احتجاجی پہلوان اپنے میڈلز دریائے گنگا میں پھینکنے ہریدوار پہنچ گئے، انڈیا گیٹ پر بھوک ہڑتال، بجرنگ پونیا، ونیش پھوگٹ اور ساکشی ملک کا اعلان

احتجاجی پہلوان اپنے میڈلز دریائے گنگا میں پھینکنے ہریدوار پہنچ گئے
انڈیا گیٹ پر بھوک ہڑتال، بجرنگ پونیا،ونیش پھوگٹ اور ساکشی ملک کا اعلان

نئی دہلی : 30/مئی
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

دہلی پولیس کی جانب سے زبردستی حراست میں لیےجانے اور ان کےخلاف کئی مقدمات کےاندراج کے دو دن بعد مایوس اولمپئن بجرنگ پونیا، ونیش پھوگٹ اور ساکشی ملک نے اعلان کیاہےکہ وہ ان باوقار تمغوں سے دستبردار ہو جائیں گے جو انہوں نے کئی برسوں کی محنت و مشقت کے بعد ملک اور قوم کا نام روشن کرتے ہوئے جیتے ہیں۔

ان پہلوانوں نے آج کہاہےکہ وہ اپنے تمام تمغے گنگا میں بہانے کےلیے ہریدوار جارہے ہیں اور اس کےبعد دہلی کے انڈیا گیٹ پر بھوک ہڑتال (مرن برت) پر بیٹھیں گے۔اطلاع ہےکہ پہلوان ہریدوار پہنچ گئے ہیں تاہم وہاں انٹرنیٹ سرویس بند کردی گئی ہے۔؟ اور پہلوان وہاں دھرنا کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر (ٹوئٹر) پر ساکشی ملک،سنگیتا پھوگٹ، ونیش پھوگٹ اور بجرنگ پونیا نے ہندی زبان میں الگ الگ جاری کردہ اپنے بیانات میں لکھا ہے کہ” ہم سوچ رہےتھے کہ ہم نے ملک کے لیے اولمپک اور عالمی چیمپئن شپ کے تمغے کیوں جیتے؟ کیا ہم نے انہیں اس لیے جیتا کہ ملک ہمارے ساتھ اتنا برا سلوک کر سکے؟ انہوں نے پہلے ہمیں گھسیٹ لیا اور پھر ہمیں مجرم قرار دیا۔”

ان مکتوبات میں پہلوانوں نے لکھا ہے کہ ہم صدر جمہوریہ کو اپنے تمغے واپس نہیں کر سکے کیونکہ وہ ہمارے لیے آج تک نہیں بولیں۔ہم انہیں وزیر اعظم کو واپس نہیں کر سکتے جو اپنی بیٹیوں کی پرواہ نہیں کرتے۔لہٰذا ہم ان قیمتی تمغوں کومقدس دریا میں ڈبونے کےلیے ہریدوار (بنارس) جارہے ہیں،اس بیان میں کہاگیا ہے’’میڈلز پورے ملک کےلیے مقدس ہیں اور مقدس دریائے گنگا ملک کے ان مقدس اعزازات کومحفوظ رکھنے کے لیے بہترین جگہ ہے۔

ان پہلوانوں کا کہناہےکہ تمغے ان کے دل اور جان ہیں اور جب وہ انہیں دریا میں بہا دیں گے تو ان کی زندگی کا کوئی مطلب نہیں بچےگا چونکہ جینے کے لیے کچھ نہیں بچے گا اس لیے ہم اپنے تمغے گنگا میں ڈبونے کے بعددہلی کے انڈیا گیٹ پر اپنی موت کے لیے بھوک ہڑتال(مرن برت) پر بیٹھیں گے۔

دراصل ان کا یہ بیان” مہیلا مہاپنچایت” کی جانب اشارہ کرتا ہے جسے دہلی پولیس نے 28 مئی کو ناکام بنا دیا تھا۔پہلوانوں نے پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے سامنے اپنے احتجاج کے ایک حصہ کے طور پر ایک ’مہاپنچایت‘ کا منصوبہ بنایا تھا،جس کا افتتاح اسی دن وزیر اعظم نریندر مودی کرنے والے تھے۔تاہم دہلی پولیس نے اس مظاہرے کی اجازت نہیں دی اور تمام احتجاج کرنے والے پہلوانوں کو طاقت کا استعمال کرتے ہوئے حراست میں لے لیا تھا۔جس کی اپوزیشن جماعتوں اور سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے شدید مذمت کی تھی۔

نئی پارلیمنٹ کے پس منظر میں کھلاڑیوں کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی ویڈیوز اور تصاویر اس وقت سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پروائرل ہوئی تھیں۔ پولیس نے بعد میں چیمپئنز اور دیگر منتظمین کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی،جس میں تعزیرات ہند کی دفعات بشمول فسادات اور غیر قانونی اجتماع کے ساتھ ساتھ عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصان کی روک تھام ایکٹ شامل ہے۔

ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے سربراہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے، پہلوان 35 دنوں سے دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کر رہے تھے،اس معاملہ میں سپریم کورٹ کی مداخلت اور ہدایت کے بعد پولیس کی جانب سے ان پر جنسی جرائم اور بچوں کے تحفظ POCSO# ایکٹ کےتحت مقدمہ درج کیا گیاہے۔تاہم ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔جبکہ نئی پارلیمنٹ کے افتتاح کے موقع پر وہ تقریب میں نظر آئے تھے۔

اپ ڈیٹ :
احتجاجی پہلوانوں نے ہریدوار کے ہر کی پوری میں اپنے میڈل دریائےگنگا میں پھینکنے کا اپنافیصلہ آج شام اس وقت تبدیل کردیا جب اس اطلاع پر کسان رہنماء نریش ٹکیٹ وہاں پہنچ گئے اور پہلوانوں کو ان کے اس فیصلے سے باز رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔

انہوں نے پہلوانوں سے بات کرنے کےلیے 5 دن کا وقت لیاہے۔نریش ٹکیٹ نے ان پہلوانوں کے پاس سے تمام تمغوں اور مومنٹوزحاصل کرلیے۔بعدازاں ان تمام کھلاڑی کو ایک ہی گاڑی میں سوار کرواکر ہریانہ روانہ کردیا گیا۔انہوں نے مرکزی حکومت کو انتباہ دیاہے کہ اگر ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے سربراہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ برج بھوشن سنگھ کےخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو پانچ دن بعد وہ واپس ہریدوار آجائیں گے۔