سوشل میڈیا پر بچوں کے اغواء کی افواہیں، تانڈور میں ہجوم کے ہاتھوں ایک زنخہ کی شدید پٹائی
سمپورنا این جی او حیدرآباد کی جانب سے مذمت، پولیس میں شکایت درج، کارروائی کا مطالبہ
حیدرآباد/وقارآباد/تانڈور۔04؍مارچ
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ)
قارئین کو یاد ہوگاکہ چندسال قبل نامعلوم مفادات حاصلہ نےپورے ملک اور ریاست تلنگانہ کے واٹس ایپ گروپس میں معصوم بچوں کی نعشوں کے ساتھ ایسی افواہیں پھیلا دی تھیں کہ بچوں کا اغواء کرکے ان کا قتل کیا جا رہا ہے۔ملک اور ریاست کے کئی اضلاع، ٹاؤنس اور دیہاتوں میں اس وقت اس خوف اور اندیشات کےدؤران انجان لوگوں کی موب لنچنگ ہوئی تھی اور معصوم و بے قصور افراد بالخصوص دیگر ریاستوں سے رات کے وقت آنے والے مسافروں اور مزدوروں کی شبہ کی بنیاد پر ہجوم کے ہاتھوں پٹائی کی جاتی تھی۔
گزشتہ چند دنوں سے ایسےہی قدیم ویڈیوز اور افواہیں دوبارہ سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ پر ان دنوں بچوں کے اغواہ کی افواہیں تیزی کے ساتھ وائرل ہیں۔جس کے باعث عوام میں خوف پیدا ہوگیا ہے۔
اسی دؤران ایس پی وقارآباد ضلع نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے پانچ دن قبل ہی صحافتی بیان جاری کر تے ہوئے عوام سے اپیل کی تھی کہ ضلع میں سوشل میڈیا پر وائرل بچوں کے اغواء کی اطلاعات غلط ہیں۔انہوں نے عوام سے ان افواہوں پر یقین نہ کرنے اور ساتھ ہی شبہ کی بنیاد پر انجان اور بے قصور لوگوں پرحملے نہ کرنے اور اگر کوئی مشتبہ افراد نظر آئیں تو اس کی اطلاع فوری پولیس کو دینے کی اپیل کی تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے وقارآباد ضلع پولیس کے کنٹرول روم کا نمبر 87126 70056 اور 100 کا حؤالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ عوام ایسے واقعات کی ان نمبرات پر اطلاع دیں تو پولیس فوری کارروائی کرے گی۔
لیکن کل اتوار کی رات وقارآباد ضلع کے تانڈور ٹاؤن میں بچوں کے اغواء کے شبہ میں ایک (تیسری صنف) زنخہ کی ہجوم نے شدید پٹائی کردی اور سڑک پر دؤڑا کر بھی مار پیٹ کی۔اس سلسلہ میں عینی شاہدین کے مطابق کل رات 30-10 بجے والمیکی نگر میں دو افراد شراب نوشی میں مصروف تھے کہ انہیں ایک مخنث نظر آگیا تو انہوں نے اس کا تعاقب کیا جس کے باعث خوفزدہ زنخہ وہاں سے بھاگنے کی کوشش کررہا تھا کہ چیخ وپکار کے باعث چند افراد جمع ہوگئے اور اس زنخہ کو پکڑ لیا اور ایک مکان کے کمپاؤنڈ میں لےجاکر لکڑیوں اور ہاتھوں،پیروں سے اس کی بے دردی کے ساتھ شدید پٹائی کر دی حتیٰ کہ اس کے جسم کے اوپری حصہ کے کپڑے تک پھٹ گئے۔
کسی طرح 20، 25 افراد کے ہجوم سے خود کو بچاتے ہوئے یہ مخنث شیواجی چوک کی جانب بھاگنے لگا تو اس کا تعاقب کیا گیا اور دوبارہ اس کی بری طرح پٹائی کی گئی جس سے اس کےجسم کے مختلف حصوں پر شدید چوٹیں آئی ہیں۔اس واقعہ کے دوران وہاں موجود تین صحافیوں نے مداخلت کرتے ہوئے اس مخنث کو اپنے حصار میں لے لیا۔اسی دؤران پولیس بھی وہاں پہنچ گئی۔جب یہ اطلاع عام ہوئی تو اسی علاقہ میں موجود مزید چار زنخے وہاں پہنچ گئے اور کہا کہ عوام کے عتاب کا شکار مخنث ان کا ساتھی ہے۔
صحافیوں کی جانب سے پوچھ تاچھ پر ان زنخوں نے بتایا کہ تین زنخے چند ماہ قبل حیدرآباد سے تانڈور منتقل ہوئے تھے اور اسی علاقہ کے ایک کرایہ کے مکان میں رہنے لگے تھے۔یہ تینوں دن بھر گھوم پھر کر لوگوں سے پیسے مانگتے ہیں۔ان تین زنخوں نے بتایاکہ جب وہ تانڈور آئے تھے تب انہوں نے باقاعدہ اپنے آدھار کارڈز اور دیگر تفصیلات پیش کرتے ہوئے تانڈور پولیس کو مطلع کر دیا تھا۔
اسی دوران کل دیگر دو مخنث حیدرآباد سے ان تین زنخوں سے ملاقات کے لیئ تانڈور پہنچے تھے کہ رات ان میں سے ایک زنخہ گھومنے کی غرض سے کالونی میں نکل گیا تھا کہ دو افراد کو اس پر شک ہوا کہ کہیں یہ بچوں کے اغواء کرنے والی ٹیم کا فرد تو نہیں ہے۔؟ اسی شبہ پر اس پر حملہ کیا گیا۔بعدازاں پانچوں زنخوں کو پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا تو ان زنخوں نے پولیس سے ان پر حملہ کی شکایت کی جس کےبعد والمیکی نگر کے چند افراد نے بھی زنخوں کے خلاف شکایت درج کروائی۔اب اس سلسلہ میں پولیس تحقیقات میں مصروف ہے۔
دوسری جانب آج سمپورنا ٹی آئی این جی او Sampurna TI NGO# حیدرآباد کے عہدیداروں نے تانڈور پولیس اسٹیشن پہنچ کر کل رات تانڈور میں ایک مخنث پر بچہ چوری کے شبہ پر حملہ اور اس کو زخمی کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے احتجاج کیا۔اور مخنث پر تانڈور میں کیے گئے نامعلوم افراد کے حملہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں سخت سزاء دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک شکایت بھی درج کر وائی۔

اس این جی او کے عہدیداروں کا پولیس سے مطالبہ تھاکہ تانڈور میں موجود تینوں مخنثوں کے مکان مالک کو پابند بنایا جائے کہ انہیں مکان خالی کرنے کے لیے مجبور نہ کیا جائے،اسی طرح مخنث کی پٹائی کرنے والوں اور محلہ والوں کوپابند بنایا جائےکہ آئندہ مخنثوں کے ساتھ اس قسم کی توہین نہ کی جائے۔
ساتھ ہی انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مخنث بچوں کے اغواء یا دیگر غیر سماجی کاموں میں مصروف نہیں ہیں۔اگر عوام کو کوئی شبہ ہو تو ان پر حملے نہ کریں بلکہ انہیں پولیس کے حوالے کردیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مخنثوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ نہ کریں انہیں بھی ایک انسان کی نظر سے دیکھیں۔
سمپورنا این جی او کے اس وفد میں پراجکٹ ڈائرکٹر سمپورنا این جی او پی ڈی ریکھا،پی ایم ہری کرشنا،او،آر ڈبلیوکےعلاوہ ان کے ساتھی مخنث بھی شامل تھے۔اس سلسلہ میں سب انسپکٹر پولیس تانڈور (اربن) کاشی ناتھ نے نمائندہ سحر نیوز ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس سلسلہ میں پولیس مکمل تحقیقات میں مصروف ہے۔
: اس ویڈیو لنک کو کلک کرکے یوٹیوب پر دیکھا جاسکتا ہے "
" یہ بھی پڑھیں "
” ایس پی ضلع وقارآباد نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس کا بیان "
مہاراشٹرا : چیتا کا سر پانچ گھنٹوں تک برتن میں پھنسا رہا، محکمہ جنگلات کی ٹیم نے بچا لیا
حالات کو بدلنے کے لیے پہلے ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہوگا : مولانا محمد عبدالقوی صاحب کا خطاب
حیدرآباد ایئر پورٹ پر 6 کروڑ روپئے مالیتی 13 کلو 65 گرام سونا ضبط، تین گرفتار

