پہلوانوں کے احتجاج سے متعلق ایک خاتون صحافی کا سوال، مرکزی وزیر میناکشی لیکھی حواسِ باختہ، بھاگ کھڑی ہوئیں

پہلوانوں کے احتجاج سے متعلق ایک خاتون صحافی کا سوال
مرکزی وزیر میناکشی لیکھی حواسِ باختہ، بھاگ کھڑی ہوئیں، ویڈیو وائرل
یونائیٹیڈ ورلڈ ریسلنگ نے پہلوانوں کے احتجاج پر بیان جاری کیا

نئی دہلی : 31/مئی
(سحر نیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

ملک میں اولمپئن پہلوانوں کے احتجاج کا مسئلہ دن بہ دن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔28 مئی کو ان کےخلاف دہلی پولیس کارروائی،طاقت کے ذریعہ ان کی گرفتاری،جنتر منتر پر 35 دنوں سے جاری ان کےاحتجاج کوختم کروانے اور پولیس کی جانب سے چیمپئنز اور دیگرمنتظمین کےخلاف تعزیرات ہند کی مختلف دفعات بشمول فسادات اور غیرقانونی اجتماع کےساتھ ساتھ عوامی املاک کونقصان پہنچانے کی روک تھام ایکٹ بھی شامل ہے۔

ان واقعات سے مایوس اور دلبرداشتہ پہلوانوں نے کل اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے سارے میڈلز دریائے گنگامیں بہادیں گے ۔اس مقصد سے کل شام وہ ہریدوار پہنچےتھے ان پہلوانوں کو کسان رہنما نریش ٹکیٹ نے ہریدوار پہنچ کر روک دیاتھا اور ان کے پاس سے تمام میڈلز حاصل کرتے ہوئے انہیں ہریانہ واپس بھیج دیا کہ وہ پانچ دن تک انتظار کریں کھاپ اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ کرے گی۔

ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے سربراہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کی فوری گرفتاری کامطالبہ کرتےہوئے یہ پہلوان 35 دنوں سے دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کر ر ہے تھے،اس معاملہ میں سپریم کورٹ کی مداخلت اور ہدایت کے بعد پولیس کی جانب سے برج بھوشن شرن سنگھ پر جنسی جرائم اور بچوں کےتحفظ POCSO# ایکٹ کےتحت مقدمہ درج کیا گیاہےتاہم ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

جبکہ نئی پارلیمنٹ کے افتتاح کےپس منظر میں کھلاڑیوں کوسڑکوں پرگھسیٹنے کی ویڈیوز اورتصاویر اس وقت سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی تھیں۔جس کی اپوزیشن جماعتوں اور سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے شدید مذمت کی تھی۔

کل شام پہلوانوں کے احتجاج اور دریائےگنگا میں میڈلز پھینک دینےکے اعلان کےبعد مرکزی مملکتی وزیر برائے امور خارجہ میناکشی لیکھی کا ایک ویڈیو سوشل میں پرتیزی کے ساتھ وائر ل ہوا ہے۔ ٹوئٹر پر باقاعدہ یہ ویڈیو اور اس پر مختلف تبصرے اور کمنٹس ٹرینڈ کررہے ہیں۔

اس ویڈیو میں جو کہ آئی نیوز چینل کی خاتون صحافی کاہے میں مرکزی وزیر میناکشی لیکھی کو تیز رفتاری سے چلتے اور پھر دوڑتےہوئے دیکھاگیاجب ان سے اس خاتون صحافی نے احتجاجی پہلوانوں کے معاملہ پر تبصرہ کرنے کو کہا جو منگل کو اپنے تمغوں کو بہانے کے لیے ہریدوار گئے تھے۔

اس ایک منٹ 24 سیکنڈ کے ویڈیو میں دیکھا جاسکتاہے کہ ایک تنہا خاتون صحافی ان پہلوانوں کے احتجاج اور میڈلز کو دریائے گنگا میں پھینک دینے کے اعلان پر ان کا ردعمل جاننا چاہتی تھیں،لیکن ان سوالوں سے بچتے ہوئے پہلے مرکزی وزیر تیز تیز چلتی ہیں صحافی کی جانب سے انہی سوالات کو دہرائے جانے کے دوران مرکزی وزیر میناکشی لیکھی بھاگنا شروع کردیتی ہیں ان کے ساتھ موجود ان کی سیکورٹی کے ارکان اور دیگر بھی بھاگتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ب

مرکزی وزیر میناکشی لیکھی اسی رفتار سے دؤڑتےہوئے چلو،چلو،چلو کہتےہوئے ” قانونی عمل جاری ہے” کہتی ہوئیں جا کر اپنی گاڑی میں بیٹھ جاتی ہیں۔بتایا جاتا ہے یہ واقعہ دہلی کا ہے۔

اس واقعہ کا ویڈیو انڈین نیشنل کانگریس کے مصدقہ ہینڈل سے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”خاتون پہلوانوں کے معاملہ میں مرکزی وزیر میناکشی لیکھی نے دیا تیکھا جواب، آپ خود یکھیں۔”

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کا شدید ردعمل دیکھا جارہا ہے اور کئی میمز بھی تیار کرتے ہوئے مرکزی وزیر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔وہیں اس خاتون صحافی کی ہمت اور حوصلہ کی سراہنا بھی کی جارہی ہے کہ گودی میڈیا کے اس دؤر میں ایسے چند باضمیر صحافی ہی ہیں جو جمہوریت کے چوتھے ستون کو صلیب کی طرح اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔!!

اس واقعہ سےقبل مرکزی وزیر میناکشی لیکھی نےچند تصاویر ٹوئٹ کرتےہوئےلکھاہے کہ ” سیوا کے 9 سال کی تکمیل کے موقع پر، ہنومان مندر، کناٹ پلیس، نئی دہلی میں ایک ٹوائلٹ کمپلیکس اور واٹر کولر عوام کے لیے وقف کیا۔”

دوسری جانب بین الاقوامی ریسلنگ باڈی ” یونائیٹڈ ورلڈ ریسلنگ UWW# "نے کل منگل کو ہندوستانی پہلوانوں کے جاری احتجاج پر ایک بیان جاری کیا ہے۔پہلوانوں کے الزامات، احتجاج اور ان کے خلاف پولیس کارروائی پر یونائیٹڈ ورلڈ ریسلنگ نے اپنے بیان میں کہاہے کہ پہلوانوں کےساتھ سلوک اورحراست کی وہ سختی سے مذمت کرتاہے۔اب تک کی تحقیقات کے نتائج کی کمی پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتا ہے۔اور یونائیٹڈ ورلڈ ریسلنگ متعلقہ حکام پر زور دیتا ہے کہ وہ الزامات کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات عمل میں لائیں۔

 

" یہ بھی پڑھیں "

احتجاجی پہلوان اپنے میڈلز دریائے گنگا میں پھینکنے ہریدوار پہنچ گئے، انڈیا گیٹ پر بھوک ہڑتال، بجرنگ پونیا، ونیش پھوگٹ اور ساکشی ملک کا اعلان