فلمیں ہوں یا حقیقت بالی ووڈ ہمیشہ اہم معاملات پر خاموش رہتا ہے
مسلمانوں سے نفرت آج کل فیشن بن چکا ہے،یہ بہت جلد ختم ہوگا!!
کیا کوئی احتجاج کرنے والے پہلوانوں پر فلم بنائے گا؟ : نصیر الدین شاہ
‘
ممبئی : 31/مئی
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
نامور و تجربہ کار اداکار نصیر الدین شاہ نے کہا ہے کہ ہندی فلم انڈسٹری (بالی وووڈ) کبھی بھی اپنی آستینیں لپیٹنے اور مسائل کو سر کرنے والی نہیں تھی انہوں سوال کیا کہ کیا کوئی ملک کے دارالحکومت دہلی میں احتجاج کرنے والے پہلوانوں پر فلم بنائے گا۔؟
خبر رساں ادارہ پی ٹی آئی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کئی ایوارڈز حاصل کرنےوالے منفرد و نامور 72سالہ اداکار نصیر الدین شاہ جو بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کے سرکردہ نقاد مانے جاتے ہیں اور ماضی میں اپنے تلخ تبصروں کے لیے سوشل میڈیا پر ایک مخصوص ذہنیت کے جھنڈ کے ردعمل کا سامنا کر چکے ہیں نے کہاکہ اہم مسائل پر خاموش رہنے پر ہندی فلم انڈسٹری کے موقف کے متعلق یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
نصیر الدین شاہ جنہیں ہندوستانی سنیما میں سب سے زیادہ قابل احترام اداکاروں میں سے ایک مانا جاتا ہے نے کہا کہ نفرت کا ماحول اسے بدتر بناتا ہے،اسے مضبوط بناتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایسا ہو رہا ہے۔اس لیے ہر کوئی خوفزدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ ہندی فلم انڈسٹری کسی بھی مرحلے پر سیاسی یا سماجی طور پر خاص طور پر آگاہ تھی۔آپ کے پاس خواجہ احمد عباس اور وی شانتارام جیسے فلم ساز تھے جن کے دؤر میں بہت ترقی پسند فلمیں بھی بنائی گئیں۔
انہوں نے استفسار کیاکہ لیکن ہندی فلم انڈسٹری نے کب اپنی آستینیں لپیٹ کر ایک ایسے موضوع سے نمٹا ہے جس سے نمٹنے کے لیے پکارا جا رہا ہے؟ کیا کوئی ان پہلوان لڑکیوں پر فلم بنائے گا؟ جنہوں نے ہمیں تمغے دلائے؟ کیا کوئی فلم بنانے کی ہمت کرے گا؟ کیونکہ وہ نتائج سے خوفزدہ ہیں۔یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ ہندی فلم انڈسٹری اہم مسائل پر خاموشی اختیار کر رہی ہے اور وہ ہمیشہ ایسے ہی رہے ہیں۔
منجھے ہوئے اداکار نصیر الدین شاہ پہلوانوں کے مسلسل احتجاج کا حوالہ دے رہے تھے جنہوں نے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے سربراہ اور بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا ہے۔
یہ بتاتے ہوئے کہ فلمیں سب سے مضبوط ذریعہ ہیں کیونکہ وہ زیادہ تر لوگوں تک پہنچتی ہیں۔نصیر الدین شاہ نے کہا کہ اس وقت یہ مسلم نفرت ہے جو بہت عام ہے ان کے دعووں کی وضاحت کرتےہوئےکہ فلم انڈسٹری اہم مسائل پرخاموش رہتی ہے۔نصیرالدین شاہ نےکہاکہ میرے خیال میں وہ سب اپنے کھونے والی رقم اور ذاتی طور پر ہراساں کرنے سے خوفزدہ ہیں۔
دو دن قبل انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے بے باک مانے جانے والے سینئر اداکار نصیر الدین شاہ نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کو "چالاکی کے ساتھ "لوگوں کے ذہنوں میں بٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ فیشن بن گیا ہے اور انہوں نے تشویشناک وقت قرار دیا۔
نصیرالدین شاہ نے کہا کہ جاریہ فلموں میں مزاج اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حقیقت میں کیا ہوا ہے۔اور اسے انہوں نے اسلامو فوبیا میں بے تحاشہ اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یقینا یہ بالکل پریشان کن وقت ہیں۔اس قسم کی چیزیں جو خالص،غیر مخفی پروپیگنڈے کولپیٹ میں لے رہی ہیں اور یہ زمانےکے فکر واحساس کا غالب رحجان ہے۔انہوں نے کہاکہ مسلمانوں سےنفرت ان دنوں فیشن بن گیاہے،یہاں تک کہ پڑھے لکھے لوگوں میں بھی یہ فیشن بن کر رہ گیا ہے جسے حکمران جماعت نے بہت چالا کی کے ساتھ اس چیز کو عام لوگوں کے ذہن اور اعصاب میں گھول دیا ہے۔
نصیر الدین شاہ نے سوال کیاکہ جب ہم اس کی سیکولرازم اور جمہوریت کی بات کرتےہیں تو ہر چیز میں مذہب کو کیوں داخل کیا جارہا ہے؟ ” انہوں نے مزید کہاکہ سیاستداں مذہب کو استعمال کرکے ووٹ حاصل کررہے ہیں اور الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔اور ایسے میں اگر کوئی اللہ اکبر کے نعرہ کے ساتھ ووٹ مانگنے نکل جائے تو ہنگامہ شروع ہوجاتا ہے۔
لیکن یہاں ہمارے وزیر اعظم آگے بڑھ کر ایسی باتیں کرتے ہیں اور پھر بھی ہارجاتے ہیں۔لہذا مجھے امیدہے کہ یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا لیکن یہ یقینی طور پر اس وقت اپنے عروج پرہے۔یہ اس حکومت کی جانب سےکھیلا گیا ایک بہت ہی چالاک کارڈ رہا ہےاور اس نے کام کیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ یہ کب تک کام کرتا رہتا ہے۔نصیر الدین شاہ نے امید ظاہر کی کہ یہ بہت جلد ختم ہوجائے گا۔
نامور و سینئر فلم اداکار نصیرالدین شاہ نے گذشتہ سال جون میں کہا تھا کہ نفرت کا جو زہر ہمارے سماج میں پھیل رہا ہے اس کو روکنے کے لیے خود وزیراعظم نریندرمودی کو آگے آنا چاہئے۔بی جے پی کی سابق قومی ترجمان نوپور شرما کی جانب سے شانِ رسالتﷺ میں گستاخی کے معاملہ پر جاری احتجاج کے مسئلہ پر نصیرالدین شاہ این ڈی ٹی وی کو دئیے گئے ایک خصوصی انٹرویو کے دؤران یہ بات کہی تھی۔
اس وقت اداکار نصیرالدین شاہ نے نفرت انگیز گفتگوکےلیے نیوز چینلز کو بھی مورد الزام ٹھہراتے ہوئےکہا تھا کہ”یہاں نفرت تیار کی جاتی ہے اور یہ ایک زہر ہے جو اس وقت پھوٹتاہے جب آپ کو مخالف نظریہ کا سامنا ہوتا ہے۔اس کے لیے ٹی وی کی خبریں اور سوشل میڈیا ذمہ دار ہیں”۔



