گجرات کیبل بریج حادثہ کے باوجود کرناٹک میں کیبل بریج پر کار چلانے کی کوشش

گجرات کیبل بریج حادثہ میں 147 ہلاکتوں کے باوجود
کرناٹک میں کیبل بریج پر کار چلانے کی کوشش،ویڈیو وائرل

بنگلورو: 02۔نومبر
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)

 کہیں بھی اور کسی بھی مقام پر ہونے والے خوفناک حادثات کے بعد لازمی ہوجاتا ہے کہ دیگر ریاستوں اور تمام مقامات کے عوام اس معاملہ میں محتاط ہوجائیں کہ مستقبل میں ایسا کوئی حادثہ وہاں پیش نہ آئے۔

اتوار 30 اکتوبر کو گجرات کےموربی میں 233 میٹر طویل اور 104 سالہ قدیم کیبل بریج کےاچانک ٹوٹ کرندی میں گرجانےسے 147 سے زائدافراد  ہلاک ہوگئے۔جن میں خواتین،بچے اور ضعیف افراد بھی شامل ہیں۔یہ واقعہ موربی میں گجرات کےدارالحکومت احمدآباد سے 200 کلومیٹر کےفاصلہ پر موجود مچھو ندی پر پیش آیاتھا۔

اتوار کی شام کیبل بریج کےٹوٹنے کے باعث اس پر موجود زائداز 400 افراد ندی کے پانی میں گرگئے تھے۔چندافراد نےکسی طرح جہاں خود اپنی جان بچائی وہیں،بچاؤ ٹیموں کے علاوہ وہاں موجود نوجوانوں نے بھی اپنی جان پر کھیل کرسینکڑوں افراد کو بحفاظت ندی سے نکال لیا تھا۔

یہ حادثہ ساری دنیا میں کسی بھی کیبل بریج کے ٹوٹنے اور اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے ہلاک ہونےوالا پہلا حادثہ قرار دیا جارہا ہے۔جس پر غیر ملکی حکومتیں بھی سرکاری طورپر حکومت ہند سے تعزیت کا اظہار کررہی ہیں۔

اتنے بڑے حادثے کے بعد بھی کرناٹک کا ایک ایسا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے کہ ندی پر موجود پیدل چلنے والوں کے لیےبنائے گئے کیبل بریج پر سیاحوں نے کار چلانے کی کوشش کی گئی تاہم مقامی افراد نےاس پر سخت اعتراض کرتےہوئے کار کو واپس لے جانے پر مجبور کردیا۔

صحافی ہریش اپادھیائے نے اس واقعہ کےویڈیو کو ٹوئٹ کرتےہوئے لکھاہے کہ”موربی بریج حادثہ کےبعدکوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔مہاراشٹرا کے غنڈے/سیاح کرناٹک کے شمالی ضلع کے ایلا پورہ قصبہ میں ایک جھولنے والے پل پر کار چلاتےہوئے دیکھے گئے۔آخر کارمقامی لوگوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کار کو ریورس گیئر میں بریج سے پیچھے لے جانے پر مجبور کیا گیا”۔

اس مہاراشٹرا کے نمبر پرمشتمل ماروتی 800 کار والے ویڈیو میں ان سیاحوں کی غیر ذمہ داری بھی دیکھی جاسکتی ہے کہ کار مکمل طورپر بریج میں پھنس کر چل رہی ہے۔جبکہ اس کار کےعقب میں دیگر سیاح بھی نظر آرہے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ غیر ذمہ دارانہ واقعہ شمالی کرناٹک کے ضلع ایلا پورکے سیاحتی مقام کاہے۔اس بریج کا نام شیواپور ہینگنگ بریج ہے۔جہاں مہاراشٹرا سے آئے ہوئے چند سیاحوں نے اپنی کار کو اس ہینگنگ بریج پر چلانے کی کوشش کی۔اور یہ نظارہ دیکھ کر دیگر سیاح اور مقامی افراد دنگ رہ گئے۔اور مقامی افراد نے فوری بریج کے آغاز پر ہی جاکر کار کو روکتے ہوئے کہاکہ کار کےوزن کے باعث اس ہینگنگ بریج کے ٹوٹنے کا خدشہ ہے اور اس بریج پر کار نہیں چلائی جاتی۔

اس واقعہ کاویڈیو وائرل ہونے کے بعد مقامی پولیس نے کیس درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔وہیں سوشل میڈیا پر اس ہینگنگ بریج پر کار چلانے کی کوشش کرتے ہوئے غیرذمہ دارانہ حرکت کرنےوالوں پر شدید تنقید کی جارہی ہے کہ ان لوگوں نے گجرات حادثہ سے کوئی سبق نہیں لیا ہے۔!!

" یہ بھی پڑھیں "

گجرات میں کیبل بریج سانحہ، توفیق بھائی اور حسین خان پٹھان نے بچائیں 85 جانیں، سوشل میڈیا پر ہر طرف سے ستائش

گجرات کیبل بریج سانحہ کےبعد آج اتر پردیش میں بھی چھٹ پوجا کے دوران ایک بریج ٹوٹ گیا، کیبل بریج مہلوکین کی تعداد 141 تک پہنچ گئی