلق انگریزی میں تحریر کردہ ایک خبر(پیغام) بہت وائرل ہوا ہے۔اس میں لکھا گیا ہے کہ یہ رعایت صرف حیدرآباد کے تین مذکورہ بالا پولیس کمشنریٹ کے حدود میں ہی دی جائے گی!۔تاہم تلنگانہ کے محکمہ پولیس یا حیدرآباد سٹی پولیس نے اس کی تصدیق یا اس کو مسترد نہیں کیا ہے!!
بتایا جارہا ہے کہ گزشتہ دو سال سے کوویڈ کی وبا، ملازمتوں اور روزگار سے محروم ہونے والے متوسط اور غریب طبقہ کے گاڑی مالکین کے لیے ان چالانات کی بھاری رقم پریشان کیے ہوئے ہے۔

