تلنگانہ۔کرناٹک سرحد پر: چنچولی،ضلع گلبرگہ کے مواضعات میں 3.4 شدت کا زلزلہ کا جھٹکا ریکارڈ
زلزلہ کے جھٹکوں کی قومی مرکز برائے زلزلہ سائنس نے تصدیق کی
عوام گزشتہ پانچ دن سے زلزلہ کے جھٹکے اور زمین سے آنے والی عجیب و غریب آوازوں سے پریشان!
حیدرآباد؍وقارآباد: 10۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
کرناٹک کے گلبرگہ (کلبرگی)ضلع میں موجود چنچولی تعلقہ کے موضع گڑھی کیشور میں آج اتوار کی صبح 6 بج کر 5 منٹ پر زلزلہ کا شدید جھٹکا محسوس کیا گیا جس کے بعد خوفزدہ موضع کے عوام اپنے اپنے مکانات سے باہر نکل کر ادھر ادھر بھاگنے لگے۔
اس سلسلہ میں قومی مرکز برائے زلزلہ سائنس National Center for Seismology کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ اس علاقہ میں زلزلہ کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3.4 ریکارڈ کی گئی ہے۔
اور اس زلزلہ کے جھٹکے گڑھی کیشور موضع کے علاوہ اس کے قریبی مواضعات کپانور،ہل چیرہ،تیگل چٹی،بیناکلی،رائے کوڑ،بھوٹاپور، چنتاپلی، رُدنور،کوڑلی،گڑھی کیشور، ہوسلی،کوروی،بیرنلی میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔
قومی مرکز برائے زلزلہ سائنس کے مطابق اس زلزلہ کے جھٹکے کو موضع گڑھی کیشور کے دس کلومیٹر کے دائرہ میں محسوس کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ کرناٹک کا چنچولی تعلقہ،ریاست تلنگانہ کے وقارآباد ضلع کے حلقہ اسمبلی تانڈورسے 30 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے جبکہ تانڈور سے 15 کلومیٹر کے فاصلہ پر کرناٹک کی سرحد کا آغاز ہوتاہے۔
وہیں تانڈور سے زلزلہ سے متاثر مواضعات 50 کلومیڑ کے فاصلہ پر موجود ہیں۔جبکہ ان زلزلہ سے متاثرہ مواضعات سے گلبرگہ (کلبرگی) کا فاصلہ 60 کلومیٹر ہے۔
موضع ہل چیر کے ساکن محمدمحمود نے سحرنیوز ڈاٹ کام سے فون پر بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ موضع ہل چیر کے ساتھ ساتھ قریبی مواضعات کوڑلی،گڑھی کیشور،ہوسلی،کوروی ،بیرنلی، تیگل چٹی کے علاوہ کئی قریبی مواضعات میں آج صبح زلزلہ کا شدید جھٹکا محسوس کیا گیا ہے اور خوفزدہ عوام حواس باختہ ہوکر اپنے مکانات سے باہر نکل آئے۔جبکہ مکانات میں موجود مختلف اشیاء بھی بکھر گئیں۔
زلزلہ سے متاثرہ موضع ہل چیر کے ساکن محمدمحمود نے نمائندہ سحرنیوز ڈاٹ کام کو فون پر بتایا کہ آج صبح زلزلہ کے شدید جھٹکے اور زمین کے اندر سے آنے والی خوفناک آوازوں سے اب تک بھی عوام میں شدید خوف کا ماحول ہے۔
یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ زلزلہ سے متاثرہ کرناٹک کے ان تمام مواضعات میں زیادہ تر مکانات کچے اور پتھروں سے بنے ہوئے ہیں۔
محمدمحمود نے بتایا کہ اس علاقے میں گزشتہ پانچ دنوں سے زمین کے اندر سے مختلف آوازوں کے ساتھ زلزلہ کے جھٹکے محسوس کیے جارہے ہیں اور عوام زلزلہ کے خوف سے اپنے مکانات کے باہر بارش اور سرد ہواؤں میں گزارا کررہے ہیں۔اور ان مواضعات کے عوام گزشتہ چند ماہ سے وقفہ وقفہ سے زلزلہ کے جھٹکوں اور زمین سے آنے والی عجیب و غریب آوازوں سے شدید پریشان ہیں۔
اسی دؤران چنچولی کے چنداپور میں بھی آج دوپہر ڈھائی بجے زلزلہ کا جھٹکا محسوس کیے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ جاریہ سال 20 اگست کی شام ساڑھے سات بجے بھی چنچولی تعلقہ کے انہی مواضعات میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔
اُس وقت بھی ہل چیر کے ساکن محمدمحمود نے سحرنیوز ڈاٹ کام کے نمائندہ کو بتایا تھا کہ اس دن صبح سے ہی وقفہ وقفہ سے وہاں تین مرتبہ زلزلہ کے ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔
ان مواضعات کے عوام کا الزام ہے کہ اُس وقت کسی بھی محکمہ کے عہدیداروں نے ان متاثرہ مواضعات کا دؤرہ کرتے ہوئے خوفزدہ عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
اور آج صبح ریکارڈ کیے گئے زلزلہ کی شدت کے بعد بھی ان مواضعات کے خوفزدہ عوام سے کسی نے بھی ربط پیدا نہیں کیا ہے؟ اور نہ ہی عوام میں پائے جانے والے خوف کو کم کرنے کی کوشش ہی کی جارہی ہے؟!
” 20 اگست کی شام انہی علاقوں میں زلزلہ کے جھٹکے کی تفصیلی رپورٹ اس لنک کو کلک کرکے پڑھی جاسکتی ہے”

